<p>خار دار تاروں کی باڑ کا منظر جو کراکاؤ کی یہودی بستی کے ایک حصے کو شہر کے باقی حصوں سے الگ کرتی تھی۔ کراکاؤ، پولینڈ، تاریخ نامعلوم۔</p>

"حتمی حل"

"حتمی حل"، یعنی نازیوں کے یہودیوں کو ختم کرنے کے منصوبے کی شروعات کے بارے میں کوئی یقین سے نہيں کہہ سکتا ہے۔ جو واضح ہے وہ یہ ہے کہ یہودیوں کی نسل کشی ایڈولف ہٹلر کے اقتدار کے تحت نازی پالیسی کے دس سال کی مدت کا نتیجہ تھا۔ "حتمی حل" کو مختلف مراحل میں نافذ کیا گیا تھا۔ نازی پارٹی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد حکومت کے جانب سے نافذ کردہ نسل پرستی کے نتیجے میں یہودیوں کے خلاف قوانین پر عملدرآمد کیا گیا، بائکاٹ کروائے گئے، "آرین بنانے" کا عمل ہوا اور آخر میں "ٹوٹے ہوئے شیشوں کی رات" کا پوگروم ہوا۔ ان سب کا مقصد جرمن معاشرے سے یہودیوں کو ختم کرنا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کی ابتداء کے بعد یہودیوں کی مخالفت کی پالیسی نے یورپ کے یہودیوں کو ایک جگہ جمع کر کے اُنہیں ختم کرنے کے ایک جامع مقصد کی شکل اختیار کرلی۔

نازیوں نے مقبوضہ پولینڈ میں یہودی بستیاں قائم کی۔ پولینڈ اور مشرقی یورپ کے یہودیوں کو جلاوطن کر کے ان یہودی بستیوں میں بھیج دیا گيا۔ 1941 میں سوویت یونین پر جرمنی کے حملے کے دوران گشتی قاتل یونٹوں (آئن سیٹذ گروپن) نے تمام یہودی برادریوں کو قتل کرنا شروع کردیا۔ اس کیلئے زیادہ تر گولیوں یا گیس کے ذریعے ہلاک کرنے والی وین کا استعمال کیا جاتا تھا، لیکن جلد ہی انہيں غیرموئثر اور قاتلوں پر ایک نفسیاتی بوجھ سمجھا جانے لگا۔

جنوری 1942 میں وانسی کانفرنس کے بعد نازيوں نے یورپ بھر سے یہودیوں کو باقاعدہ طریقے سے چھ حراستی کیمپوں میں جلاوطن کردیا۔ یہ کیمپ چیلمنو، بیلزیک، سوبیبور، ٹریبلنکا، آش وٹز - برکیناؤ اور مجڈانک تھے جو پہلے پولینڈ کا حصہ تھے۔ حراستی کیمپ قتل کے مراکز تھے جنہيں نسل کشی کے لئے بنایا گيا تھا۔ تقریبا تین ملین یہودیوں کو ان قتل گاہوں میں گیس کے ذریعے ہلاک کردیا گیا۔

"حتمی حل" مکمل طور پر گیس اور گولیوں سے ہلاک کرنے، دہشت گردی کے بے ترتیب اقدامات، بیماری اور بھوک پر مشتمل تھا جس میں تقریبا ساٹھ لاکھ یہودی یعنی یورپ کے یہودیوں کے دو تہائی موت کا شکار ہو گئے۔

اہم تواریخ

22 جون 1941
سوویت یونین پر جرمنی کے حملے کے دوران قاتل اسکواڈ ہمراہ آئے

سوویت یونین پر حملے کے دوران یہودیوں کو مارنے کے لئے جرمن گشتی قاتل ٹیمیں متعین کی گئيں جنہيں اسپیشل ڈیوٹی یونٹ (آئن سیٹزگروپن) کہا جاتا تھا۔ جیسے جیسے جرمن فوج سوویت یونین کے اندر دور تک بڑھتی گئي، یہ ٹیمیں اس کے پیچھے آتيں اور قتل عام کے اقدامات انجام دیتی تھیں۔ سب سے پہلے گشتی قاتل اسکواڈ خاص طور پر یہودی مردوں کو گولی مار دیتے تھے۔ لیکن جلد ہی جہاں جہاں یہ گشتی قاتل ٹیمیں گئيں، انہوں نے بلا لحاظ عمر یا جنس کے تمام یہودی مرد، عورتوں اور بچوں کو گولی مار دی۔ 1943 کے موسم بہار تک گشتی قاتل ٹیموں نے دس لاکھ سے زیادہ یہودی اور ھزاروں حامیوں، روما (خانہ بدوشوں) اور سوویت یونین کے سیاسی افسران کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

8 دسمبر 1941
پہلی قتل گاہ میں کام کا آغاز ہوتا ہے

چیلمنو کی قتل گاہ کام شروع کر دیتی ہے۔ بعد میں نازيوں نے ایسے ہی پانچ اور کیمپ قائم کئے: بیلزک، سوبیبور، ٹریبلنکا، آش وٹز- برکیناؤ (جو آش وٹز کمپلیکس کا حصہ تھا) اورمجدانیک۔ چیلمنو میں لوگوں کو گیس کی وینوں میں مارا جاتا تھا (یہ ہوا بند ٹرک تھے جن کے انجنوں کے ایکزھاسٹ کو رخ موڑ کر اندرونی حصے کی طرف کر دیا گيا تھا)۔ بیلزک، سوبیبار اور ٹریبلنکا کیمپوں میں گیس کے چیمبروں سے منسلک ساکن انجنوں کے ذریعے کاربن مونوآکسائڈ گیس استعمال کی جاتی تھی۔ سب سے بڑے قتل کے مرکز، آش وٹز میں چار بڑے گیس کے چیمبر تھے، جہاں زائکلون بی (کرسٹل کی شکل میں ہائیڈروجن سائینائڈ) استعمال کیا جاتا تھا۔ مجدانیک میں کاربن مونوآکسائڈ اور زائکلون بی دونوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ "حتمی حل" میں قتل کے مراکز کے گیس چیمبروں میں کئی ،لین یہودی مارے گئے۔

20 جنوری 1942
وانسی کانفرنس اور "حتمی حل"

وانسی کانفرانس میں ایس ایس (نازی حکومت کی ایلیٹ گارڈ) اور جرمن حکومتی ایجنسیوں کے مابین ملاقات برلن میں شروع ہوئی۔ انہوں نے "حتمی حل" کے نفاذ کے بارے میں بات چیت کی اوراس پر عملدرآمد کو مربوط بنایا جو پہلے سے جاری تھا۔ وانسی میں ایس ایس نے اندازہ لگایا گہ "حتمی حل" میں یورپ کے 11 ملین یہودی شامل ہوں گے جن میں آئرلینڈ، سویڈن، ترکی اور برظانیہ جیسے غیرمقبوضہ ممالک کے یہودی بھی شامل تھے۔ 1941 کے موسم خزاں اور 1944 کے موسم خزاں کے درمیان جرمن ریلوے کئی ملین یہودیوں کو مقبوضہ پولینڈ میں قتل کے مراکز میں موت کی جانب لے

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.