<p>پولش لوگ محصور وارسا کے کھنڈراٹ کے پاس سے گزر رہے ہیں۔</p>
<p>جنگ کی تباہ حالی کی منظر کشی کرتی ہوئی یہ تصویر جولین برائن (1899-1974) نے کھینچی۔ جولین برائن دستاویزی فلمیں بناتے تھے جنہوں نے دنیا بھر کے ممالک میں افراد اور برادریوں کی روز مرہ  زندگی اور ثقافت کے بارے میں تصاویر بنائیں۔</p>
<p> </p>

پولینڈ پر حملہ، موسم خزاں 1939

جرمن فوجوں نے یکم ستمبر، 1939 کو پولینڈ پر حملہ کر دیا جس سے دوسری عالمیگیر جنگ کا آغاز ہو گیا۔ جرمن جارحیت کے جواب میں برطانیہ اور فرانس نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔

اہم حقائق

  • 1

    نازی جرمنی کو پولینڈ کے مقابلے میں بھرپور فوجی برتری حاصل تھی۔ پولینڈ پر اس حملے سے جرمنی کی فضائی بمباری اور توپ خانے کے ساتھ مل کر نئی انداز کی موبائل جنگی کارروائی کی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ ہوا۔ 

  • 2

    17 ستمبر، 1939 کو سوویت یونین نے مشرقی پولینڈ پر حملہ کر دیا جس سے پولینڈ کی قسمت کا حتمی فیصلہ ہو گیا۔ پولینڈ کے آخری فعال فوجی یونٹ نے 6 اکتوبر کو ہتھیار ڈال دیے۔

  • 3

    اوائل اکتوبر 1939 کو پولینڈ کی شکست کے بعد نازی جرمنی اور سوویت یونین نے جرمن۔ سوویت عدم جارحیت کے معاہدے کی خفیہ شق کے تحت پولینڈ کو آپس میں تقسیم کر لیا۔

ہٹلر کا پولینڈ کے ساتھ عدم جارحیت کا معاہدہ

ایڈولف ہٹلر کے اقتدار سنبھالنے کے بعد خارجہ پالیسی کے حوالے سے بڑے اقدامات میں سے ایک جنوری 1934 میں پولینڈ کے ساتھ عدم جارحیت کے معاہدے پر دستخط کرنا تھا۔ بہت سے جرمن اس اقدام کو ناپسند کرتے تھے۔ وہ ہٹلر کی حمایت کرنے کے باوجود اس بات پر ناراضگی کا اظہار کرتے تھے کہ پولینڈ نے سابق جرمن صوبے ویسٹ پرشیا، پوزنن اور شمالی سائلیسیا ورسائی معاہدے کے تحت حاصل کر لیے تھے۔ تاہم ہٹلر نے عدم جارحیت کا یہ معاہدے اسلئے کیا کہ جرمنی کو دوبارہ مسلح کرنے سے پہلے جرمنی کے خلاف فرانس اور پولینڈ کا اتحاد قائم ہونے کا کوئی موقع باقی نہ رہے۔ 

یورپ میں جرمنی کو خوش کرنے کی پالیسی

فرانس اور خاص طور پر برطانیہ نے 1930 کی دہائی کے وسط اور آخر میں جرمنی کو خوش کرنے کی خارجہ پالیسی اپنائی۔ یہ پالیسی خاص طور پر برطانوی وزیر اعظم نیول چیمبرلین کا خاصہ رہی۔ اس پالیسی کا مقصد یہ تھا کہ جرمن مطالبات کو محدود سطح پر قبول کرتے ہوئے یورپ میں امن قائم رکھا جائے۔ برطانیہ میں عوامی رائے ورسائی معاہدے کے تحت کچھ علاقوں اور فوجی اقدامات میں کسی قدر ردو بدل کے حق میں تھی۔ علاوہ اذیں برطانیہ اور فرانس میں سے کوئی بھی یہ محسوس نہیں کرتا تھا کہ وہ فوجی اعتبار سے 1938 میں نازی جرمنی کے ساتھ جنگ کیلئے تیار تھا۔ 

برطانیہ اور فرانس جرمنی کے دوبارہ مسلح ہونے (1935-1937)، رھائن لینڈ کو دوبارہ فوجی قوت بنانے (1936) اور آسٹریا کو جرمنی میں ضم کرنے(مارچ 1938) کیلئے رضامند ہو گئے۔ ستمبر 1938 میں میونخ کانفرنس میں سوڈیٹن لینڈ کہلائے جانے والے چیک سرحدی علاقوں کو جرمنی کے حوالے کرنے کے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد برطانیہ اور فرانس نے فرانس کے اتحادی ملک چیکوسلواکیہ پر دباؤ ڈالا کہ وہ ان علاقوں کو جرمنی میں ضم کیے جانے پر راضی ہو جائے۔ چیکوسلواکیہ کے باقی ماندہ علاقے کے متحد رہنے کی اینگلو فرینچ ضمانتوں کے باوجود جرمنی نے میونخ سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مارچ 1939 میں چیکوسلواکیہ کے ٹکڑے کر دیے۔ اس کے جواب میں برطانیہ اور فرانس نے پولینڈ کی ریاست کی خود مختاری کی ضمانت دی۔ ہٹلر نے بعد میں روس کے ساتھ بھی عدم جارحیت کا معاہدہ کر لیا۔ اگست 1939 کے جرمن سوویت معاہدے میں خفیہ طور پر کہا گیا کہ پولینڈ کو دونوں ملکوں میں تقسیم کر لیا جائے گا جس سے جرمنی کو سوویت مداخلت کے خوف سے آزاد ہو کر پولینڈ پر حملہ کرنے کا موقع مل گیا۔ 

