A section of the Dachau concentration camp.

ڈاکا

مارچ 1933 میں قائم ہونے والا ڈاکا حراستی کیمپ قومی سوشلسٹ (نازی) حکومت کا پہلا باقاعدہ حراستی کیمپ تھا۔ ھائین رخ ھملر نے میونخ کے پولیس سربراہ ہونے کی حیثیت سے اِس کیمپ کو "سیاسی قدیوں کیلئے پہلا قیدی کیمپ" قرار دیا تھا۔ جنوبی جرمنی کے شہر میونخ کے شمال مغرب میں تقریباً دس میل پر واقع ڈاکا شہر کے شمال مشرقی حصے کے قریب گولہ بارود کے ایک متروک کارخانے کی زمین پر یہ کیمپ قائم ہوا۔

کیمپ کے پہلے برس کے دوران تقریباً 4800 قیدی یہاں رکھے گئے۔ ابتدا میں اِن قیدیوں میں جرمن اشتراکی، سوشل ڈیموکریٹ، مزدور یونینوں کے لیڈر اور نازی حکومت کے دیگر سیاسی مخالفین شامل تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہاں دوسرے گروپوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی قیدی بنا کر لائے گئے جن میں یہووا'ز وھٹنس، روما (خانہ بدوش)، ہم جنس پرست، "غیر سماجی عناصر" اور بار بار جرم کے مرتکب ہونے والے افراد شامل تھے۔ ابتدائی برسوں میں یہودیوں کی نسبتاً کم تعداد کو ڈاکا میں رکھا گیا اور بعد میں عام طور پر اُنہیں یہاں قیدی بنایا گیا کیونکہ وہ اوپر بیان کئے گئے کسی نہ کسی گروپ سے تعلق رکھتے تھے یا پھر 1935 میں نیورمبرگ قوانین کی خلاف ورزی پر قصوروار ثابت ہونے کے بعد وہ جیل کی سزا کاٹ چکے تھے۔ یہودیوں پر ہونے والے جبر کے اضافے کے ساتھ ڈاکا میں یہودیوں کی تعداد بھی بڑھتی گئی اور 10 اور 11 نومبر 1938 کو کرسٹل ناخٹ (ٹوٹے شیشوں کی رات) کے بعد 10 ھزار سے زائد یہودی قیدی وہاں لائے گئے۔ ( اِس گروپ کے بیشتر افراد کو چند ہفتوں سے چند ماہ تک کی سزا کے بعد رہا کر دیا گیا جبکہ بہت سے قیدیوں کو اِس لئے چھوڑ دیا گیا کہ اُنہوں نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ جرمنی چھوڑ کر جانے کے انتظامات مکمل کر چکے ہیں)۔

ڈاکا کیمپ ایس ایس کے حراستی کیمپ کے محافظوں کیلئے ایک تربیتی مرکز تھا اور کیمپ کی تنظیم اور معمول تمام نازی کیمپوں کیلئے ایک نمونہ بن گئے۔ کیمپ دو حصوں میں تقسیم تھا۔ ایک تو کیمپ کا حصہ اور دوسرا لاشوں کو جلانے کی جگہ۔ کیمپ کا حصہ 32 بیرکوں پر مشتمل تھا جن میں سے ایک نازی حکومت کی مخالفت کرنے والے پادریوں کیلئے مختص تھا جبکہ ایک اور بیرک میں طبی تجربات کئے جاتے تھے۔ کیمپ کی انتظامیہ مرکزی داخلہ دروازے پر گیٹ ہاؤس میں واقع تھی۔ کیمپ کے علاقے میں سہولتیں فراہم کرنے والی عمارتوں کا گروپ بھی تھا جو باورچی خانہ، لانڈری، نہانے کیلئے غسل خانے اور ورکشاپوں پر مشتمل تھا۔ اِس کے علاوہ قید خانے (بنکر) کا بلاک بھی تھا۔ قید خانے اور مرکزی باورچی خانے کے درمیان واقع صحن کو قیدیوں کو سزائے موت دینے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ بجلی کی رو والی خاردار باڑ، ایک خندق اور سات گارڈ ٹاورز پر مشتمل دیوار کیمپ کا احاطہ کئے ہوئے تھے۔

