Oskar Schindler standing (second from right) with some of the people he rescued. [LCID: 03411]

بچاؤ اور مزاحمت

کچھ یہودی جرمنی کے مقبوضہ یورپ سے فرار ہو کر یا چھپ کر "حتمی حل" یعنی یورپ کے یہودیوں کو قتل کرنے کے نازی کے منصوبے سے زندہ بچ گئے۔ زيادہ تر غیریہودیوں نے "حتمی حل" میں نہ تو مدد کی اور نہ ہی اس میں مداخلت کی۔ بہت ہی کم افراد ایسے تھے جنہوں نے یہودیوں کو فرار ہونے میں مدد دی۔ یہودیوں کی مدد کرنے والوں نے اپنے دلوں میں نازی نسل پرستی کی مخالفت یا انسانی ہمدردی، یا مذہب یا اخلاقیات کے جذبوں کی وجہ سے ایسا کیا۔ کچھ نایاب واقعات میں تمام کی تمام برادریوں اور افراد نے یہودیوں کی مدد کی۔ ایسا کرنا ان کے لئے خطرے سے خالی نہ تھا۔ کئی جگہوں پر یہودیوں کو پناہ دینا ایک جرم تھا، جس کی سزا موت تھی۔

جنوبی فرانس کے ایک پروٹیسٹنٹ گاؤں، لی چیمبون۔ سر۔ لگنان کے مکینوں نے 1940 اور 1944 کے درمیان ہزاروں پناہ گزينوں کو، جن میں سے زيادہ تر یہودی تھے، نازیوں کے تشدد سے فرار ہونے میں مدد دی۔ خطرات کے متعلق مکمل علم ہونے کے باوجود، وہ اسے اپنا اخلاقی فرض اور مذہب کا جذبہ سمجھ کر ڈتے رہے۔ پناہ گزینوں کو، جن میں کئی بچے بھی شامل تھے، گھروں اور قریبی کیتھلک کانوینٹس اور خانقاہوں میں چھپایا گيا۔ لی چیمبون۔ سر۔ لگنان کے مکینوں نے پناہ گزینوں کو خفیہ طور پر غیرجانبدار سوٹزرلینڈ بھی لے جانے میں مدد دی۔

مقبوضہ یورپ بھر میں کئی یہودیوں نے مسلح مزاحمت کی بھی کوششیں کیں۔ انفرادی طور پر اور گروہوں میں، یہودیوں نے منصوبے کے تحت اور اس کے بغیر جرمنوں کی مخالفت کی۔ یہودی حلیفوں کے یونٹس فرانس اور بیلجیم میں کام کرتے تھے۔ وہ خاص طور پر مشرق میں سرگرم تھے، جہاں وہ گھنے جنگلوں اور یہودی بستیوں میں قائم کردہ اڈوں سے جرمنوں کا مقابلہ کرتے تھے کیونکہ سام دشمنی پھیلی ہوئی تھی۔ انہيں آس پاس کی آبادی سے حمایت کم ہی ملی۔ اس کے باوجود، بیس اور تیس ہزار کے درمیان یہودیوں نے مشرقی یورپ کے جنگلات میں جرمنوں کا مقابلہ کیا

منظم مسلح مزاحمت یہودی مخالفت کی سب سے براہ راست شکل تھی۔ یورپ کے کئی علاقوں میں یہودی مزاحمت نے امداد، بچاؤ اور روحانی مزاحمت کی طرف توجہ دی۔ نازیوں کی نسل کشی کی پالیسیوں کے خلاف روحانی مزاحمت نے یہودی ثقافتی تنظیموں کی حفاظت اور مذہبی رسومات کی پیروی کرنے کی شکل اختیار کر لی۔

اہم تواریخ

13 فروری 1943
فرانس کی یہودیوں کی مددکرنے پر پروٹیسٹنٹ پادری کو گرفتار کرلیا گيا

پادری آندرے ٹروکمے کو لی چیمبون۔ سر۔ لگنان میں گرفتار کرلیا گيا. چیوینال اسکول کے منتظیم اور جزوقتی منسٹر ایڈورڈ تھیئس اور لڑکوں کے سرکاری اسکول کے ڈائریکٹر راجر ڈارسیسیک کو بھی گرفتار کیا گيا۔ ان تینوں کو لیموگیس کے قریب سینٹ پال ڈی آئجیئکس کے کیمپ میں زیرحراست رکھا گیا۔ 1940 اور 1944 کے درمیان، ان آدمیوں نے پانچ ہزار سے زائد افراد کو، جن میں زیادہ تر یہودی تھے، پناہ فراہم کرنے کے لئے لی چیمبون۔ سر۔ لگنان کی پروٹسٹنٹ برادری کو رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے پناہ گزینوں کو گھروں، اسکولوں، کانوینٹس اور مقامی خانقاہوں میں چھپایا، جعلی شناختی کارڈ فراہم کئے اور پناہ گزینوں کو سرحد پار کروا کر غیرجانبدارار سوٹزرلینڈ بھی لے گئے۔ اپنی گرفتاری کے دورران ان تینوں نے دوسرے قیدیوں کے لئے پروٹیسنٹ خطبے اور مباحثوں کا کام جاری رکھا۔ گرفتاری کے ایک مہینے سے زیادہ کے بعد، تینوں کو رہائی کی پیش کش کی گئی۔ تاہم ان کو مارشل فیلیپ پیٹین سے وفاداری نبھانی تھی اور وکی فرانسیسی حکومت کے حکم کی اطاعت کرنے پر راضی ہونا تھا۔ ڈارسیسیک نے دستخط کردئے اور اسے فورا ہی رہا کردیا گیا۔ ٹروکمے اور تھیئس نے دستخط کرنے سے انکار کردیا کیونکہ یہ وفاداری ان کے عقا‏ئد کے خلاف تھی۔ تاہم انہيں اگلے دن رہا کردیا گيا۔ تینوں لی چیمبون۔ سر۔ لگنان واپس چلے گئے اور یہودیوں کو بچانے کا کام جاری رکھا۔

