<p>ایک چارٹ جس کا عنوان ہے: "نسل سے متعلق نیورمبرگ قوانین"چارٹ میں مختلف کالموں میں یہ تفصیل دی گئی ہےـ "جرمن خون"، "مشلنگ 2 گریڈ"(نصف صحیح النسل 2 گریڈ)، "مشلنگ 1 گریڈ" (نصف صحیح النسل 1 گریڈ) اور "یہودی"۔</p>

نیورمبرگ کے نسلی قوانین

1935 میں منعقد ہونے والی نازیوں کی سالانہ ریلی میں نازیوں نے نئے قوانین کا اعلان کیا جن کے تحت نازی نظریے میں رائج نسلی نظریوں کو منظم کر دیا گیا۔ ان قوانین کے تحت جرمنی میں یہودیوں کی رائخ کی شہریت منسوخ کردی گئی اور انہیں "جرمن یا متعلقہ خون" رکھنے والے افراد سے شادی کرنے یا جنسی تعلقات قائم رکھنے پر پاپندیاں عائد کردی گئيں۔ ان قوانین کے ضمنی فرمانوں کے تحت یہودیوں سے ووٹ ڈالنے کے حقوق چھین لئے گئے اور انہیں بیشتر سیاسی حقوق سے محروم کردیا گيا۔

ان قوانین میں جو نیورمبرگ کے قوانین کے نام سے مشہور ہوگئے۔ "یہودی" کی تعریف ایک ایسے شخص کے طور پر نہیں کی گئی جو کسی مخصوص مذہب کی پیروی کرتا ہو۔ اس کے بجائے ایک ایسے شخص کو یہودی قرار دیا گیا جس کے دادا، دادی، نانا یا نانی میں سے تین یا چار افراد یہودی ہوں، اس بات سے قطع نظر کہ وہ شخص اپنے آپ کو یہودی مانتا ہو یا نہيں، یا وہ یہودیوں کی مذہبی برادری میں شامل ہو یا نہيں۔ ایسے کئی جرمن جنہوں نے سالوں سے یہودی مذہب پر عملدرآمد نہ کیا ہو وہ نازی دہشت گردی کی پکڑ میں آ گئے۔ دادا، دادی، نانا یا نانی یہودی ہونے کی وجہ سے عیسائی مذہب قبول کرنے والے افراد کو بھی یہودی کے طور پر بیان کیا گيا۔
نیورمبرگ کے کچھ عرصے بعد اور برلن میں منعقد ہونے والے 1936 کے اولمپک کھیلوں سے پہلے اور اس کے دوران کے چند ہفتوں میں نازی حکومت نے اپنے سام دشمن حملوں میں میانہ روی اختیار کرنے، یہاں تک کہ عوامی جگہوں سے "یہودیوں کا یہاں آنا پسند نہیں کیا جاتا ہے" جیسے چند نوٹس بھی اتار دئے گئے۔ ہٹلر اپنی حکومت کے خلاف بین الاقوامی تنقید کی وجہ سے کھیلوں کی کسی دوسرے ملک میں منتقلی نہيں چاہتا تھا۔ یہ بات جرمن ‏عزت و وقار پر ایک بہت سنگین ضرب ہوتی۔

اولمپک کھیلوں کے بعد (جس میں نازیوں نے جرمنی کے یہودی کھلاڑیوں کو شرکت کرنے کی اجازت نہيں دی تھی)، نازیوں نے جرمنی کے یہودیوں کے خلاف خوف و ہراس دوبارہ بڑھا دیا۔ 1937 اور 1939 میں حکومت نے یہودیوں کو مفلسی میں غرق کر دینے کی کوشش میں ان کے لئے اپنی جائداد کو رجسٹر کرانا ضروری بنا دیا اور پھر یہودی کاروباروں کو "آرین بنانے" کا عمل شروع کردیا۔ اس کے نتیجے میں یہودی کارکنان اور منیجروں کو برطرف کرکے زیادہ تر یہودی کاروباروں کو غیریہودیوں کو کوڑیوں کے مول فروخت کردیا گیا۔ یہودی ڈاکٹروں کو غیریہودیوں کا علاج کرنے کی ممانعت کردی گئی اور یہودی وکلاء کو وکالت کرنے کی اجازت نہیں رہی۔