پولینڈ پر حملہ اور اس کی تقسیم

یکم ستمبر، 1939 کو جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کر دیا۔ اپنے اس اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے نازی پراپیگنڈا کرنے والوں نے دعویٰ کیا کہ پولینڈ اپنے اتحادیوں برطانیہ اور فرانس سے مل کر جرمنی کے گرد گھیرا تنگ کرنے اور اس کو تقسیم کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا اور وہ نسلی جرمنوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنا رہا تھا۔ ایس ایس نے جرمن فوج کے ساتھ مل کر ایک جرمن ریڈیو سٹیشن پر پولینڈ کی طرف سے حملے کا ڈرامہ رچایا۔ بعد میں ہٹلر نے اس اقدام کو جواز بنا کر پولینڈ پر ’’جوابی‘‘ حملہ کر دیا۔ 

پولینڈ کو اپنی فوجوں کو حرکت میں لانے میں تاخیر ہوئی اور سیاسی مصلحت کی بنا پر پولینڈ کی فوج اس انداز میں تعینات کی گئی جو اس کے حق میں نہ تھی۔ پولینڈ کی فوج عددی اعتبار سے بھی بری طرح شکست کھا گئی۔ بہادری کے ساتھ لڑنے اور جرمن فوجوں کو بھاری نقصان پہنچانے کے باوجود پولینڈ کی فوج کو چند ہفتوں میں ہی شکست ہو گئی۔ جرمن فوجوں نے 2,000 ٹینکوں اور 1,000 جہازوں کے ساتھ شمال میں مشرقی پرشیا سے لیکر جنوب میں سائلیسیا اور سلوواکیہ کی سرحدوں کو روندتے ہوئے بڑے پیمانے پر محصور کر دینے والے حملے کے ساتھ وارسا کی طرف پیش قدمی کی۔ جرمنی کی طرف سے بھارتی گولہ باری اور بمباری کے بعد 27 ستمبر، 1939 کو وارسا نے پتھیار ڈال دیے۔ برطانیہ اور فرانس نے پولینڈ کی خود مختاری کی ضمانت پر قائم رہتے ہوئے 3 ستمبر، 1939 کو جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ سوویت یونین نے 17 ستمبر، 1939 کو مشرقی پولینڈ پر حملہ کر دیا۔ پولینڈ کی آخری مزاحمت 6 اکتوبر کو دم توڑ گئی۔ جرمنی اور سوویت یونین کے درمیان مقبوضہ پولینڈ کی تقسیم کی حد بندی بگ دریا پر ہوئی۔

قبضہ

 اکتوبر 1939 میں جرمنی نے مشرقی سرحد سے ملحقہ پولش علاقے پر براہ راست قبضہ کر لیا۔  اس میں مغربی پرشیا، پوزنن، شمالی سائلیسیا اور سابقہ آزاد شہر ڈین زگ کے علاقے شامل تھے۔ وارسا، کراکاؤ، راڈوم اور لوبلن شہروں پر مشتمل جرمن مقبوضہ پولش علاقوں کو منظم کر کے وہاں نام نہاد جنرل گورنمنٹ قائم کر دی گئی جو سول گورنر جنرل کے ماتحت تھی۔ یہ گورنر جنرل نازی پارٹی کے وکیل ہینس فرینک تھے۔

نازی جرمنی نے پولینڈ کے باقی ماندہ علاقے پر بھی اس وقت قبضہ کر لیا جب اس نے جون 1941 میں سوویت یونین پر حملہ کر دیا۔ پولینڈ جنوری 1945 تک جرمن قبضے میں رہا۔

 

 

مباحثے کے سوالات

مزید پڑھنے کیلئے

Record, Jeffrey. The Specter of Munich: Reconsidering the Lessons of Appeasing Hitler. Washington, DC: Potomac Books, 2007.

Rossino, Alexander B. Hitler Strikes Poland: Blitzkrieg, Ideology, and Atrocity. Lawrence: University Press of Kansas, 2003.

Zaloga, Steve. Poland 1939: The Birth of Blitzkrieg. Westport, CT: Praeger, 2004.

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.