4 اگست 1944
ایمسٹرڈیم میں چھپے ہوئے یہودی خاندان کو گرفتار کرلیا گيا

جب 1942 میں نیدرلینڈزسے پولینڈ کی قتل گاہوں میں جلاوطنی کا عمل شروع ہوا تو این فریکن اپنے گھر والوں اور چار دوسرے افراد کے ساتھ ایمسٹرڈیم میں بالائی منزل کے ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں جا چھپی۔ اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے والے کچھ دوستوں کی مدد کے ساتھ فرینک خاندان دو سال تک چھپا رہا۔ اس دوران این اپنی ڈائری میں اپنے خوف، امیدوں اور تجربات کے متعلق لکھتی رہی۔ 4 اگست 1944 کو یہ خاندان چار دوسرے افراد کے ساتھ پکڑا گیا اور انہيں گرفتار کرلیا گیا۔ فرینک خاندان کو ویسٹربروک کے عارضی کیمپ میں رکھا گيا اور پھر آش وٹز برکیناؤ جلاوطن کردیا گیا۔ جیسے جنگ ختم ہونے لگی، این اور اس کی بہن کو وہاں سے نکال کر برگن- بیلس بھیج دیا گيا۔ وہاں 1945 کے موسم بہار ميں دونوں بہنیں ٹائیفائیڈ کے باعث انتقال کر گئيں۔ صرف ان کے والد زندہ بچ گئے۔ این فریکن ہالوکاسٹ کے دوران انتقال کرنے والی لاکھوں یہودی بچوں میں سے ایک تھی۔ گرفتاری کے بعد این فرینک کی ڈائری بازیاب ہوگئی اور اسے جنگ کے بعد کئی زبانوں میں شائع کیا گیا۔

21 اکتوبر 1944
جرمن صنعت کار نے یہودی محنت کشوں کو بچایا

جرمن صنعت کار آسکر شنڈلر اپنے یہودی محنت کشوں کو پلاسزو کے حراستی کیمپ سے نکال کر بروینلٹز کے ایک حراستی کیمپ میں لے گیا۔ شنڈلر نے ایک ہزار سے زیادہ یہودیوں کو اپنی فیکٹری میں ملازمت پر رکھ کر اور انہيں جنگی صنعت کار کے لئے ضروری بتا کر ان کی جان بچائی۔ 1939-1940 کے موسم سرما میں شنڈلر نے کراکو، پولینڈ کے مضافات میں تام چینی کے برتنوں کا کارخانہ لگایا۔ اگلے دو سال کے دوران یہودی ملازمین کی تعداد بڑھ گئی۔ 1942 تک یہ یہودی کراکو کی یہودی بستی میں رہتے تھے اور انہیں ہمیشہ ہی جرمنوں کے کام کے نااہل افراد کے انتخابات سے خطرہ لگا رہتا تھا۔ شنڈلر نے اپنے کارخانے کے جعلی ریکارڈز بنا کر اپنے یہودی ملازمین کو تحفظ فراہم کیا – ملازمین کی عمریں تبدیل کردی گئيں اور جنگ کے لئے ضروری پیشے ظاہر کرنے کے لئے ان کے پیشے بھی تبدیل کردئيے گئے۔ مارچ 1943 میں کراکو کی یہودی بستی کو ختم کردیا گيا اور محنت کشوں کو پلاسزو کے کیمپ میں منتقل کردیا گیا۔ شنڈلر کے یہودی اکتوبر 1944 تک اس کی فیکٹری میں کام کرتے رہے جب تک کہ سوویت فوجیوں کی آمد نے پلاسزو کو خالی کرنے پر مجبور نہ کر دیا۔ زیادہ تر قیدیوں کو براہ راست قتل گاہوں میں بھیج دیا گیا۔ شنڈلر نے ایس ایس کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات کا فا‏ئدہ اٹھا کر ایک ہزار سے زائد یہودی مزدوروں کو بروینلٹز کے کارخانے میں منتقل کرنے کی اجازت حاصل کرلی۔ مئی 1945 میں آزادی حاصل کرنے تک یہودی شنڈلر کے تحفظ میں رہے۔ شنڈلر مشرقی یورپ فرار ہوگیا اور جنگ کے بعد جرمنی لوٹ آیا۔