A kapo oversees prisoners at the Płaszów camp

نازی حراستی کیمپوں میں کاپوز اور دیگر قیدی اہلکار

ایس ایس نے بعض قیدیوں کو حراستی کیمپوں کے انتظام میں مدد کرنے پر مجبور کیا۔ ان قیدیوں کو ’’قیدی اہلکار‘‘ کہا جاتا تھا۔ انہیں کیمپوں کے اندر انتظامی اور نگرانی کے عہدوں پر مقرر کیا جاتا تھا۔ ان عہدوں میں کیمپ کے بزرگ، بلاک کے نگران، کلرک، کاپو، اور دیگر ذمہ داریاں شامل تھیں۔ ان اہلکارانہ عہدوں کے ساتھ کچھ مراعات بھی وابستہ تھیں، جن میں نسبتاً زیادہ خوراک اور بہتر لباس شامل تھا۔

اہم حقائق

  • 1

    کاپو قیدی اہلکاروں کی سب سے معروف قسم تھے۔ وہ مشقتی کاموں پر لگائے گئے قیدیوں کی نگرانی کرتے تھے۔ اکثر وہ اپنے ماتحت قیدیوں کو کوڑے مارتے، تشدد کا نشانہ بناتے، اور بعض اوقات قتل بھی کر دیتے تھے۔

  • 2

    بعض قیدی اہلکار اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کرتے تھے، ظالمانہ اور سفاکانہ رویہ اختیار کرتے تھے، یا اپنے ساتھی قیدیوں کی زندگی مزید اذیت ناک بنا دیتے تھے۔ جبکہ بعض دوسرے قیدی اہلکار، خصوصاً ڈاکٹر، نرسیں، اور کلرک، قیدیوں کی بقا میں مدد فراہم کرتے تھے۔

  • 3

    نازی حراستی کیمپوں کے نظام میں تمام قیدی، بشمول قیدی اہلکاروں کے، ذلت، انسانیت سوز سلوک، اور شدید ظلم و بربریت کا نشانہ بنتے تھے۔

قیدی اہلکار (فنکشن شیفٹلِنگے) وہ حراستی کیمپوں کے قیدی تھے جنہیں کیمپوں میں نگرانی یا انتظامی عہدوں پر مقرر کیا جاتا تھا۔

کاپو قیدی اہلکاروں کی سب سے معروف قسم تھے۔ وہ مشقتی کاموں پر لگائے گئے قیدیوں کی نگرانی کرتے تھے۔ تاہم، اس کے علاوہ بھی بہت سے اہلکارانہ عہدے موجود تھے۔ ان میں کیمپ کے بزرگ (لاگر ایلٹسٹن)، بلاک کے بزرگ یا نگران (بلاک ایلٹسٹن)، اور کلرک  (شرائیبر) وغیرہ شامل تھے۔

تمام قیدی اہلکار ایک منظم کیمپ انتظامی ڈھانچے کا حصہ ہوتے تھے۔ ان کے اوپر ایس ایس کیمپ انتظامیہ اور محافظ موجود ہوتے تھے، جبکہ ان کے نیچے دیگر قیدی ہوتے تھے۔ قیدی اہلکار روزمرہ کیمپ انتظامات کو چلانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے تھے۔

کیمپ کے درجہ بندی والے نظام میں اپنی حیثیت کی وجہ سے قیدی اہلکاروں کو دوسرے قیدیوں پر خاصا اختیار حاصل ہوتا تھا۔ اس درجہ بندی کے اعلیٰ اہلکار بعض سزائیں نافذ کر سکتے تھے۔ وہ اپنے ساتھی قیدیوں کو مراعات بھی دے سکتے تھے یا بعض اوقات خفیہ طور پر ان کی مدد بھی کرتے تھے۔ قیدی اہلکاروں کو ایسی سہولتیں اور مراعات حاصل تھیں جو عام قیدیوں کو میسر نہیں تھیں۔

ایس ایس کاپو، بلاک ایلڈرز، اور دیگر قیدی اہلکاروں کو کیوں استعمال کرتی تھی؟

ایس ایس نے قیدی اہلکاروں کا نظام بنیادی طور پر جرمن افرادی قوت، مالی وسائل، اور دیگر وسائل بچانے کے لیے قائم کیا تھا۔ اس نظام نے قیدیوں کے درمیان اتحاد کو بھی کمزور کیا اور مزاحمت کی حوصلہ شکنی کی۔ اس نظام کو اکثر ’’خود انتظامی‘‘ (سیلبسٹ فرواَلٹنگ) کہا جاتا ہے، لیکن یہ اصطلاح گمراہ کن ہے، کیونکہ قیدیوں کو اس بات پر براہِ راست اختیار حاصل نہیں تھا کہ کون اہلکار مقرر کیا جائے گا۔

