یہودی یورپ میں دو ہزار سال سے زائد عرصے سے رہتے آئے تھے۔ امریکی یہودی ییئر بُک نے سن 1933 میں یورپ کی مکمل یہودی آبادی 95 لاکھ کے لگ بھگ بتائی ہے۔ یہ تعداد دنیا بھر کی یہودی آبادی کے 60 فیصد کی نمائیندگی کرتی تھی جس کا تخمینہ ایک کروڑ 53 لاکھ لگایا گیا تھا۔ اکثر یہودی مشرقی یورپ میں رہتے تھے جہاں پولینڈ اور سوویت یونین میں اُن کی آبادی تقریباً 55 لاکھ تھی۔ 1933 میں نازیوں کے اقتدار میں آنے سے پہلے یورپ میں یہودیوں کی انتہائی فعال اور ترقی یافتہ ثقافت موجود تھی۔ ایک دہائی سے کچھ زائد عرصے میں یورپ کے اکثر حصوں پر نازیوں نے یلغار کر کے قبضہ لیا یا اُنہیں اپنے ملک میں ضم کر لیا۔ اس کے نتیجے میں یورپ کے اکثر یہودی یعنی ہر تین میں سے دو قتل کر دئے گئے۔
ہلڈےاور گیرٹ ورڈونر کی شادی کی تصویر چار برائیڈ میڈز سمیت۔ ان برائيڈ میڈز میں جیٹی فونٹیجن (انتہائی بائيں جانب)، لیٹی سٹیبے (دائيں سے دوسرے نمبر پر)، میئپجے سلولیزر (دائیں) اور فینی شوئن فیلڈ (پیچھے کی جانب کھڑی ہیں) بلجیم، 1933 اور 1937 کے درمیان۔
کلمان جنوبی پولینڈ کے وسط میں واقع ایک چھوٹے سے گاؤں میں غریب لیکن کٹر مذہبی یہودی والدین کے ہاں پیدا ہونے والے دس بچوں میں سب سے بڑا تھا۔ اس کے والد اپنے خاندان کی گزر بسر کیلئے کاشتکاروں سے مرغیاں، انڈے اور سبزیاں خرید کر کچھ میل دور واقع کوبس زووا مارکیٹ میں فروخت کیا کرتا تھا۔ کلمان روز صبح ایک پبلک اسکول جانا اور دوپہر کو ایک مذہبی اسکول جانے کے لئے کولبس زووا تک پیدل جایا کرتا تھا۔
1933-39: 1933 میں کلمان کو لوبلن میں واقع ایک ناموار یہودی ادارے میں داخلہ مل گیا۔ فارغ اوقات میں کلمان قواعد کی ایک پرانی کتاب سے انگریزی سیکھا کرتا تھا۔ کلمان کیلئے انگریزی ایک شوق کی صورت اختیار کر گئی اور اس نے لوگوں سے اپنے آپ کو "کلمان" کے بجائے "چارلی" پکارنے کو کہا۔ اس نے امریکہ ہجرت کرنے کی ٹھان لی اور ایک خط میں ایلینور روزویلٹ سے اپنی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے اسے ایک حوصلہ افزا جواب دیا۔ کلمان خوش قسمتی کے لئے ہمیشہ اس خط کو اپنے ساتھ رکھتا تھا۔
1940-44: کلمان 16 افراد سمیت گلاگو کے مزدور کیمب سے فرار ہو گیا جہاں انہیں جرمنوں کیلئے سڑکیں تعمیر کرنے کیلئے جبری مشقت پر مجبور کیا جاتا تھا۔ کلمان واپس کپنو چلا گیا۔ وہاں وہ ایک اناج کے گودام میں چھپا رہا۔ وہ ہر ہفتے گاؤں میں ایک جاننے والے کاشتکار سے کھانا لانے کیلئے نکلتا تھا۔ ایک رات اس کے دو یہودی دوست اس سے ملنے آئے جو کولبسزووا کے مزدور کیمپ سے فرار ہو کر جنگل میں چھپے ہوئے تھے۔ کلمان نے ان کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ کئی مہینے جنگل میں چھپا رہا اور کھانے کیلئے باقاعدگی سے گاؤں جایا کرتا تھا۔
ایک بار کپنو جاتے وقت کلمان پر کچھ پولش نژاد افراد نے، جو اس کے پڑوسی ہوا کرتے تھے، چھپ کر حملہ کر دیا۔ جنگل کے ایک دوست کو کلمان ایسی حالت میں ملا کہ اُس کے سینے میں ایک ترنگل گھونپا ہوا تھا۔ کلمان اگلے دن مر گیا۔
