ذاتی تاریخ

ڈیلیس پیٹن ڈاخاؤ کی آزادی کے بارے میں اپنی یادوں کا تذکرہ کرتے ہیں

ٹوسون، ایری زونا کے ڈیلیس پیٹن 70 ویں پیدل فوج کے ایک رکن تھے۔ 1945 میں آزاد کرانے والے دوسرے فوجیوں کے ساتھ وہ بھی ڈاخو کیمپ میں داخل ہوئے جہاں اُنہیں بچے ہوئے لوگوں اور اس قتل و غارت کے شواہد کا سامنا ہوا۔

مکمل نقل

سب سے زیادہ خوفناک چیز جس کا میں نے وہاں مشاہدہ کیا وہ یہ ہے کہ وہ ذھنی طور پر مفلوج ہوچکے تھے، میں اپنی ذاتی یاداشت سے اندازہ لگا رہا ہوں کہ مجھے بہت زیادہ تفصیلات سے یاد نہیں ہے۔ مجھے ایک دو منظر بہت ہی واضح طور پر یاد ہیں۔ پہلا یہ کہ جب ہم وہاں پہنچ رہے تھے تو ہم نے قیدیوں سے بھری ہوئی گاڑی دیکھی۔ قریب پہنچنے پر معلوم ہوا کہ وہ قیدی نہیں تھے بلکہ اس ریل گاڑی میں مردہ لاشیں تھیں جو بوخن والڈ سے ڈاخو بھیجی گئی تھیں، میرا اندازہ ہے کہ یہ لاشیں بھٹیوں میں جلانے کیلئے وہاں لائی گئی تھیں۔ یہ میرا اندازہ ہے۔ دوسرا منظر جو مجھے یاد ہے وہ کیمپ کے میدان ہیں۔ میں نے زندہ چلتے ہوئے ہڈیوں کے ڈھانچوں میں سے دو کو ایک دوسرے کی طرف پیر رگڑ کر چلتے ہوئے دیکھا۔ وہ ایک دوسرے کے قریب چند گز کے فاصلے تک آئے پھر رک گئے، ایک دوسرے کو گھور کر دیکھا اور پھر وہ دوڑے اور ایک دوسرے سے لپٹنے کی کوشش کی۔ وہ یا تو رشتہ دار تھے یا پھر بہت قریبی دوست۔ اس لمحے تک اُن میں سے کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ لوگ ابھی تک زندہ ہیں حالانکہ وہ خدا معلوم کتنے وقت سے ایک ہی قید خانے میں تھے۔ یہ دو مناظر مجھے بہت ہی اچھی طرح سے یاد ہیں لیکن دوسرے بہت سے واقعات مجھے اب یاد نہیں ہیں۔


یہ صفحہ مندرجہ ذیل مقامات پر بھی دستیاب ہے:

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.