قیدی اہلکاروں کا یہ نظام 1930 کی دہائی میں ڈاخاؤ حراستی کیمپ میں شروع ہوا۔ جب ایس ایس نے مزید حراستی کیمپ قائم کیے تو وہ اکثر پہلے سے قائم کیمپوں کے تجربہ کار قیدی اہلکاروں کو نئے کیمپوں میں منتقل کر دیتی تھی۔

A kapo oversees prisoners at the Płaszów camp

اپنے ہاتھ پیچھے باندھے کھڑا ایک کاپو (دائیں جانب) پلاشوف کیمپ میں جبری مشقت انجام دینے والے یہودی قیدیوں کی نگرانی کر رہا ہے۔ کاپو وہ حراستی کیمپوں کے قیدی ہوتے تھے جنہیں دوسرے قیدیوں کے مشقتی کاموں پر نگرانی کے لیے منتخب کیا جاتا تھا۔ پلاشوف، پولینڈ، 1943–1944۔

کریڈٹس:
  • USHMM, courtesy of Leopold Page Photographic Collection

قیدی اہلکاروں کے اہم عہدے کون سے تھے؟

قیدی اہلکار کیمپ کے مختلف شعبوں اور سرگرمیوں کی نگرانی کرتے تھے۔ ان میں رہائشی بیرکس، مشقتی کام، مریض خانہ، باورچی خانے، اور انتظامی دفاتر شامل تھے۔ قیدی اہلکاروں کے مختلف عہدے اور القابات ہوتے تھے، جو ان کی حیثیت اور ذمہ داریوں کی نشاندہی کرتے تھے

کیمپ کے بزرگ

کیمپ کے بزرگ (لاگر ایلٹسٹن) قیدی اہلکاروں میں سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز ہوتے تھے۔ لفظ ’’بزرگ‘‘ سے مراد عمر نہیں بلکہ نگرانی اور انتظامی حیثیت تھی۔ کیمپ کے بزرگ اس بات کے ذمہ دار ہوتے تھے کہ پورا کیمپ منظم انداز میں چلتا رہے۔ وہ کیمپ کے انچارج ایس ایس افسر کو رپورٹ کرتے تھے، جسے ’’شُٹز ہافٹ لاگر فیورر‘‘ کہا جاتا تھا۔ 

قیدیوں کی رہائشی بیرکس میں قیدی اہلکار

بلاک کے بزرگ (بلاک ایلٹسٹن) رہائشی بیرکس کے ذمہ دار ہوتے تھے۔ کیمپ کی اصطلاح میں رہائشی بیرکس کو ’’بلاک‘‘ کہا جاتا تھا۔ بلاک کے بزرگ اس بات کا تعین کرتے تھے کہ ان کے بلاک میں قیدی کہاں سوئیں گے اور انہیں کس ترتیب سے خوراک دی جائے گی۔ وہ بعض قیدیوں کو بہتر یا زیادہ سہولتیں اور خوراک دے سکتے تھے۔ اسی طرح وہ کیمپ کے قواعد توڑنے پر قیدیوں کو سزا دے سکتے تھے، بلاوجہ مارپیٹ کر سکتے تھے، یا بغیر کسی وجہ کے بھی انہیں اذیت دے سکتے تھے۔ قیدی اہلکاروں کے درجہ بندی والے نظام میں بلاک کے بزرگ، کیمپ کے بزرگوں کو رپورٹ کرتے تھے۔ وہ کمروں کے نگرانوں (شٹوبن ڈینسٹ یا شٹوبن ایلٹسٹے) کی نگرانی بھی کرتے تھے۔

ایک نچلے درجے کا ایس ایس افسر، جسے ’’ایس ایس بلاک لیڈر‘‘ (بلاک فیورر) کہا جاتا تھا، اس بات کو یقینی بناتا تھا کہ بلاک کے بزرگ اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر انجام دے رہے ہیں۔

