متحرک نقشہ

آشوٹز

آشوٹز کیمپ نے یورپ کے یہودیوں کو ہلاک کرنے کے نازی منصوبے "حتمی حل" میں مرکزی کردار ادا کیا۔ نازیوں نے یورپ کے ہر ملک سے یہودیوں کو جلا وطن کر کے مقبوضہ پولینڈ میں قائم آشوٹز دوم (برکیناؤ) قتل کے مرکز میں پہنچایا۔ آشوٹز میں کم سے کم 11 لاکھ یہودی اور ھزاروں دیگر افراد موت کا شکار ہوئے۔

مکمل نقل

جرمنی نے اپنی طاقت کے عروج کے وقت براعظم یورپ کے اکثر ملکوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

نازیوں نے مقبوضہ پولینڈ میں قتل کے چھ مراکز قائم کئے۔ اِن میں سب سے بڑا آشوٹز تھا جو جنگ سے قبل کی جرمن ۔پولش سرحد کے قریب کراکاؤ سے 37 میل (59 کلومیٹر) دور مغرب میں واقع تھا۔

آشوٹز کمپلکس تین بنیادی کیمپوں پر مشتمل تھا: آشوٹز ون حراستی کیمپ، آشوٹز ٹو (برکیناؤ) قتل مرکز اور آشوٹز تھری (مونووٹز) جبری مشقت کا کیمپ۔

آشوٹز کے اردگرد کے علاقے میں ذیلی کمپوں کا ایک وسیع نظام بھی قائم کیا گیااور قیدیوں کو بہت سی فیکٹریوں اور صنعتوں میں مشقت پر مجبور کیا گیا۔

سن 1942 میں نازیوں نے منظم طور پر یہودیوں کو آشوٹز جلاوطن کرنا شروع کر دیا۔ جرمن مقبوضہ یورپ کے ہر کونے سے ریل گاڑیاں ہر روز وہاں پہنچتی تھیں۔

وہاں وارد ہونے والے نئے افراد کو "انتخاب" کے مرحلے سے گزرنا پڑتا تھا جس میں ایس ایس کا عملہ بیشتر افراد کو جبری مشقت کیلئے غیر موزوں قرار دیتا تھا اور یوں اُنہیں فوری طور پر گیس چیمبروں میں بھیج دیا جاتا تھا۔

سن 1943 اور 1944 کے دوران چار بڑے گیس چیمبر اور لاشوں کی بھٹیاں آشوٹز برکیناؤ میں مسلسل چلتی رہیں۔

اکتوبر 1944 میں اُن سینکڑوں یہودی قیدیوں نے بغاوت کر دی جنہیں گیس چیمبروں سے لاشیں نکال کر بھٹیوں میں جلانے پر مجبور کیا گیا۔

اُنہوں نے لاشوں کی بھٹی نمبر چار اور اُس سے ملحقہ گیس چیمبر کو دھماکے سے تباہ کر دیا اور کئی محافظوں کو بھی ہلاک کر دیا۔

ایس ایس نے جلد ہی یہ بغاوت کچل دی، قیدیوں کو ہلاک کر دیا اور اُن چار عورتوں کو سر عام پھانسی پر لٹکا دیا جنہوں نے بغاوت میں استعمال ہونے والا بارود اسمگل کیا تھا۔

سن 1944 کے آخر میں ایس ایس کے عملے نے قیدیوں کو بقیہ گیس چیمبرون کو بارود کے ذریعے تباہ کرنے پر مجبور کیا تاکہ قتل عام کے ثبوت مٹائے جا سکیں۔

جب جنوری 1945 میں سوویت فوجوں نے پیش قدمی کی، ایس ایس نے آشوٹز کیمپوں سے 60,000 قیدیوں کو جرمنی کے اندرونی علاقوں کی جانب موت کے مارچوں پر مجبور کر دیا۔

جب سوویت فوجوں نے جنوری کے آخر میں آشوٹز کو آزاد کرایا تو وہاں صرف چند ھزار لاغر قیدی زندہ بچے تھے۔

گیارہ لاکھ سے زائد یہودیوں کے علاوہ ھزاروں مسیحی پولش افراد، روما (خانہ بدوش) اور سوویت جنگی قیدی آشوٹز میں ہلاک کر دئے گئے۔


ٹیگ


  • US Holocaust Memorial Museum

Share This