جوزف گانی

جوزف گانی

پیدا ہوا: 1926

پریویزا, یونان

جوزف اور اُن کے گھر والے آیونین سمندر کے کنارے واقع پرویزا نامی قصبے میں رہتے تھے جس میں یہودیوں کی تعداد 300 کے قریب تھی۔ جوزف کے والد کی کپڑے کی چھوٹی دکان تھی۔ گانی خاندان رومینیئٹ نسل سے تھا۔ یہ وہ یہودی تھے جن کے آباواجداد ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک یونان اور بالکن ریاستوں میں رہتے آئے تھے۔

1933-39: جوزف پریویزا میں ایک یونانی سرکاری اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اُنہیں مذہبی تعلیم بھی دلوائي گئی؛ مقامی ربی یہودی طلباء کو مذہبی تعلیم دینے کے لئے ہفتے میں کئی گھنٹے سرکاری اسکول آیا کرتے تھے۔ جوزف کو کھیلوں کا بہت شوق تھا، خاص طور پر ساکر اور بیس بال کا۔

1940-44: جرمنی نے 1941 میں یونان پر حملہ کیا اور 1943 میں خراں کے موسم میں پریویزا کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ پریویزا کے یہودیوں کو مارچ 1944 میں جلاوطن کر کے آشوٹز بھیج دیا گیا۔ وہاں جوزف کو برکناؤ کے سونڈرکمانڈو کے کام پر مامور کیا گیا۔ یہ کام کا ایک یونٹ تھا جس کی ذمہ داری لاشوں کو لاش بھٹی تک لے جانا تھا۔ 7 اکتوبر 1944 کو لاش بھٹی چار میں کام کرنے والے سونڈرکمانڈو کے کارکنوں نے بغاوت کر دی، ایس ایس گارڈ سے ان کا اسلحہ لے لیا اور لاش بھٹی کو دھماکے سے اڑا دیا۔ کچھ ہی دیر میں سونڈرکمانڈو کے دوسرے کارکن، جن میں جوزف بھی شامل تھے، بغاوت میں شامل ہو گئے۔

جوزف اکتوبر 1944 میں برکناؤ میں مارے گئے۔ اُن کی عمر 18 سال تھی۔