کاپو کون ہوتا تھا؟

شونی ایک چھوٹے سے ٹرانسلوانیائی شہر میں ایک مذہبی یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پانچ سال کی عمر میں وائلن سیکھنا شروع کیا۔ 1940 میں ان کے شہر پر ہنگری نے قبضہ کر لیا اور 1944 میں یہ جرمنی کے قبضے میں آ گیا۔ مئی 1944 میں انہیں پولینڈ کے آشوٹز کیمپ میں جلاوطن کر دیا گیا۔ بعد ازاں انہیں فرانس میں نیٹسوائلر  کیمپوں کے نظام میں منتقل کیا گیا اور پھر ڈاخاؤ بھیج دیا گیا، جہاں اپریل 1945 میں امریکی فوجیوں نے انہیں آزاد کرایا۔ 1950 میں وہ امریکہ ہجرت کر گئے، جہاں انہوں نے ایک موسیقار اور پیشہ ور وائلن نواز کے طور پر شہرت حاصل کی۔

کریڈٹس:
  • US Holocaust Memorial Museum Collection

 

کاپو اپنے ساتھی قیدیوں کی جبری مشقت کے کاموں پر نگرانی کرتے تھے۔ دیگر قیدی اہلکاروں کے القابات کے برعکس، لفظ ’’کاپو‘‘ جرمن زبان کا لفظ نہیں ہے۔ اس اصطلاح کی اصل ابتدا واضح طور پر معلوم نہیں، البتہ یہ بات یقینی ہے کہ یہ لفظ ڈاخاؤ کیمپ میں پہلے ہی استعمال ہو رہا تھا۔

کاپو اُن حراستی کیمپوں کے قیدیوں کی نگرانی اور پہرہ داری کرتے تھے جو جبری مشقت انجام دے رہے ہوتے تھے۔ بعض کاپو کیمپ کے اندر ہونے والی مشقت کی نگرانی کرتے تھے۔ وہ باورچی خانوں، لانڈری، ورکشاپس، اور مریض خانوں میں کام کرنے والے مشقتی گروہوں (کمانڈوز) کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ دیگر کاپو اُن قیدیوں کی نگرانی کرتے تھے جو کیمپ سے باہر جبری مشقت انجام دیتے تھے۔ ان کام کی جگہوں میں تعمیراتی مقامات، پتھر کی کانیں، کھیت، مچھلی پالنے کے مراکز، اور کارخانے شامل تھے۔

کاپو اس بات کے ذمہ دار ہوتے تھے کہ قیدی اپنا کام صحیح طریقے سے کریں، مقررہ مقدار پوری کریں، اور سستی یا غفلت کا مظاہرہ نہ کریں۔ ایس ایس کی توقع ہوتی تھی کہ کاپو اپنی توقعات پر پورا نہ اترنے والے قیدیوں کو جسمانی تشدد اور طاقت کے ذریعے سزا دیں۔

بعض بڑے مشقتی گروہ، جن میں ایک ہزار یا اس سے زیادہ جبری مزدور شامل ہوتے تھے، ایک اوبرکاپو (’’اعلیٰ کاپو‘‘) کی نگرانی میں ہوتے تھے۔ اوبرکاپو دوسرے کاپوؤں اور قیدی اہلکاروں کی نگرانی کرتے تھے، جن میں اُنٹرکاپو (’’زیرِ نگرانی کاپو‘‘) اور فورآربائٹر (’’سربراہ کارکن‘‘) شامل تھے۔

دیگر قیدی اہلکار

کیمپ کے بزرگوں، بلاک کے بزرگوں، اور کاپوؤں کے علاوہ بھی قیدی اہلکاروں کے متعدد دیگر عہدے موجود تھے۔ کلرک (شرائیبر) ریکارڈ محفوظ رکھنے اور انتظامی امور انجام دینے کے ذمہ دار ہوتے تھے۔ قیدی ڈاکٹر (ہیفٹلنگس آرٹسٹین) اور نرسیں (ہیفٹلنگس فلیگرین) مریض خانوں (کرانکن رویئرن) میں کام کرنے پر مامور ہوتے تھے۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران بعض کیمپوں میں ایس ایس محافظوں کی افرادی کمی کے باعث قیدیوں پر مشتمل ایک پولیس فورس بھی قائم کی گئی تھی، جسے ’’لاگر پولیسائی‘‘ یا ’’لاگر شُٹز‘‘ کہا جاتا تھا۔

