ذاتی تاریخ

ابراھیم بومبا ٹریبلنکا میں خواتین کو گیس کے ذریعے ہلاک کرنے سے پہلے اُن کے بال کاٹے جانے کے بارے میں بتاتے ہیں

ابراھیم کی پرورش پولینڈ کے شہر چینتیکووا میں ہوئی اور اُنہوں نے حجام کا پیشہ اختیار کیا۔ اُنہیں اور اُن کے خاندان کو 1942 میں چینتیکووا یہودی بستی سے ٹریبلنکا کیمپ کی قتل گاہ پہنچا دیا گیا۔ ٹریبلنکا میں ابراھیم کو جبری مشقت کے لئے منتخب کیا گیا۔ اُنہیں عورتوں کو گیس کے ذریعے ہلاک کئے جانے سے پہلے اُن کے بال کاٹنے پر مجبور کیا گیا۔ اِس کے علاوہ اُنہیں وہاں پہنچنے والی گاڑیوں سے کپڑے چھانٹنے پر معمور کیا گیا۔ ابراھیم 1943 میں کیمپ سے فرار ہو کر واپس چینتیکووا پہنچ گئے۔ اُنہوں نے جون 1943 سے اُس وقت تک ایک مزدور کیمپ میں کام کیا جب تک کہ اُس کیمپ کو 1945 میں سوویت فوجیوں نے آزاد کرا لیا۔

مکمل نقل

ہمارے پاس قینچیاں تھیں۔ ہم نے ان کے بالوں کو پکڑا اور اُن کو کاٹ دیا۔ ہم بالوں کو نیچے فرش پر ایک طرف پھینکتے گئے اور تقریبا دو منٹ میں ہمیں یہ کام ختم کرنا تھا۔ بلکہ دو منٹ بھی نہیں لگتے تھے کیونکہ بال کٹوانے والی عورتوں کی لائن لگی ہوئی تھی۔ اور اس طرح ہم نے یہ کام کیا۔ اندر سے یہ عمل نہایت ہی دردناک تھا۔ یہ واقعی بہت دردناک تھا کیونکہ کچھ حجاموں نے بال کٹوانے والی عورتوں میں سے بیویوں، ماؤں حتٰی کہ نانیوں دادیوں جیسے اپنے پیاروں کو پہچان لیا۔ کیا آپ اس بات کا تصور کرسکتے ہیں کہ آپ کو انکے بال کاٹنے ہیں اور ان سے ایک لفظ بھی نہیں کہنا ہے کیوں کہ آپ کو اس کی اجازت نہیں ہے؟ اگر آپ ان سے ایک لفظ بھی کہتے کہ انکو پانچ سات منٹ کے بعد گیس سے ہلاک کر دیا جائے گا تو وہاں بھگدڑ مچ جاتی اور پھر خود اُنہیں بھی ہلاک کر دیا جاتا۔


ٹیگ


  • US Holocaust Memorial Museum Collection
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

شیئر کریں

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.