
واکس گیمین شیفٹ (لوگوں کا یا قومی کمیونٹی)
1920 کی دہائی سے ہی ایڈولف ہٹلر اور نازی پارٹی ایک واکس گیمین شیفٹ (عوامی یا قومی برادری) قائم کرنے کی خواہش پر زور دیتے رہے، جو نسل، قومیت اور سماجی رویّوں کی بنیاد پر قائم ہو۔ اقتدار میں آنے کے بعد، نازیوں نے اپنے نظریاتی مقاصد کے مطابق اس واکس گیمین شیفٹ کو تشکیل دینے کا ہدف بنایا۔
اہم حقائق
-
1
نازی پارٹی نے جرمن عوام کو اپنی قیادت کے تحت متحد کرنے کی کوشش کی۔ اس نے اُن گروہوں اور افراد کو خارج کر دیا جنہیں نازی نسل، حیاتیات، سیاست یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر “ناپسندیدہ” سمجھتے تھے۔
-
2
نازی ریاست نے اُن جرمنوں کو مراعات دیں جو “قومی برادری” کا حصہ بن گئے۔ اور جنہیں اس کے دائرے سے باہر سمجھا گیا، اُنہیں ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔
-
3
آخرکار، “قومی برادری” قائم کرنے کی نازی کوششوں نے اُن افراد اور گروہوں پر ظلم و ستم اور منظم اجتماعی قتلِ عام میں معاونت کی جو اس برادری کا حصہ نہیں سمجھے گئے تھے۔
1933 میں نازیوں کے پاس یورپ کے یہودیوں کے قتلِ عام کا کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں تھا۔ جو کچھ بعد میں ہولوکاسٹ کے نام سے جانا گیا، وہ وقت کے ساتھ کئی عوامل اور فیصلوں کے امتزاج کا نتیجہ تھا۔ ان عوامل میں انتہا پسند نظریات، یہودی دشمنی، اور نسلی تعصب شامل تھے۔ یہ مضمون نازی نظریے میں “قومی برادری” کے تصور کا جائزہ لیتا ہے۔
تعارف
واکس گیمین شیفٹ کا لفظ “قومی برادری” یا “عوامی برادری” کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کی ابتدا اٹھارویں صدی کے آخر یا انیسویں صدی کے اوائل میں جرمنی سے ہوئی۔ یہ تصور واضح یا سختی سے متعین نہیں تھا، بلکہ اسے مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا تھا۔ جن مختلف گروہوں نے اس اصطلاح کو اپنایا اُن میں بادشاہت پسند، قدامت پسند، لبرل، سوشلسٹ اور کھلے عام نسلی تعصب رکھنے والی تنظیمیں شامل تھیں۔ ہر سیاسی جماعت اور اس کے حامی اس اصطلاح کو اپنا منفرد مفہوم اور مقصد دیتے تھے۔
1920 کی دہائی سے، ایڈولف ہٹلر اور نازی پارٹی ایک واکس گیمین شیفٹ یعنی “قومی برادری” قائم کرنے کی اپنی خواہش پر زور دیتے رہے، جو نسل، قومیت اور سماجی رویّے کی بنیادوں پر قائم ہو۔ اقتدار میں آنے کے بعد، نازیوں نے اپنے نظریاتی مقاصد کے مطابق ایسی واکس گیمین شیفٹ تعمیر کرنے کا ہدف بنایا۔ وہ جرمن عوام کو اپنی قیادت کے تحت متحد کرنا چاہتے تھے۔ اس “قومی برادری” سے انہوں نے اُن گروہوں اور افراد کو خارج کر دیا جنہیں وہ نسلی، حیاتیاتی، سیاسی یا سماجی طور پر “ناپسندیدہ” سمجھتے تھے۔ ان میں یہودی، سیاہ فام افراد، اور روما اور سنتی لوگ (جنہیں تحقیر آمیز طور پر “جرپسیاں” کہا جاتا تھا) شامل تھے۔ اسی طرح وہ نسلی طور پر جرمن افراد بھی خارج کیے گئے جن کا سیاسی یا سماجی طرزِ عمل نازی نظریات سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ نازی ریاست نے اُن جرمنوں کو مراعات دیں جو “قومی برادری” کا حصہ بن گئے، جبکہ جنہیں اس کے دائرے سے باہر سمجھا گیا اُنہیں ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔
نازی پروپیگنڈا اور "قومی برادری" کا افسانہ
قومی سوشلسٹ جرمن ورکرز پارٹی (NSDAP) یا نازی پارٹی) پہلی جنگِ عظیم (1914–1918) کے بعد ابھرنے والی کئی انتہا پسند دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں میں سے ایک تھی۔ ابتدا ہی سے یہ ایک یہودی دشمن اور نسلی امتیاز رکھنے والی تنظیم تھی۔ یہ نومبر 1918 کی جرمن انقلاب کے بعد قائم ہونے والی نئی جرمن جمہوریہ کی بھی مخالفت کرتی تھی۔ 1920 کے اپنے پارٹی پروگرام میں، نازی پارٹی نے دعویٰ کیا کہ صرف واکس گینوسے (قومی ساتھی یا عوامی رکن) ہی شہری ہو سکتا ہے۔ “قومی ساتھی” کی تعریف ایسے شخص کے طور پر کی گئی تھی جو “جرمن خون” کا حامل ہو، چاہے اس کا مذہبی عقیدہ کچھ بھی ہو۔ نتیجتاً، کوئی یہودی نہ تو “قومی ساتھی” بن سکتا تھا اور نہ ہی شہری۔