کون سے قیدی کاپو، بلاک کے بزرگ، اور دیگر قیدی اہلکاروں کے طور پر خدمات انجام دیتے تھے؟

قیدی اہلکار حراستی کیمپوں کے تمام اقسام کے قیدیوں میں سے منتخب کیے جاتے تھے۔ ان میں مختلف قومیتوں کے افراد، اور مرد و خواتین دونوں شامل تھے۔ جس طرح ہر کیمپ میں قیدیوں کی آبادی مختلف ہوتی تھی، اسی طرح قیدی اہلکاروں کی ساخت بھی کیمپ سے کیمپ مختلف ہوتی تھی۔ تاہم، زیادہ تر حراستی کیمپوں میں قیدی اہلکاروں کے اعلیٰ عہدوں پر جرمن قیدیوں (جرمنی اور اس کے الحاق شدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے) کا غلبہ تھا۔ یہ صورتحال اُن کیمپوں میں بھی دیکھی گئی جہاں قیدیوں کی اکثریت غیر جرمن تھی، جیسے شٹوٹ ہوف اور ریگا-کائزر والڈ۔

سب سے بدنام قیدی اہلکار وہ لوگ تھے جو پیشہ ور مجرموں کے طور پر قید کیے گئے تھے۔ دیگر اہلکاروں میں وہ افراد شامل تھے جنہیں ’’غیر سماجی عناصر‘‘، سیاسی قیدیوں، یا یہودیوں کے طور پر قید کیا گیا تھا۔

قیدی اہلکار بننے کے فوائد اور مراعات

حراستی کیمپ کے ماحول میں قیدی اہلکار دیگر قیدیوں کے مقابلے میں نسبتاً مراعات یافتہ سمجھے جاتے تھے۔ انہیں اکثر ایسی بہت سی سہولتیں حاصل ہوتی تھیں جو دوسرے قیدیوں کو میسر نہیں تھیں، مثلاً:

  • بہتر رہائش، خوراک، اور لباس؛
  • عیش و آرام کی اشیا، جیسے شراب اور سگریٹ تک رسائی؛
  • کیمپ کی خبروں اور معلومات تک رسائی؛
  • نسبتاً کم جسمانی مشقت والا کام؛ اور
  • جسمانی تشدد یا نقصان سے بچنے کی زیادہ صلاحیت۔

یہ مراعات اکثر قیدی اہلکاروں کے زندہ بچنے کے امکانات میں اضافہ کرتی تھیں۔ اسی لیے ان کے اپنے مفاد میں تھا کہ وہ اپنی حیثیت اور عہدہ برقرار رکھیں تاکہ یہ فوائد حاصل رہیں۔

دیگر قیدیوں کے ساتھ تعلقات اور ان کے ساتھ برتاؤ

قیدی اہلکاروں کو اس بات میں کچھ حد تک اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنی طاقت کو کس طرح استعمال کریں اور اپنے ساتھی قیدیوں کے ساتھ کیسا سلوک کریں۔ ایسے بہت سے واقعات موجود ہیں جہاں قیدی اہلکاروں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور دوسرے قیدیوں کی زندگی مزید اذیت ناک بنا دی۔ تاہم، ایسے قیدی اہلکار بھی تھے جنہوں نے دوسرے قیدیوں کی بقا میں مدد کی۔

مراعات یافتہ طبقات کے نظام کی تشکیل

بہت سے قیدی اہلکاروں نے اپنے ساتھی قیدیوں کے درمیان مراعات یافتہ افراد کے نظام قائم کر لیے تھے۔ یہ تعلقات اکثر باہمی فائدے پر مبنی ہوتے تھے۔ قیدی اہلکار بعض قیدیوں کو بہتر کام، زیادہ خوراک، یا دیگر سہولتیں دلوا سکتے تھے۔ اس کے بدلے میں یہ قیدی اہلکاروں کے لیے چھوٹے موٹے کام انجام دیتے تھے۔ عام طور پر یہ نیٹ ورک ایک ہی قسم کے قیدیوں یا ایک ہی قومیت سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان بنتے تھے۔ مثال کے طور پر، کمیونسٹ سیاسی قیدی عموماً دوسرے کمیونسٹ سیاسی قیدیوں کے ساتھ ایسے تعلقات قائم کرتے تھے۔

