ذاتی تاریخ

آئرین ہزمے جنگ کے بعد کے فرانس میں کیتھلک یتیم خانوں کی صورتِ حال کی وضاحت کر رہی ہیں

آئرین اور اسکا جڑواں بھائی رین، رینیٹ اور رین گٹٹمین خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان جڑواں بچوں کی پیدائش کے کچھ ہی عرصے بعد یہ خاندان پراگ چلا گیا جہاں یہ لوگ اس وقت تک رہے جب جرمنی نے بوہیمیا اور موراویا پر مارچ 1939 میں قبضہ کیا۔ کچھ مہینوں کے بعد فوجی وردی میں ملبوس جرمنوں نے ان کے والد کو گرفتار کر لیا۔ کئی دہائیوں کے بعد رین اور آئرین کو معلوم ہوا کہ انکے والد کو آشوٹز کیمپ میں دسمبر 1941 میں ہلاک کردیا گيا تھا۔ رین، آئرین اور اُن کی والدہ کو تھیریسئن شٹٹ کی یہودی بستی میں پہنچایا گیا اور بعد میں آشوٹز کیمپ میں بھجوا دیا گیا۔ آشوٹز کیمپ میں ان جڑواں بچوں کو الگ کردیا گيا اور ان پر طبی تجربات کئے گئے۔ آشوٹز سے آزاد ہونے کے بعد کچھ عرصے تک آئرین اور رین الگ الگ رہے۔ آئرین کو یورپ کے متعدد یتیم خانوں میں بھیجا گيا۔ "ریسکیو چلڈرن" نامی ایک گروپ آئرین کو 1947 میں امریکہ لے آیا جہاں وہ 1950 میں رین سے دوبارہ ملیں۔

مکمل نقل

مجھے ایک بحری جہاز میں فرانس لایا گیا اور بالآخر میں فبلینیس کے یتیم خانے میں پہنچ گئی۔ یہ یتیم خانہ پیرس کے نواحی علاقہ میں ہے۔ میں وہاں سب سے کم عمر بچی تھی اور میں میریم [آئرن کی ایک دوست] کے علاوہ کسی سے بات نہیں کرتی تھی جس کی عمر میرے خیال سے مجھ سے تقریبا سات برس زیادہ تھی۔ وہ ایک لحاظ سے میرے لئے ماں کا سا درجہ رکھتی تھی کیونکہ وہ ایسی ہی تھی۔ وہ میرے لمبے گھنگریالے بالوں کا خیال رکھتی اور بہت ہی رحم دل تھی۔ دوسرے بچوں کے درمیان میں وہ تنہا بچی تھی جس کے لباس پر نمبر لگا ہوتا تھا۔ لہذا میں سوچتی تھی کہ شاید میرے ساتھ کچھ گڑ بڑ ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ میں نے کوئی بہت ہی خوفناک کام کیا ہے اس لئے مجھے یہ نمبر دیا گيا ہے جب کہ میرے علاوہ کسی کو بھی نمبر نہیں دیا گيا۔ ان میں سے اکثر بچے کسی نہ کسی طرح چھپ کر بھاگ نکلے یا انکے والدین نے اُنہیں عارضی طور پر وہاں چھوڑ دیا اور کچھ اس کے بعد اپنے والدین سے مل گئے، کچھ کے گھر والے موجود تھے جو صرف جہاز سے کہیں اور جانے کا انتظار کررہے تھے اور وہاں صورتِ حال کچھ ایسی ہی تھی۔


  • US Holocaust Memorial Museum Collection
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

Share This