ذاتی تاریخ

گرڈا وائزمین کلائین چیکوسلواکیہ میں موت کے مارچ کے بعد ایک امریکی فوجی کی مدد سے آزادی حاصل کرنے کی تفصیل بتاتی ہیں

1939 میں گرڈا کے بھائی کو جبری مشقت کے لئے جلاوطن کردیا گیا۔ جون 1942 میں گرڈا کے خاندان کو بیلسکو یہودی بستی سے جلاوطن کیا گيا۔ اُن کے والدین کو آشوٹز کیمپ میں بھیجا گیا جبکہ گرڈا کو گراس روزن کیمپ سسٹم میں بھیج دیا گیا جہاں اُنہوں نے جنگ کے باقی عرصے کے دوران ٹکسٹائل فیکٹریوں میں جبری مشقت کی۔ گرڈا کو موت کے ایک مارچ کے بعد آزاد کرایا گیا۔ وہ لمبے برفانی جوتے پہننے ہوئے تھیں جس کیلئے اُن کے والد کا اصرار تھا کہ وہ اُنہیں زندہ رہنے میں مدد دیں گے۔

مکمل نقل

اچانک میں نے دیکھا کہ ایک اجنبی کار چڑہائی کی طرف سے نیچے آ رہی ہے جو نہ تو ہرے رنگ کی تھی اور نہ ہی اس پر نازی نشان تھا۔ بلکہ اس پر سفید ستارہ بنا ہوا تھا۔ گاڑی کیچڑ سے اٹی ہوئی تھی لیکن میں نے زندگي میں اس پر لگے ستارے سے زیادہ چمکتا ہوا ستارہ نہیں دیکھا تھا۔ اُس گاڑی میں سے دو آدمی کود کر باہر آئے۔ وہ دوڑتے ہوئے ہماری جانب آئے۔ اُن میں سے ایک اُس طرف آّیا جہاں میں کھڑی تھی۔ وہ جنگي لباس پہنے ہوا تھا۔ مجھے سوچنا پڑے گا۔۔۔ وہ جنگی ٹوپی اور دھوپ کا چشمہ پہنے ہوئے تھا۔ اس نے مجھ سے جرمن زبان میں بات کی۔ اس نے کہا "کیا یہاں کوئی جرمن یا انگریزی زبان میں بات کرسکتا ہے؟" اور میں نے جواب دیا،"میں جرمن زبان بول سکتی ہوں۔" میں نے محسوس کیا کہ مجھے اس سے کہنا چاہئیے تھا کہ ہم یہودی ہیں اور میں نہیں جانتی تھی آيا وہ ستارے کا مطلب سمجھتا تھا یا نہیں۔ میں نے اس کی طرف دیکھا۔ میں کچھ گھبرا رہی تھی مگر میں نے اس سے کہ دیا "ہم یہودی ہیں۔" اُس نے کچھ دیر تک مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر خود اس کی آواز اُس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ اس نے کہا، "میں بھی ہوں۔ " میرا خیال ہے کہ یہ میری زندگی کا سب سے بڑا لمحہ ہے۔ پھر اس نے ایک ناقابل یقین سوال کیا۔ اس نے کہا، "کیا میں دوسری خواتین کو دیکھ سکتا ہوں؟" آپ جانتے ہیں کہ چھ سال تک ہمیں کس طرح مخاطب کیا جاتا رہا ہے اور اب ہم اس شخص کو اس نرم لہجہ میں بات کرتے سن رہے تھے۔ وہ مجھے ایک نوجوان خدا کی مانند دکھائی دیا۔ میں آپ کو بتاؤں کہ میرا وزن 68 پاؤنڈ تھا۔ میرے بال سفید تھے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میں برسوں سے نہیں نہائی تھی اور اِس شخص نے "دوسری عورتوں کے متعلق" پوچھا۔ بہرحال میں نے اُسے بتایا کہ اکثر لڑکیاں اندر ہیں۔ وہ اتنی بیمار ہیں کہ چل نہیں سکتیں۔ "کیا آپ میرے ساتھ اندر آئیں گی؟" میں نے کہا، "ضرور۔" لیکن میں نہیں جانتی تھی کہ اس کا کیا مطلب تھا۔ اس نے میرے لئے دروازہ کھولے رکھا اور مجھے پہلے اندر جانے دیا۔ اس کے اس عمل نے مجھے میرے انسان ہونے کا دوبارہ احساس دلایا۔ اس دن کا وہ نوجوان امریکی اب میرا شوہر ہے۔


  • US Holocaust Memorial Museum Collection
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

شیئر کریں

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.