کیمپ کی مزاحمتی تنظیموں کی مدد کرنا

قیدی اہلکار اکثر کیمپ کی تازہ ترین معلومات سے باخبر ہوتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ کیمپ کی مزاحمتی تحریکوں میں اہم کردار ادا کر سکتے تھے۔ وہ مزاحمتی گروہوں کو وسائل تک رسائی بھی فراہم کرتے تھے۔ بوخن والڈ اور آشوٹز سمیت کئی کیمپوں میں قیدی اہلکار مزاحمتی سرگرمیوں کا ایک مرکزی حصہ تھے۔

دوسروں کا خیال رکھنا

بعض قیدی اہلکار اپنے ساتھی قیدیوں کی حفاظت اور دیکھ بھال میں مدد کرتے تھے۔ کلرک، ڈاکٹر، اور نرسیں اکثر اپنی چھوٹی یا بڑی انسانی ہمدردی کی کارروائیوں کی وجہ سے یاد کی جاتی ہیں۔

مثال کے طور پر، کلرک کسی نئے آنے والے قیدی کی ذاتی معلومات اس انداز سے درج کر سکتے تھے جس سے اس کے زندہ بچنے کے امکانات بہتر ہو جائیں۔ وہ کسی شخص کی عمر میں رد و بدل کر کے اسے اُس عمر کے دائرے میں ظاہر کر سکتے تھے جو جبری مشقت کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔ کلرک قیدیوں کو کسی ایسے ہنر یا پیشے کا حامل بھی ظاہر کر سکتے تھے جو کیمپ میں مفید سمجھا جاتا ہو۔

صفائی، ادویات، اور طبی سامان کی شدید کمی کے باوجود، قیدی ڈاکٹر اور نرسیں بیمار یا زخمی قیدیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ تکلیف کم کرنے اور جتنا ممکن ہو سکے قیدیوں کی جان بچانے کے طریقے تلاش کرتے تھے، جبکہ ساتھ ہی ایس ایس کے احکامات کی خلاف ورزی سے بھی بچنے کی کوشش کرتے تھے۔

قیدیوں پر ظلم و ستم اور ان کا قتل

کاپوؤں اور بلاک کے بزرگوں کے لیے اپنے ماتحت قیدیوں کو مارنا پیٹنا اور سزا دینا ان کی ذمہ داریوں کا حصہ تھا۔ باہمی تشدد کیمپ کی روزمرہ زندگی کا معمول تھا۔ ایس ایس اسی کی توقع رکھتی تھی۔ زیادہ تر قیدی اہلکار ایس ایس کی توقعات پر پورا اترتے تھے۔ وہ ان قیدیوں کو مارتے تھے جو قواعد کی خلاف ورزی کرتے یا اپنا کام انجام دینے سے قاصر رہتے تھے۔

بعض قیدی اہلکار اپنی سادیستی اور ظالمانہ سفاکی کی وجہ سے بدنام ہو گئے۔ کئی اپنے ساتھ کوڑے یا لاٹھیاں رکھتے تھے، جنہیں وہ اپنے زیرِ نگرانی قیدیوں پر استعمال کرتے تھے۔ ایسے بے شمار واقعات موجود ہیں جن میں قیدی اہلکاروں نے اپنی سرکاری ذمہ داریوں کے دوران دوسرے قیدیوں کو قتل کیا۔ اسی طرح قیدی اہلکاروں کی جانب سے قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور بدسلوکی کے بھی متعدد واقعات ملتے ہیں۔

جنگ کے بعد قیدی اہلکاروں کو سزا دینا

دوسری جنگِ عظیم کے بعد قیدی اہلکاروں کی ایک چھوٹی تعداد کو سزا دی گئی۔ بعض اوقات سابق قیدی اہلکاروں اور اُن قیدیوں کے درمیان براہِ راست تصادم بھی ہوا جنہوں نے ان کے رویّے اور اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ ان میں سے کئی واقعات میں سابق قیدیوں نے انتقامی کارروائیوں کے طور پر، بغیر کسی قانونی عمل کے، قیدی اہلکاروں کو قتل کر دیا۔ دیگر معاملات میں سابق قیدیوں نے قیدی اہلکاروں کی نشاندہی اتحادی طاقتوں یا متعلقہ حکام کو کی۔ ان میں سے بعض افراد پر اتحادی فوجی عدالتوں، یورپی عدالتوں، اور اسرائیلی عدالتوں میں جنگی جرائم کے مقدمات چلائے گئے۔ اکثر ان پر اُن کے سابق ایس ایس محافظوں کے ساتھ ہی مقدمہ قائم کیا گیا۔ تاہم، جن قیدی اہلکاروں پر مقدمات چلائے گئے، ان میں سے سب کو مجرم قرار نہیں دیا گیا۔

