<p>روتھ کوہن (اوپر والی لائن میں بائيں جانب سے دوسرے نمبر پر) پراگ کے ایک اسکول میں اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ۔ پراگ، چیکوسلواکیا، 1928</p>

ہالوکاسٹ سے قبل یورپ میں یہودیوں کی زندگی

1933 میں جرمنی میں نازیوں کے اقتدار میں آنے کے وقت یہودی یورپ کے ہر ملک میں رہ رہے تھے۔ ان ممالک میں نوے لاکھ کے قریب یہودی رہتے تھے جن پر دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی کا قبضہ ہونے والا تھا۔ جنگ کے اختتام تک ان میں سے ہر تین یہودیوں میں سے دو کی موت واقع ہونے والی تھی اور یورپ میں یہودیوں کی زندگی ہمیشہ کے لئے تبدیل ہونے والی تھی۔

1933 میں یہودیوں کی سب سے بڑی تعداد مشرقی یورپ میں پائی جاتی تھی جس میں پولینڈ، سوویت یونین، ہنگری اور پولینڈ شامل تھے۔ مشرقی یورپ کے یہودی ایسے قصبوں یا دیہات میں رہا کرتے تھے جن کی بیشتر آبادی یہودیوں پر مشتمل تھی۔ ان کو شٹیٹلز کہا جاتا تھا۔ مشرقی یورپ کے یہودی اکثریتی ثقافت میں ایک اقلیت کے طور پر اپنی علیحدہ زندگی گزارتے تھے۔ ان کی اپنی یدش زبان تھی جس میں جرمن اور عبرانی زبانوں کے عناصر شامل تھے۔ وہ یدش کتابیں پڑھتے تھے اور یدش سنیما اور فلمیں دیکھا کرتے تھے۔ بڑے قصبوں میں نوجوان یہودی جدید طریقے اور لباس اپنا رہے تھے لیکن بڑی عمر کے لوگ روایتی لباس پہنتے تھے۔ مرد ٹوپیاں پہنتے تھے اور عورتیں رومال یا وگ سے سر ڈھانپتی تھیں۔

اس کے برعکس جرمنی، فرانس، اٹلی، نیدر لینڈ اور بیلجیم جیسے مشرقی یورپ کے ممالک کی آبادی میں یہودیوں کی تعداد کافی کم تھی اور وہ اپنے غیریہودی پڑوسیوں کی ثقافت اپناتے تھے۔ وہ اپنے ہم وطنوں کا لباس پہنتے تھے اور ان کی زبان بولتے تھے۔ ان کی زندگیوں میں مذہبی روایات اور یدش ثقافت کا کردار اتنا اہم نہيں تھا۔ وہ مشرقی یورپ کے یہودیوں کے مقابلے میں زیادہ تعلیم یافتہ تھے اور قصبوں یا شہروں میں رہتے تھے۔

یہودی زندگی کے ہر شعبے میں پائے جاتے تھے۔ وہ کاشت کار، درزی یا درزن، فیکٹری میں مزدور، اکاؤنٹینٹ، ڈاکٹر، استاد اور چھوٹے کاروباروں کے مالک تھے۔ کچھ خاندان امیر تھے؛ ان سے کہیں زیادہ لوگ غریب تھے۔ کئی بچے پڑھائی جلدی ختم کرکے کسی پیشے میں لگ جاتے تھے۔ دوسرے یونیورسٹی جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھتے تھے۔ اپنے تمام اختلافات کے باوجود وہ ایک لحاظ سے بالکل یکساں تھے: 1930 کی دہائی تک جرمنی میں نازیوں کے اقتدار کے عراج کے ساتھ وہ سب ہی ممکنہ ہدف بن گئے اور ان کی زندگیاں ہمیشہ کے لئے بدل گئيں۔

اہم تواریخ

ستمبر 1791
فرانس میں یہودیوں کی آزادی

"یہودیوں کی آزادی" کا مطلب ہے کہ یہودیوں کے خلاف تمام قانونی امتیاز کو ہٹا دیا گيا اور انہیں ملک کے دوسرے شہریوں کے مساوی حقوق عطا کئے گئے۔ ستمبر 1791 میں فرانس کی قومی اسمبلی نے وفاداری کا حلف اٹھانے والے یہودیوں کو شہریت کے حقوق عطا کئے۔ فرانس آزادی کی تحریک میں پیش پیش تھا۔ مثال کے طور پر یہودیوں کو یونان (1830)، برطانیہ (1858)، اٹلی (1870)، جرمنی (1871) اور ناروے (1891) سب میں بعد میں ہی آزادی ملی۔ باوجود اس کے کہ یہودیوں کو قانون کے تحت برابر شہری حقوق کی ضمانت دی گئی تھی، یورپ کے یہودیوں کو سام دشمنی اور سماجی امتیاز کا سامنا کرتے رہنا پڑا۔

24 جون 1922
یہودی سیاست دان کو جرمنی میں ہلاک کردیا گیا

جمہوریہ وائمار کے نمایاں یہودی سیاست دان والٹر ریتھناؤ کو بائيں بازو کے انتہا پسندوں نے ہلاک کردیا۔ ریتھناؤ جو 1915 سے جرمنی کی جنرل الیکٹرک کارپوریشن کا صدر تھا، 1922 میں جمہوریہ وائمار کا وزیر خارجہ بنا۔ یہودی ہونے کی وجہ سے اور خاص طور پر ورسائے کے معاہدے کی شرائط پوری کرنے اور سوویت یونین کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی وجہ سے بائیں بازو کے گروپ اس سے نفرت کرتے تھے۔ اس کی ہلاکت بائيں بازوں کی سام دشمن مہم کی نشان دہی کرتی ہے جو یہودیوں کو پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست کا ذمہ دار ٹھہراتی تھی۔

9 مارچ 1936
پی آر زی وائی ٹی وائی کے پولینڈ میں پوگروم

پولینڈ میں تشدد پھوٹ پڑا۔ پولینڈ کے قصبے پی آر زی وائی ٹی وائی کے میں تین یہودی جاں بحق اور ساٹھ سے زائد زخمی ہوگئے۔ حملے کے بعد پوگروم آس پاس کے قصبوں میں پھیلنے لگا۔ پوگروم کے اختتام تک تقریبا 80 یہودی جاں بحق اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے۔ وسطی پولینڈ میں یہودیوں کے خلاف تشدد 1935 اور 1937 کے درمیان عام تھا۔ یہودیوں کے خلاف پوگروم، مثال کے طور پر چیکوسلواکیہ، لوبلن، بیالسٹاک اور گروڈنو، میں یہ سلسلہ جاری رہا۔

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.