
یہودی بستیوں میں زندگی
یہودی بستیوں میں زندگی عام طور پر ناقابل برداشت ہی ہوا کرتی تھی۔ چھوٹی سی جگہ میں گنجائش سے زیادہ افراد بھر لینا ایک عام بات تھی۔ ایک اپارٹمنٹ میں کئی کئی خاندان رہ رہے تھے۔ غسل خانوں کی تنصیبات خراب ہوگئيں اور انسانی فضلے کو کچرے کے ساتھ سڑکوں پر پھینک دیا جاتا تھا۔ ایسے تنگ اور حفظان صحت کے منافی گھروں میں چھوت کی بیماریاں تیزی سے پھیلتی تھیں۔ لوگ ہمیشہ ہی بھوکے رہتے تھے۔ جرمنوں نے رہائشیوں کو جان بوجھ کر بھوکا مارنے کے لئے انہيں روٹی، آلو اور چربی کی بالکل کم مقدار خریدنے کی اجازت دی۔ کچھ رہائشیوں کے پاس کچھ پیسے یا قیمتی سامان تھا جس کے بدلے وہ یہودی بستی میں خفیہ طور پر کھانا لاسکتے تھے؛ دوسرے زندہ رہنے کے لئے چوری کرنے یا بھیک مانگنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ لمبی سردیوں میں ایندھن کم تھا اور کئی افراد کے پاس مناسب لباس بھی نہ تھا۔ بھوک اور سردی کی وجہ سے کمزور افراد جلد ہی بیماریوں کا شکار ہوجاتے تھے؛ ہزاروں افراد بیماری، بھوک یا ٹھنڈ کے باعث انتقال کر گئے۔ کچھ افراد نے بے بسی سے بچنے کے لئے خودکشی کرلی۔
روزانہ بچے یتیم ہوجاتے تھے اور کئی کو اپنوں سے چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کرنی پڑجاتی تھی۔ یتیم بچے سڑکوں پر رہتے تھے اور روٹی کے لئے دوسرے لوگوں سے بھیک مانگتے رہتے جن کے پاس خود دینے کے لئے کچھ نہ تھا۔ کئی سردی میں ٹھنڈ سے مر گئے۔
زندہ رہنے کے لئے بچوں کو باوسائل ہونے اور اپنے آپ کو کارآمد ثابت کرنے کی ضرورت تھی۔ چھوٹے بچے یہودی بستی کی دیواروں میں دراڑوں کے درمیان سے گزر کر کبھی کبھار وارسا کی یہودی بستی میں رہنے والے اپنے گھر والوں اور دوستوں کے لئے خفیہ طور پر کھانا لے آتے تھے۔ ان کے لئے اس کام میں خطرہ بہت تھا کیونکہ پکڑے جانے والوں کو سخت سزائيں دی جاتی تھیں۔
کئی نوجوانوں نے کئی یہودی بستوں میں بڑوں کے زیرانتظام اسکولوں میں اپنی تعلیم جاری رکھنے کی کوششیں بھی کیں۔ کیونکہ یہ کلاسیں خفیہ طور پر اور نازیوں کے حکم کی خلاف ورزی میں منعقد کی جاتی تھیں، طلبا ضرورت پڑنے پر اپنی کتابيں اپنے کپڑوں کے اندر چھپا دیا کرتے تھے۔
اپنے اطراف موت اور تکلیف کو پانے کے باوجود بچوں نے اپنے کھلونوں سے کھیلنا نہيں چھوڑا۔ کچھ یہودی بستی میں اپنے ساتھ اپنی عزیز گڑیائيں یا ٹرک لائے تھے۔ کپڑے یا لکڑی کے جو بھی ٹکڑے ملتے تھے، بچے ان سے بھی کھلونے بنا لیتے تھے۔ لوڈز کی یہودی بستی میں بچے سگرٹوں کے خالی ڈبوں کے ڈھکنوں سے تاش کھیلتے تھے۔