کورنیلیا کو نیلی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہ ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ میں رہنے والے یہودی والدین کی دو بیٹوں میں بڑی تھی۔ اس کے والد نے ہنگری کی فوج کی طرف سے پہلی جنگ عظیم میں حصہ لیا تھا۔ کورنیلیا نے سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کی اور بعد میں اُس نے صابن کی فیکٹری میں بک کیپر کی حیثیت سے کام کیا۔ 1928 میں اس نے مکساڈيوش کے ساتھ شادی کی جو ایک بزنس مین تھا اور دیا سلائی بیچتا تھا۔
1933-39: کورنیلیا کا شوہر مذہبی تھا اور اُن کے تینوں بچوں نے یہودی اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔ مکسا اور اس کا بھائی ہنگری میں سویڈن کی بنی ہوئی دیا سلائی کے واحد تقسیم کنندگان تھے اور ان کا کاروبار خوب پھلا پھولا۔ مئی 1939 میں ہنگری کی حکومت نے کسی کاروبار میں ملازمت کرنے والے یہودیوں کی تعداد کم کرنی شروع کی اور ڈیوش کو کچھ یہودی ملازمین کو کام سے نکالنے پر مجبور کر دیا۔
1940-44: 1940 میں مکسا کو ہنگری کی فوج میں جبری طور پر بھرتی کیا گیا۔ بعد میں اس کو اپنے خاندانی کاروبار کا کنٹرول ہنگری کے وزیر اعظم کے بھائی کو دینے پر مجبور کر دیا گیا۔ مارچ 1944 میں جب جرمنی نے بوڈاپیسٹ پر قبضہ کیا تو یہودیوں کو یہودی ستارے کا نشان لگے ہوئے گھروں میں منتقل ہونے کا حکم دیا گیا۔ اکتوبر 1944 میں ہنگری کے فاشستوں نے ان گھروں سے یہودیوں کو جمع کرنا شروع کر دیا۔ کورنیلیا کوسوئس سفارت خانے کے ذریعے ایک یتیم خانے میں ملازمت ملی۔ مگر 15 نومبر کو اس سے پہلے کہ وہ ملازت شروع کرتی، اسے گرفتار کر لیا گیا۔
کورنیلیا قید سے فرار ہو گئی مگر وہ دوبارہ پکڑی گئی اور اسے ریونزبروئک حراستی کیمپ میں جلاوطن کر دیا گیا جہاں وہ اتنقال کر گئی۔ اس کے تین بچے جنگ سے زندہ بچ گئے۔
بینجمن، جسے دوست احباب "بینو" کہ کر پکارتے تھے، ایمسٹرڈیم میں ایک مذہبی یہودی خاندان میں پلا بڑھا۔ بینو کے والد جو ہیروں کے ایک کامیاب صنعت کار تھے، ایمسٹرڈیم کی یہودی کمیٹی کے سربراہ بھی بھے۔ بینو کی دو چھوٹی بہنیں تھیں اور اسے ڈاک کے ٹکٹ جمع کرنے کا شوق تھا۔
1933-39: ایک ڈپارٹمنٹ اسٹور میں کام کا کچھ تجربہ حاصل کرنے کے بعد بینو اپنے والد کے ساتھ ہیروں کے کاروبار میں شامل ہو گیا۔ بینو یہودی قانون پر سختی سے کاربند تھا۔ اس کو ٹینس اور اسکینگ کرنے کا شوق تھا۔ 1938 میں سوٹزرلينڈ میں اسکینگ کے دوران ایک لڑکی سے اس کی ملاقات ہوئی اور اس سے پیار ہو گیا۔ اس امر سے باشعور ہوتے ہوئے کہ یورپ میں یہودیوں کے حالات بگڑتے جارہے ہیں، 1939 میں اس کی محبوبہ کا خاندان نیدرلینڈ چھوڑ کر امریکہ جا بسا۔
1940-41: بینو کی محبوبہ نیدرلینڈ لوٹ گئی اور اکتوبر 1940 میں ان کی شادی ہو گئی۔ نوبیاہتا جوڑے نے فلسطین میں زرعی کام کی تربیت حاصل کرنے والے ایک یہودی پناہ گزین کو اپنے گھر میں پناہ دی۔ 11 جون 1941 کو گسٹاپو نے اس پناہ گزین کی تلاش میں بینو کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک جرمن کے قتل کے بدلے میں نازی بیرونی یہودیوں کی پکڑ دھکڑ کر رہے تھے۔ جب بینو نے دروازہ کھولا تو اس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ بھی یہودی تھا۔ بینو نے ہاں میں حواب دیا اور نازی نے کہا "تو تم بھی ساتھ آؤ گے۔"