جرمنی میں رہنے والے دوسرے افراد کی طرح یہودیوں کے لئے شناختی کارڈ رکھنا ضروری ہوگیا۔ لیکن حکومت نے ان کے شناختی کارڈوں پر شناخت کے لئے خاص نشانات کا اضافہ کردیا: ان پر لال سیاہی سے ایک "جے" کا ٹھپہ لگا گیا اور قابل پہچان "یہودی" نام نہ رکھنے والے یہودیوں کے لئے نئے درمیانی ناموں کا اضافہ کیا گیا - مردوں کے لئے "اسرائيل" اور عورتوں کے لئے "سارہ" کا اضافہ کرنے کیا حکم دیا گیا۔ پولیس ایسے کارڈوں کی وجہ سے یہودیوں کی زيادہ آسانی سے شناخت کرسکتی تھی۔

اہم تواریخ

15 ستمبر 1935
نیورمبرگ کے قوانین نافذ کئے گئے

اپنی پارٹی کی سالانہ ریلی کے دوران نازیوں نے نئے قوانیین کا اعلان کیا جن کے تحت یہودیوں کی رائخ کی شہریت کو منسوخ کردیا گيا اور یہودیوں کے "جرمن یا متعلقہ خون" رکھنے والے افراد کے ساتھ شادی کرنے یا جنسی تعلقات قائم کرنے پر پابندی عائد ہوگئی۔ اس کو "نسلی بدنامی" کا نام دیا گيا، اور اس کو ایک سنگین جرم قرار دے دیا گیا۔ نیورمبرگ قوانین کے مطابق ایک ایسے شخص کو "یہودی" قرار دیا گیا جس کے دادی، دادا، نانی یا نانا میں سے تین یا پھر چاروں افراد یہودی ہوں۔ اس کے نتیجے میں، نازیوں نے ایسے ہزاروں افراد کو یہودی قرار دے دیا جنہوں نے کوئی دوسرا مذہب قبول کرلیا ہو۔ ان میں ایسے رومن کیتھلک پادری، راہبائيں اور پروٹسٹنٹ پادری بھی شامل تھے جن کے دادا دادی یا پھر نانا نانی یہودی تھے۔

18 اکتوبر 1935
شادی کے نئے ضابطے نافذ کردئے گئے

"جرمن قوم کی جینیاتی صحت کے تحفظ کے قانون" کے تحت شادی کے خواہاں تمام افراد کے لئے شادی کرنے کے لئے عوامی صحت کے حکام سے صحت یابی کا توثیق نامہ حاصل کرنا ضروری ہوگیا۔ "جینیاتی امراض" اور چھوت کی بیماریوں سے دوچار افراد اور نیورمبرگ کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو یہ تو‎ثیق نامے نہيں ديئے جاتے تھے۔

14 نومبر 1935
نیورمبرگ قانون کے اطلاق کا دائرہ وسیع کر کے دیگر گروپوں کو بھی شامل کر لیا گیا

نیورمبرگ قوانین کے پہلے اضافی حکم نامے کے تحت ان افراد کے درمیان بھی شادی یا جنسی تعلقات پر پابندی عائد کردی گئی جن کے بارے میں امکان ہو کہ وہ "نسلی طور پر مشکوک" اولاد پیدا کریں گے۔ ایک ہفتے کے بعد وزیر داخلہ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مراد "جرمن یا متعلقہ خون رکھنے والے افراد" اور روما (خانہ بدوش)، افریقی یا ان کی اولادوں کے درمیان تعلقات ہے۔

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.