<p>کرسٹل ناخٹ ("ٹوٹے ہوئے شیشوں کی رات") کے دوران یہودی دکان تباہ کردی گئی۔ برلن ، جرمنی،10 نمبر، 1938</p>

"ٹوٹے ہوئے شیشوں کی رات"

9 نومبر 1938 کی رات کو رائخ بھر میں یہودیوں کے خلاف تشدد شروع ہوگیا۔ بظاہر یہ کسی منصوبے کے تحت نہیں ہوا تھا۔ اسے ایک یہودی کم عمر نوجوان کے ہاتھوں پیرس میں ایک جرمن افسر کے قتل پر جرمنوں کے غصے کا نتیجہ ظاہر کیا گیا تھا۔ لیکن حقیقت تو یہ تھی کہ پروپیگينڈے کے جرمن وزیرجوزیف گویبلز اور دوسرے نازیوں نے پوگروموں کو بڑی احتیاط کے ساتھ منظم کیا تھا۔ دو دنوں میں 250 سے زائد یہودی عبادت گاہيں جلائی گئيں، 7000 سے زائد یہودی کاروباروں میں لوٹ مار کی گئی اور اُنہیں تباہ کر دیا گیا، درجنوں یہودیوں کو ماردیا گیا اور یہودی قبرستانوں، ہسپتالوں، اسکولوں اور گھروں کو لوٹا گیا جبکہ پولیس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں دیکھتی ہی رہیں۔ سڑکوں پر بکھرے ہوئے دکانوں کی کھڑکیوں کے شیشوں اور کرچیوں کی وجہ سے ان پوگروموں کو "کرسٹل ناخٹ" یعنی "ٹوٹے ہوئے شیشوں کی رات" کہا جانے لگا۔

پوگروموں کی بعد کی صبح جرمنی کے تیس ہزار یہودی مردوں کو یہودی ہونے کے "جرم" میں گرفتار کرکے حراستی کیمپوں میں بھیجا گیا جہاں ان میں سے سینکڑوں افراد ختم ہوگئے۔ کچھ یہودی عورتوں کو بھی گرفتار کرکے مقامی قیدخانوں میں بھیج دیا گيا۔ یہودیوں کے کاروباروں کو اس وقت تک دوبارہ کھولنے کی اجازت نہيں دی گئی جب تک کہ ان کا انتظام غیریہودیوں کے ہاتھوں میں نہ دیا گیا ہو۔ یہودیوں پر کرفیو لگا دئے گئے جن کی وجہ سے ان کے گھروں سے نکلنے کے اوقات محدود ہوگئے۔

"ٹوٹے ہوئے شیشوں کی رات" کے بعد جرمن اور آسٹرین یہودی بچوں اور نوجوانوں کی زندگی اور بھی مشکل ہوگئی۔ ان پر پہلے ہی عجائب گھروں، عوامی پارکوں اور تیراکی کے پولوں میں داخلے پر پابندیاں لگا دی گئی تھیں، اب انہيں سرکاری اسکولوں سے بھی خارج کردیا گيا۔ اپنے والدین کی طرح یہودی نوجوانوں کو بھی جرمنی میں مکمل طور پر علحدگی کا سامنا کرنا پڑا۔ مایوسی میں کئی یہودیوں نے خود کشی کرلی۔ زیادہ تر خاندانوں نے بھاگ جانے کی بھی بھرپور کوششیں کیں۔

اہم تواریخ

28 اکتوبر 1938
جرمنی نے پولینڈ کے یہودیوں کو خارج کردیا

سترہ ہزار کے قریب پولش یہودیوں کو جرمنی سے نکال کر سرحد پار کرکے پولینڈ جانے پر مجبور کردیا گيا۔ پولینڈ نے یہودیوں کو داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ بے دخل ہونے والے بیشتر افراد زباسزين کے قصبے کے قریب جرمنی اور پولینڈ کے درمیان نومینز لینڈ میں پھنس گئے۔ بے دخل ہونے والوں میں فرانس کے شہر پیرس میں رہنے والے سترہ سالہ پولیش یہودی ہرشل گرینزپین کے والدین بھی شامل تھے۔

7 نومبر 1938
پیرس میں جرمن سفارت کار کو گولی مار کر ہلاک کردیا گيا

پیرس میں رہنے والے سترہ سالہ پولش یہودی ہرشل گرینزسپین نے پیرس میں واقع جرمن سفارت خانے سے منسلک سفارت کار ارنیسٹ ووم ریتھ کو گولی ماردی۔ گرینزسپین نے بظاہر اپنے والدین کی صورت حال پر مایوس ہو کر یہ قدم اٹھایا تھا جو جرمنی اور پولینڈ کے درمیان واقع نومینزلینڈ میں دوسرے پولیش یہودی جلاوطن افراد کے ساتھ پھنسے ہوئے تھے۔ نازیوں نے اس قتل کا استعمال سام دشمن جوش اور ولولے کی آگ کو ہوا دینے کے لئے کیا اور دعویٰ کیا کہ گرینزپین اکیلا نہيں تھا بلکہ وہ جرمنی کے خلاف ایک بہت بڑی یہودی سازش کا صرف ایک حصہ تھا۔ دو دن بعد ووم ریتھ کا انتقال ہوگیا۔

9 نومبر 1938
جوزف گوئبلز نے نتیجہ خير کارروائی کا مطالبہ کیا

جرمنی کے وزیر برائے پروپیگنڈا جوزف گوئبلرز نے میونخ میں نازی پارٹی کے وفاداروں سے ایک خطاب میں نہایت جذباتی انداز میں سام دشمن خیالات پیش کئے۔ پارٹی کے ممبران 1923 میں ہونے والی نازیوں کی ناکام بغاوت کی یاد میں جمع ہوئے تھے جو ایڈولف ہٹلر کے اقتدار چھیننے کی پہلی ناکام کوشش تھی۔ تقریر کے بعد نازی افسران نے اسٹارم ٹروپروں (ایس اے) اور پارٹی کے دیگر گروپوں کو یہودیوں پر حملے کرنے اور ان کے گھر، کاروبار اور عبادت گاہوں کو تباہ و برباد کرنے کا حکم دے دیا۔ یہودیوں کے خلاف تشدد 10 نومبر کی صبح تک چلتا رہا اور یہ کارروائی کرسٹل ناخٹ یعنی "ٹوٹے ہوئے شیشوں کی رات" کے نام سے مشہور ہوگئی۔ درجنوں یہودی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ہزاروں کو گرفتار کرکے حراستی کیمپ میں بھیجا گيا۔

12 نومبر 1938
نازيوں نے یہودی برادری پر جرمانہ کیا

نازی حکومت نے جرمنی کی یہودی برادری پر ایک ارب رائخ مارک (چالیس کرو ڑ ڈالر) کا جرمانہ کر دیا۔ پوگروم کے بعد یہودیوں کو صفائی ستھرائی کرنے اور ضروری مرمتیں کرنے کا حکم دیا گيا۔ انہیں نقصانات کے لئے بیمہ میں کلیم داخل کرنے سے بھی روک دیا گيا۔ اس کے بجائے حکومت نے یہودی جائداد کے مالکان کو بیمہ کاروں کی جانب سے واجب الادا ادائيگیوں کو بھی ضبط کرلیا۔ پوگروم کے نتیجے میں یہودیوں کو جرمنی میں عوامی زندگی کے تمام شعبہ جات سے باقاعدہ طور پر علحدہ کردیا گیا۔