1942 میں بنیادی کیمپ کے ساتھ ہی لاشوں کو جلانے کی بھٹی تعیمیر کی گئی۔ اِس میں پرانی بھٹی اور گیس چیمبر کے ساتھ ایک نئی بھٹی (بیرک نمبر 10 ) شامل تھی۔ اِس بات کا کوئی قابل اعتبار ثبوت نہیں ہے کہ بیرک نمبر 10 میں واقع گیس چیمبر کو انسانوں کو ہلاک کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔ اِس کے برعکس قیدیوں کو "انتخاب" کے مرحلے سے گزرنا پڑتا تھا یعنی وہ لوگ جن کے بارے میں یہ فیصلہ کیا جاتا کہ وہ بہت زیادہ بیمار یا کمزور ہونے کی بنا پر کام جاری نہیں رکھ سکتے تو اُنہیں آسٹریہ کے مقام لنز کے قریب واقع "رحمدلانہ موت" دینے والی قتل گاہ میں بھجوا دیا جاتا جسے ھارٹ ھائم کہا جاتا تھا۔ ھارٹ ھائم میں کئی ھزار قیدیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ علاوہ اذیں لاشوں کو جلانے کی بھٹی کے علاقے میں ایس ایس نے فائرنگ رینج اور پھانسی دینے کی جگہوں کو قیدیوں کیئے قتل گاہوں کے طور پر استعمال کیا۔

دیگر نازی کیمپوں کی طرح ڈاکا میں جرمن ڈاکٹروں نے قیدیوں پر طبی تجربات کئے جس میں کم دباؤ کے چیمبر کو استعمال کرتے ہوئے زیادہ فضائی بلندی کے تجربات، ملیریا اور تپ دق کے تجربات، ھائپوتھرمیا کے تجربات اور نئی ادویات کی جانچ کے تجربات شامل ہیں۔ قیدیوں کو سمندر کا پانی پینے کے قابل بنانے اور زیادہ خون بہنے کو روکنے کے طریقے آزمانے کیلئے بھی مجبوراً استعمال کیا گیا۔ ایسے تجربات کی وجہ سے سینکڑوں قیدی موت کے منہ میں چلے گئے یا پھر مستقل طور پر معذور ہو گئے۔

ڈاکا کے قیدہوں کو جبری مشقت کیلئے استعمال کیا گیا۔ شروع میں اُنہیں کیمپ کو چلانے، متعدد تعمیراتی منصوبوں اور کیمپ میں قائم کی جانے والی گھریلو صنعتوں میں استعمال کیا گیا۔ قیدیوں نے سڑکیں تعمیر کیں، پتھر توڑنے کا کام کیا اور نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی کا کام کیا۔ جنگ کے دوران گولہ بارود کے کارخانوں میں حراستی کیمپوں کے قیدیوں سے جبری مشقت لینے کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔

ڈا کا کے ذیلی کیمپ

1944 کے موسم گرما اور خزاں میں جنگی سازوسامان کی پیداوار میں اضافے کیلئے تمام تر جنوبی جرمنی میں اسلحے کی فیکٹریوں کے قریب ڈاکا کیمپ کے زیر انتظام سٹلائیٹ کیمپ قائم کئے گئے۔ صرف ڈاکا کے ہی 30 سے زائد ذیلی یا سٹلائیٹ کیمپ تھے جن میں 30 ھزار سے زیادہ قیدی خصوصی طور پر صرف اسلحہ سازی میں کام کرتے تھے۔ ھزاروں قیدی یہاں کام کرتے کرتے ہلاک ہو گئے۔

