ذاتی تاریخ

رینے اسلاٹکن جنگ کے بعد کوسیٹز کے ایک اسکول میں سام دشمنی کا سامنا کرنے کے بارے میں بتاتے ہیں

رینے اور اُن کی جڑواں بہن آئرین رینے اور رینیٹا گوٹمین خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان جڑواں بچوں کی پیدائش کے کچھ ہی دیر بعد یہ خاندان پراگ چلا گیا جہاں یہ لوگ اس وقت تک رہے جب جرمنی نے بوہیمیا اور موراویا پر مارچ 1939 میں قبضہ کر لیا۔ کچھ مہینوں کے بعد فوجی وردی میں ملبوس جرمنوں نے ان کے والد کو گرفتار کر لیا۔ کئی دہائیوں کے بعد رینے اور آئرین کو معلوم ہوا کہ انکے والد کو آشوٹز کیمپ میں دسمبر 1941 میں قتل کردیا گيا تھا۔ رینے، آرین اور اُن کی والدہ کو تھیریسئن شٹٹ یہودی بستی میں بھیج دیا گیا اور پھر اُنہیں آشوٹز بھجوا دیا گیا۔ وہاں جڑواں بچوں کو الگ کر دیا گیا اور اُن پر طبی تجربات کئے گئے۔ جنگ کے بعد رینے چیکوسلواکیہ کے علاقے کوسیٹز میں ایک ڈاکٹر کے خاندان کے ساتھ رہے اور پھر وہ امریکہ منتقل ہو گئے جہاں وہ دوبارہ آرین سے ملنے میں کامیاب ہو گئے۔

مکمل نقل

میں نے کوسٹز میں اسکول جانا شروع کیا اور اس نے مجھے اپنی بہن ایڈتھ مان اور اُس کے شوہر جوزف مان کے پاس چھوڑ دیا۔ ان کا ایک لڑکا اوٹو اور ایک لڑکی بیبی تھی۔ ہم اسکول کے بہت قریب رہتے تھے اور میں جانتا تھا کہ میں یہودی ہوں کیونکہ سب سے پہلی چیز یہ تھی کہ وہ لوگ بھی یہودی تھے۔ مجھے اسکول میں ایک یہودی کہہ کر بلایا جاتا تھا۔ ہر دن جب اسکول کا وقت ختم ہوتا-- پورے اسکول میں میرے علاوہ ایک یہودی اور تھا۔ اس کا نام سوبیل تھا۔ میں سوبیل نام کبھی نہیں بھول سکتا۔ میں اسکا پہلا نام نہیں جانتا لیکن ہر دن لڑکے ہمیں مارنے اور ہم پر پتھر پھینکنے کے لئے ہمارے انتظار میں رہتے تھے۔ اسکول سے نکلنا ایک مصیبت تھی۔ میں نہیں جانتا کیوں مگر اسکول جانا کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن ہر روز اسکول سے جانا واقعی ایک مصیبت ہوتی تھی۔


ٹیگ


  • US Holocaust Memorial Museum Collection
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

یہ صفحہ مندرجہ ذیل مقامات پر بھی دستیاب ہے:

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.