آئزک سیلیشٹز

آئزک سیلیشٹز

پیدا ہوا: 1882

ڈوباس, پولینڈ

آئزک ڈوباس میں مذہبی یہودی والدین کے گھر پیدا ہونے والے سات بچوں میں سے ایک تھے۔ 1900 تک اس کے تمام بہن بھائی ہجرت کر کے امریکہ جا چکے تھے؛ آئزک اپنے مذہبی عقائد کی وجہ سے پولینڈ میں ہی رہ گئے۔ اُن کے والدین نے اٹھارہ سال کی عمر میں اُن کی شادی ایسٹر برل سے کروادی۔ وہ ڈوباس کے قریب کولبسزووا نامی ایک قصبے میں رہنے لگے جہاں آئزک ایک کامیاب کریانے کی دکانے چلاتے تھے۔

1933-39: 9 ستمبر 1939 کو جرمن فوج نے ڈوباس پر قبضہ کیا۔ انہوں نے دوسرے یہودیوں کو سبق سکھانے کے لئے دو یہودیوں کو پھانسی پر چڑھا دیا۔ آئزک کا کاروبار تھم گیا؛ اس کیلئے سامان کی شپ منٹ حاصل کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ جب جرمنوں کو غلط طور پر شک ہوا کہ وہ کافی بینز چھپا رہے ہیں تو اُن کے لئے صورت حال اور بھی خراب ہو گئی۔ جرمن فوجی آئزک کی دکان پر پہنچ گئے اور اُن کا تمام سامان ضبط کر لیا۔

1940-42: جسٹاپو کمانڈنٹ نے تمام مذہبی یہودیوں کو داڑھی کاٹنے کا حکم دے دیا۔ زندگی بھر آئيزک نے کبھی اپنی داڑھی نہیں منڈھوائی تھی – یہ یہودی قانون کے خلاف تھا۔ جیسے نائی اس کی داڑھی کاٹتا رہا، وہ چپ چاپ وہاں بیٹھے رہے، اُنہیں لگ رہا تھا جیسے اُن کی جان جا رہی تھی۔ ایک دوپہر جسٹاپو اسے لینے کے لئے آ پہنچی۔ انہوں نے دروازہ پیٹا اور آئزک چھپنے کے لئے گھر کی پچھلی طرف بھاگے لیکن پکڑے گئے۔ اُنہیں ایک اصطبل میں لے جایا گيا اور اُن پر دو دفعہ گولی چلائی گئی۔ زخمی حال میں آئزک چلا اٹھے "سور، جلاد! بدلہ لو! بدلہ لو!"

آئزک پر پانچ بار اور گولی چلائی گئی اور وہ جاں بحق ہو گئے۔ وہ 28 اپریل 1942 کو قتل ہونے والے 22 یہودی آدمیوں میں سے ایک تھے۔ آئزک کے دو بیٹوں نے اُنہیں کولبسزووا کے ایک قبرستان میں اُن کے والد کی قبر کے ساتھ دفنا دیا۔