Former kapo Emil Erwin Mahl on trial

ڈاخاؤ جنگی جرائم کے مقدمات کے دوران استغاثہ کا ایک گواہ ملزم اور سابق کاپو ایمل ارون ماہل کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ ماہل نے سوٹ کی جیکٹ کے نیچے قیدیوں والی وردی پہن رکھی ہے۔ جرمنی، 1945۔

ماہل کو 1940 میں ایک قیدی کے طور پر ڈاخاؤ حراستی کیمپ  بھیجا گیا تھا۔ وہاں رہتے ہوئے وہ ایک “کاپو” بن گیا۔ کاپو ایسے قیدی ہوتے تھے جنہیں حراستی کیمپوں میں دوسرے قیدیوں کی نگرانی کے لیے منتخب کیا جاتا تھا، خصوصاً جب وہ جبری مشقت پر مامور ہوتے تھے۔ ماہل کیمپ کی میت سوزی کی بھٹی میں کام کرتا تھا اور پھانسیوں اور قتل کی کارروائیوں میں بھی شریک رہا۔

ڈاخاؤ میں اپنے اعمال کے باعث اسے جنگی جرائم کا مجرم قرار دیا گیا اور سزائے موت سنائی گئی۔ بعد ازاں اس کی سزا کم کر کے 15 سال قید کر دی گئی۔

کریڈٹس:
  • US Holocaust Memorial Museum, courtesy of Leslie Urch

جنگ کے بعد کی یادداشتوں میں کاپو اور دیگر قیدی اہلکار

کاپو اور دیگر قیدی اہلکار اکثر زندہ بچ جانے والوں کی یادداشتوں اور گواہیوں میں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ بہت سے متاثرین نے قیدی اہلکاروں کے مختلف رویّوں کا ذکر کیا ہے جن کا انہیں سامنا کرنا پڑا۔ وہ ظلم، تشدد، اور قتل کی داستانیں بھی بیان کرتے ہیں، اور ساتھ ہی مدد اور نجات کے واقعات بھی۔ نوبیل انعام یافتہ ایلی ویزل نے اپنی معروف یادداشت ’’نائیٹ‘‘ میں بیان کیا ہے کہ ایک کاپو نے ان کے ساتھ کس طرح بدسلوکی کی۔

’’دی گری زون‘‘ کے عنوان سے اپنے ایک مضمون میں آشوٹز سے زندہ بچ جانے والے پرائیمو لیوی نے وضاحت کی ہے کہ قیدی اہلکار ایک اخلاقی طور پر مبہم دائرے میں موجود تھے۔ وہ لکھتے ہیں:

لیگروں [کیمپوں] کے اندر انسانی تعلقات کا جال سادہ نہیں تھا؛ اسے صرف دو گروہوں، مظلوموں اور ظالموں، تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ قیدی اہلکاروں کا یہ مخلوط طبقہ ایک ’سرمئی خطہ‘ تھا، جس کی حدود واضح نہیں تھیں، اور جو حاکموں اور محکوموں کے دو طبقات کو ایک طرف جدا بھی کرتا تھا اور دوسری طرف جوڑتا بھی تھا۔

اپنے مضمون میں پرائیمو لیوی ایسے انتہائی جبر اور خوف کے حالات میں لوگوں کے رویّوں پر اخلاقی فیصلے صادر کرنے سے احتیاط برتنے کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ قارئین کو یاد دلاتے ہیں کہ ’’سب سے بڑی ذمہ داری اُس نظام پر عائد ہوتی ہے، یعنی مطلق العنان ریاست کے پورے ڈھانچے پر۔‘‘

نازی حراستی کیمپوں کے نظام میں تمام قیدی، بشمول قیدی اہلکاروں کے، ذلت، انسانیت سوز سلوک، اور شدید ظلم و بربریت کا شکار تھے۔ اس غیر انسانی ماحول میں بہت سے لوگ محض زندہ رہنے کی کوشش کر رہے تھے۔

Thank you for supporting our work

We would like to thank Crown Family Philanthropies, Abe and Ida Cooper Foundation, the Claims Conference, EVZ, and BMF for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.

گلاسری