ڈاکا کی آزادی

جیسے جیسے اتحادی فوجوں نے جرمنی کی طرف پیش قدمی کی تو جرمنوں نے محاذ جنگ کے نزدیکی علاقوں میں موجود حراستی کیمپوں سے قیدیوں کو دوسری جگہوں پر منتقل کرنا شروع کر دیا تاکہ ھزاروں قیدیوں کو آزاد ہونے سے روکا جا سکے۔ منتقل ہونے والے قیدیوں سے بھری ہوئی گاڑیاں مسلسل ڈاکا پہنچتی رہیں جس کی وجہ سے ڈاکا کیمپ کے اندر صورت حال انتہائی طور پر خراب ہوتی گئی۔ کئی کئی روز تک خوراک اور پانی کے بغیر سفر کرنے سے قیدی انتہائی کمزوری اور نزاع کی کیفیت میں ڈاکا پہنچے۔ اِن میں سے اکثر موت کے قریب پہنچ چکے تھے۔ بے پناہ بھیڑ، ٓصفائی کی خراب صرت حال، سامان خوراک کی کمی اور قیدیوں کی بگڑتی صحت کے باعث ٹائفس کا حملہ سنگین صورت اختیار کر گیا۔

26 اپریل 1945 کو جب امریکی افواج کی آمد ہوئی تو ڈاکا اور اس کے ذیلی کیمپوں میں 67,665 رجسٹرڈ قیدی تھے۔ اِن میں نصف سے زائد مرکزی کیمپ میں تھے جن میں سے 43,350 کو سیاسی قیدی قرار دیا گیا تھا جبکہ 22,100 یہودی تھے۔ باقی قیدی مختلف قسموں سے تعلق رکھتے تھے۔ اُس روز سے جرمنوں نے زیادہ تر یہودیوں پر مشتمل 7,000 سے زائد قیدیوں کو ڈاکا سے انتہائی جنوب کی جانب ٹیگرنسی کیمپ کی جانب موت کے سفر پر روانہ کر دیا۔ موت کے اس سفر کے دوران جرمنوں نے اُن قیدیوں کو گولی مار دی جو سفر جاری رکھنے کی سکت نہ رکھتے تھے۔ بہت سے مذید قیدی بھوک، سردی یا نڈھال ہونے کی بنا پر جانیں کھو بیٹھے۔ 29 اپریل 1945 کو امریکی فوجوں نے ڈاکا کو آزاد کرا لیا۔ جب امریکی فوجی ڈاکا کیمپ کے نزدیک پہنچے تو اُنہوں نے 30 سے زائد ریل کی بوگیاں دیکھیں جن میں ڈاکا لائے گئے افراد کی لاشیں بھری ہوئی تھیں۔ یہ تمام لاشیں انتہائی طور پر گل سڑ چکی تھیں۔ مئی 1945 کے اوائل میں امریکی فوجوں نے موت کے سفر پر روانہ کئے گئے قیدیوں کو آزاد کرا لیا۔

1933اور 1945 کے دوران ڈاکا میں رکھے جانے والے قیدیوں کی تعداد ایک لاکھ 88 ھزار سے تجاوز کر گئی تھی۔ کیمپ اور اُس کے ذیلی کیمپوں میں جنوری 1940 سے مئی 1945 کے دوران مرنے والے قیدیوں کی تعداد کم سے کم 28 ھزار تھی۔ اِس تعداد میں اُن لوگوں کی تعداد بھی شامل کر دینی چاہئیے جو 1933 سے 1939 کے آخر تک وہاں ہلاک ہوئے تھے۔ اِس کے علاوہ ان گنت ایسے قیدی بھی تھے جن کا اندراج ہی نہ ہوا تھا۔ اِس بات کا امکان نہیں ہے کہ ڈاکا کیمپ میں مرنے والوں کی اصل تعداد کا کبھی علم ہو سکے گا۔