بینو کو جلاوطن کر کے نیدرلینڈ میں شورل کے جبری مشقت کے کیمپ میں بھیجا گيا اور پھر اس کے بعد آسٹریا میں ماؤتھوسن کے حراستی کیمپ میں بھیج دیا گیا جہاں بائيس سال کی عمر میں اس کی موت واقع ہو گئی۔
1933 میں جرمنی میں نازیوں کے اقتدار میں آنے کے وقت یہودی یورپ کے ہر ملک میں رہ رہے تھے۔ ان ممالک میں نوے لاکھ کے قریب یہودی رہتے تھے جن پر دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی کا قبضہ ہونے والا تھا۔ جنگ کے اختتام تک ان میں سے ہر تین یہودیوں میں سے دو کی موت واقع ہونے والی تھی اور یورپ میں یہودیوں کی زندگی ہمیشہ کے لئے تبدیل ہونے والی تھی۔
1933 میں یہودیوں کی سب سے بڑی تعداد مشرقی یورپ میں پائی جاتی تھی جس میں پولینڈ، سوویت یونین، ہنگری اور پولینڈ شامل تھے۔ مشرقی یورپ کے یہودی ایسے قصبوں یا دیہات میں رہا کرتے تھے جن کی بیشتر آبادی یہودیوں پر مشتمل تھی۔ ان کو شٹیٹلز کہا جاتا تھا۔ مشرقی یورپ کے یہودی اکثریتی ثقافت میں ایک اقلیت کے طور پر اپنی علیحدہ زندگی گزارتے تھے۔ ان کی اپنی یدش زبان تھی جس میں جرمن اور عبرانی زبانوں کے عناصر شامل تھے۔ وہ یدش کتابیں پڑھتے تھے اور یدش سنیما اور فلمیں دیکھا کرتے تھے۔ بڑے قصبوں میں نوجوان یہودی جدید طریقے اور لباس اپنا رہے تھے لیکن بڑی عمر کے لوگ روایتی لباس پہنتے تھے۔ مرد ٹوپیاں پہنتے تھے اور عورتیں رومال یا وگ سے سر ڈھانپتی تھیں۔
اس کے برعکس جرمنی، فرانس، اٹلی، نیدر لینڈ اور بیلجیم جیسے مشرقی یورپ کے ممالک کی آبادی میں یہودیوں کی تعداد کافی کم تھی اور وہ اپنے غیریہودی پڑوسیوں کی ثقافت اپناتے تھے۔ وہ اپنے ہم وطنوں کا لباس پہنتے تھے اور ان کی زبان بولتے تھے۔ ان کی زندگیوں میں مذہبی روایات اور یدش ثقافت کا کردار اتنا اہم نہيں تھا۔ وہ مشرقی یورپ کے یہودیوں کے مقابلے میں زیادہ تعلیم یافتہ تھے اور قصبوں یا شہروں میں رہتے تھے۔
یہودی زندگی کے ہر شعبے میں پائے جاتے تھے۔ وہ کاشت کار، درزی یا درزن، فیکٹری میں مزدور، اکاؤنٹینٹ، ڈاکٹر، استاد اور چھوٹے کاروباروں کے مالک تھے۔ کچھ خاندان امیر تھے؛ ان سے کہیں زیادہ لوگ غریب تھے۔ کئی بچے پڑھائی جلدی ختم کرکے کسی پیشے میں لگ جاتے تھے۔ دوسرے یونیورسٹی جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھتے تھے۔ اپنے تمام اختلافات کے باوجود وہ ایک لحاظ سے بالکل یکساں تھے: 1930 کی دہائی تک جرمنی میں نازیوں کے اقتدار کے عراج کے ساتھ وہ سب ہی ممکنہ ہدف بن گئے اور ان کی زندگیاں ہمیشہ کے لئے بدل گئيں۔
We would like to thank Crown Family Philanthropies, Abe and Ida Cooper Foundation, the Claims Conference, EVZ, and BMF for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia.
View the list of all donors.