ذاتی تاریخ

لوسین ہورن لوبلن پر جرمن قبصے کا حال بیان کرتی ہیں

لوسین، لوبلن میں ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئی۔ اس کے والد۔عدالتی ترجمان تھے اور اس کی والدہ ڈینٹسٹ تھیں۔ یکم ستمبر 1939 کو جنگ کا آغاز پولینڈ پر جرمنی کے حملے سے ہوا۔ اس کے کچھ عرصے کے بعد لوسین کے گھر پر جرمن حکام نے چھاپہ مارا۔ لوبلن پر جرمنی کے قبضے کے فوراً بعد یہودیوں کو زبردستی ایک بیج پہننے پر مجبور کر دیا گیا جو ان کی یہودی شناخت ظاہر کرے۔ جنوری 1942 میں لوبلن میں موجود ایک یہودی بستی کو بند کر دیا گیا۔ اس سال مارچ اور اپریل میں لوسین ہلاکت کے متعدد اقدامات اور یہودی بستی سے جلا وطنی کے خطرے سے زندہ بچ گئی۔ جن لوگوں کے پاس باضابطہ مزدوری کارڈ تھے، اُنہیں اپریل 1942 میں ایک نئی یہودی بستی میں منتقل کر دیا گیا۔ یہ مجدان تاتارسکی یہودی بستی تھی جو ماجدانک قتل گاہ کے قریب واقع تھی ۔ نومبر 1942 میں لوسین مجدان تاتارسکی سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ اس ہی مہینے میں جرمنوں نے یہودی بستی کو بند کر دیا تھا۔ بالآخر وہ وارسا پہنچنے میں کامیاب ہو گئی جہاں وہ پہلے یہودی بستی میں داخل ہوئی اور "اریان" کی جانب چھپی رہی۔

مکمل نقل

میں نے پاگل جرمنوں کو شہر کے ہر کونے میں ادھر اُدھر بھاگتے ہوئے دیکھا۔ وہ گرفت میں آنے والی ہر چیز اٹھا کر لے جاتے تھے۔ ہمارے گھر میں اس قسم کے جرمنوں کا ایک گروہ آیا تھا۔ انہوں نے میری والدہ کی انگوٹھی، گھڑی اور ان کے ہاتھ میں سجے ہوئے زیورات کھینچ لئے اور ہماری سب چیزیں لے گئے۔ جو کچھ ہمارے پاس تھا، سب لے گئے، ہمارے چینی کے برتن توڑے اور ہماری مار پیٹ کر کے باہر بھاگ گئے۔


  • US Holocaust Memorial Museum Collection
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

یہ صفحہ مندرجہ ذیل مقامات پر بھی دستیاب ہے:

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.