Ruth Kohn (top row, second from left) and her classmates at a school in Prague.

ہالوکاسٹ سے قبل یورپ میں یہودیوں کی زندگی

1933 میں جرمنی میں نازیوں کے اقتدار میں آنے کے وقت یہودی یورپ کے ہر ملک میں رہ رہے تھے۔ ان ممالک میں نوے لاکھ کے قریب یہودی رہتے تھے جن پر دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی کا قبضہ ہونے والا تھا۔ جنگ کے اختتام تک ان میں سے ہر تین یہودیوں میں سے دو کی موت واقع ہونے والی تھی اور یورپ میں یہودیوں کی زندگی ہمیشہ کے لئے تبدیل ہونے والی تھی۔

1933 میں یہودیوں کی سب سے بڑی تعداد مشرقی یورپ میں پائی جاتی تھی جس میں پولینڈ، سوویت یونین، ہنگری اور پولینڈ شامل تھے۔ مشرقی یورپ کے یہودی ایسے قصبوں یا دیہات میں رہا کرتے تھے جن کی بیشتر آبادی یہودیوں پر مشتمل تھی۔ ان کو شٹیٹلز کہا جاتا تھا۔ مشرقی یورپ کے یہودی اکثریتی ثقافت میں ایک اقلیت کے طور پر اپنی علیحدہ زندگی گزارتے تھے۔ ان کی اپنی یدش زبان تھی جس میں جرمن اور عبرانی زبانوں کے عناصر شامل تھے۔ وہ یدش کتابیں پڑھتے تھے اور یدش سنیما اور فلمیں دیکھا کرتے تھے۔ بڑے قصبوں میں نوجوان یہودی جدید طریقے اور لباس اپنا رہے تھے لیکن بڑی عمر کے لوگ روایتی لباس پہنتے تھے۔ مرد ٹوپیاں پہنتے تھے اور عورتیں رومال یا وگ سے سر ڈھانپتی تھیں۔

اس کے برعکس جرمنی، فرانس، اٹلی، نیدر لینڈ اور بیلجیم جیسے مشرقی یورپ کے ممالک کی آبادی میں یہودیوں کی تعداد کافی کم تھی اور وہ اپنے غیریہودی پڑوسیوں کی ثقافت اپناتے تھے۔ وہ اپنے ہم وطنوں کا لباس پہنتے تھے اور ان کی زبان بولتے تھے۔ ان کی زندگیوں میں مذہبی روایات اور یدش ثقافت کا کردار اتنا اہم نہيں تھا۔ وہ مشرقی یورپ کے یہودیوں کے مقابلے میں زیادہ تعلیم یافتہ تھے اور قصبوں یا شہروں میں رہتے تھے۔

یہودی زندگی کے ہر شعبے میں پائے جاتے تھے۔ وہ کاشت کار، درزی یا درزن، فیکٹری میں مزدور، اکاؤنٹینٹ، ڈاکٹر، استاد اور چھوٹے کاروباروں کے مالک تھے۔ کچھ خاندان امیر تھے؛ ان سے کہیں زیادہ لوگ غریب تھے۔ کئی بچے پڑھائی جلدی ختم کرکے کسی پیشے میں لگ جاتے تھے۔ دوسرے یونیورسٹی جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھتے تھے۔ اپنے تمام اختلافات کے باوجود وہ ایک لحاظ سے بالکل یکساں تھے: 1930 کی دہائی تک جرمنی میں نازیوں کے اقتدار کے عراج کے ساتھ وہ سب ہی ممکنہ ہدف بن گئے اور ان کی زندگیاں ہمیشہ کے لئے بدل گئيں۔

Thank you for supporting our work

We would like to thank Crown Family Philanthropies, Abe and Ida Cooper Foundation, the Claims Conference, EVZ, and BMF for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.

گلاسری