
قتل کے مراکز میں
جلاوطنی کی ٹرینوں کے قتل کے مراکز میں پہنچنے کے بعد محافظوں نے جلاوطن ہونے والوں کو نکال کر قطار میں کھڑا ہونے کو کہا۔ پھر انہیں ایک انتخابی عمل سے گذارا گیا۔ مردوں کو عورتوں اور بچوں سے الگ کردیا گيا۔ ایک نازی جو عام طور پر ایک ایس ایس کا ڈاکٹر ہوتا تھا، جلدی سے ہر شخص کو دیکھ کر فیصلہ کرتا تھا کہ کیا وہ جبری مشقت کے لئے صحت مند یا طاقت ور تھا یا نہیں۔ یہ ایس ایس کا افسر پھر دائيں یا بائيں طرف اشارہ کرتا تھا؛ مظلوموں کو یہ نہیں معلوم تھا کہ لوگوں کی زندگی اور موت کا فیصلہ کیا جا رہا تھا۔ چھوٹے بچوں، حاملہ عورتوں، بوڑھے، معذور اور بیماروں کا اس سے پہلے انتخاب میں بچنے کا کم ہی امکان تھا۔
قتل کے لئے منتخب ہونے والوں کو گیس کے چیمبروں تک لے جایا گیا۔ گھبراہٹ سے بچنے کی خاطر کیمپ کے محافظوں نے یہ کہا کہ انہیں نہانے کے لئے لے جایا جارہا ہے تاکہ وہ جوؤں سے نجات پا سکیں۔ محافظوں نے انہيں اپنی قیمتی اشیاء چھوڑنے اور کپڑے اتارنے کی ہدایات دیں۔ انہیں پھر "حماموں" میں ننگا لے جایا گیا۔ ایک چوکیدار نے لوہے کا دروازہ بند کرکے اسے لاک کردیا۔ کچھ قتل کے مراکز کے چیمبر میں پائپوں کے ذریعے کاربن مونو آکسائیڈ گزاری گئی۔ دوسرے چیمبروں میں کیمپ کے محافظوں نے ہوا کی نالی کے ذریعے "ذائکلون بی" کی گولیاں پھینکیں۔ ذائکلون بی ایک بہت ہی زہریلی کیڑے مار دوا تھی جسے چوہے اور کیڑے مارنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
گیس چیمبروں میں داخل ہونے کے کچھ منٹوں ہی میں ان کے اندر موجود ہر شخص آکسیجن کی کمی سے مرجاتا تھا۔ محافظوں کی نگرانی میں قیدیوں کو لاشوں کو ایک قریبی کمرے تک لے جانے پر مجبور کیا جاتا تھا جہاں وہ بال، سونے کے دانت اور دانتوں کی فلنگز نکالتے تھے۔ لاشوں کو لاشیں جلانے کی بھٹیوں میں جلایا جاتا تھا یا اجتماعی قبروں میں دفن کیا جاتا تھا۔
بہت سے لوگوں نے لاشوں کو لوٹ کر خوب پیسے کمائے۔ کیمپ کے محافظوں نے کچھ سونا چرایا۔ باقی کو پگھلا کر ایس ایس کے بینک اکاؤنٹ میں رکھوا دیا گیا۔ نجی کمپنیوں نے بال خرید کر انہيں کئی مصنوعات میں استعمال کیا جیسے کشتی کی رسی اور گدے۔