ذاتی تاریخ

چیم اینگیل سوبی بور میں بغاوت کی پلاننگ کے بارے میں بتاتے ہیں

1939 میں جب پولینڈ کی فوج میں چیم کی تعیناتی کی مدت ختم ہونے والی تھی تو جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کردیا۔ جرمنوں نے چیم کو گرفتار کر لیا اور اُنہیں جبری مشقت کیلئے جرمنی بھیج دیا۔ بطور ایک یہودی جنگی قیدی کے چیم بعد میں پولینڈ واپس آ گئے۔ بالآخر اُنہیں سوبی بور کیمپ پہنچا دیا گیا جہاں اُن کے خاندان کے باقی افراد انتقال کر گئے۔ 1943 میں سوبی بور میں ہونے والی بغاوت کے دوران چیم نے ایک گارڈ کو قتل کردیا۔ وہ اپنی دوست سیلما کے ساتھ بچ کے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے اور بعد میں اُنہوں نے سیلما سے شادی کر لی۔ ایک کسان نے ان کو سوویت فوجیوں کے جون 1944 میں آزاد کرانے تک اپنے پاس چھپائے رکھا۔

مکمل نقل

ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم چار بجے اس طرح سے بغاوت شروع کریں گے: ہر گروپ کا کام کچھ یوں تھا جیسے کہ مثال کے طور پر کپڑے چھانٹتے ہوئے ہمیں ان جرمن لوگوں کو ختم کرنا تھا جو ہمارے نگراں تھے۔ وہ ہماری نگرانی کرتے تھے۔۔۔ اور ہر گروپ کو مختلف طریقوں سے جو کام کرنا تھا وہ یہ کہ وہاں پر موجود دو یا تین جرمنوں کو ٹھکانے لگانا تھا اوران پر نظر رکھنی تھی کہ وہ لوگ کیا کررہے ہیں۔ لہذا ہم نے فیصلہ کیا کہ ہر گروپ سے دو افراد کو مقرر کریں اور یہ لوگ ان جرمنوں کو کسی بہانے سے گودام میں یا کسی اور جگہ لے جائیں اور چاقو یا کلہاڑی سے قتل کردیں اور یہ عمل اس طرح انجام دیں کہ کچھ بھی پتہ نہ چلے۔ اسی دوران بجلی کے تاروں کو بھی کاٹ دیں۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ہمیں یہ کام اس وقت انجام دینا چاہیئے تھا جب [ایس۔ ایس سارجنٹ گستاو] ویگنر چھٹی پر ہو تاکہ اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے میں کچھ آسانی ہو۔ اور ایسا ہی ہوا۔۔۔ ہم لوگ گروپ میں اس طرح کام کرنے کے لئے مقرر کرديئے گئے۔ ہم جن بیروکوں میں رہتے تھے ان میں ایک سنار، ایک درزی اورایک جوتا ساز بھی تھے جو ان لوگوں کے لئے کپڑے اور جوتے بنایا کرتے تھے۔ اِس کا مطلب یہ تھا کہ ان لوگوں کو ماپ دینے کے لئے آنا پڑتا تھا۔ لہذا وہ لوگ اُن سے کہتے " فلاں دن ہم آپ کا ماپ لیں گے۔ لہذا آپ اس دن آئیں اور میں آپ کے جوتے یا آپ کے کپڑے کا ماپ لے لوں گا۔" اور جب وہ لوگ آئے تو وہاں ہمارے لوگ چاقوؤں اور کلہاڑیوں کے ساتھ پہلے سے ہی لیس ہوتے۔ وہ لوگ پردے یا کسی چیز کے پیچھے چھپے ہوتے تھے اور جونہی وہ وہاں آتے وہ اُنہیں قتل کر دیتے۔ جب وہ ماپ دینے وہاں پہنچتے تو وہ لوگ ان پر ٹوٹ پڑتے اور ان کو قتل کر دیتے۔ پھر ان کو کسی ایسی جگہ چھپا دیا جاتا جہاں ان کو کوئی بھی دیکھ نہ سکے اور یہ سارا کام اس طرح انجام پاتا کہ کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوتی جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہ ہو۔


ٹیگ


  • US Holocaust Memorial Museum Collection
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

شیئر کریں

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.