1920 اور 1930 کی دہائی کے اوائل میں "قومی برادری" کا تصور
1920 کی دہائی اور 1930 کی دہائی کے اوائل میں، نازی پارٹی نے لاکھوں جرمنوں کی حمایت اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے بھرپور مہم چلائی۔ اس کے پروپیگنڈا پھیلانے والوں نے “قومی برادری” اور “قومی ساتھی” جیسے الفاظ کو نہایت مہارت سے استعمال کیا۔ وائمار جمہوریہ (1918–1933) کے آخری برسوں میں نازی پارٹی نے جرمن پارلیمنٹ (رائش ٹاگ) میں اپنی نمائندگی میں نمایاں اضافہ کیا۔ 1932 کی گرمیوں میں، یہ وہاں نمائندگی رکھنے والی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن گئی تھی۔
نازی پروپیگنڈا سازوں نے پارٹی کو ایک ایسی تحریک کے طور پر پیش کیا جو قومی عظمت اور خوشحالی کو بحال کرنے کا مقصد رکھتی تھی—ایک ایسی تحریک جو نظریاتی طور پر طبقے، علاقے یا مذہب (یعنی مسیحیت) کی تفریق کے بغیر تمام جرمنوں کی نمائندگی کرتی تھی۔ ہٹلر اکثر یہ بات زور دے کر کہتا تھا کہ نازی پارٹی اُس “قومی برادری” کی ایک چھوٹی جھلک ہے جس کا وہ مستقبل میں تصور کرتا ہے۔ اس کا دعویٰ تھا کہ نازی پارٹی، کیونکہ اس کی جڑیں عوام میں وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہیں، مستقبل کی جرمن “قومی برادری” کی علمبردار ہے۔ پھر یہی برادری نازی ریاست کی بنیاد کے طور پر کام کرے گی۔
15 جولائی 1932 کو ہٹلر نے ایک انتخابی تقریر میں اس نکتے کو یوں بیان کیا:
تیرہ سال پہلے ہم قومی سوشلسٹوں کا مذاق اُڑایا جاتا تھا اور ہمیں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا—آج ہمارے مخالفین کی ہنسی آنسوؤں میں بدل چکی ہے!
ایک وفادار عوامی برادری اُبھری ہے جو بتدریج طبقاتی جنون اور مرتبے کے گھمنڈ جیسے تعصبات پر قابو پا لے گی۔ ایک ایسی وفادار برادری جو ہماری نسل کے تحفظ کی جدوجہد کے لیے تیار ہے— نہ اس لیے کہ وہ باویریا، پروشیا، وورٹمبرگ یا سیکسونیا سے تعلق رکھتے ہیں؛ نہ اس لیے کہ وہ کیتھولک یا پروٹسٹنٹ، مزدور یا سرکاری ملازم، متوسط طبقہ یا تنخواہ دار کارکن ہیں؛ بلکہ اس لیے کہ وہ سب کے سب جرمن ہیں۔
تاہم، انتخابی مہمات کے دوران نازی پارٹی نے کبھی یہ وضاحت نہیں کی کہ یہ نئی “قومی برادری” کیسے تشکیل دی جائے گی، کون اس کا مکمل حصہ ہو گا، اور اس کی قیمت کیا ہو گی۔
تھرڈ رائخ: "قومی کمیونٹی" کے ایک بلڈنگ بلاک کے طور پر ظلم و ستم
اقتدار میں آنے کے بعد، نازی حکومت (جس نے خود کو تیسرا رائخ کہا) نے نسلی اور سیاسی طور پر “قابلِ اعتماد” جرمنوں کے لیے ایک “قومی برادری” قائم کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کرنے کی کوشش کی۔ ماہرین اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ آیا یہ ہدف حقیقت میں کسی حد تک پورا ہوا بھی یا نہیں۔ تاہم، اس میں کوئی شک نہیں کہ “قومی برادری” کا تصور تھرڈ رائخ کے دوران نازی پروپیگنڈے کا مرکزی حصہ تھا۔ اس خیال کو ایک منقسم قوم کو متحد کرنے کے لیے استعمال کیا گیا—ایسی فخر کی کیفیت پیدا کر کے جو اس برادری کا حصہ ہونے سے وابستہ تھی، جبکہ اسی وقت ان لوگوں کے لیے بدگمانی، خوف، اور/یا نفرت کو فروغ دیا جاتا تھا جو اس سے باہر سمجھے جاتے تھے
نازی جرمنی میں یہودیوں، سیاہ فام افراد، اور روما و سنتی جیسے گروہوں کو “نسلی طور پر اجنبی” قرار دیا گیا۔ چنانچہ وہ “قومی برادری” کا حصہ نہیں بن سکتے تھے۔ انہیں شہری حقوق سے محروم کیا گیا اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں، یہودیوں اور روما و سنتی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے بھی چُنا گیا۔
نازی حکومت نے اُن لوگوں کو بھی نشانہ بنایا جن کا سیاسی یا سماجی رویّہ اس نئی “قومی برادری” کے معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔ اس بنیاد پر سیاسی مخالفین، ہم جنس پرست مردوں، یہوواز وہٹنیسز، “نسل کی آلودگی کرنے والوں”، اور دیگر افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ اگر کوئی شخص نسلی طور پر جرمن تھا اور اپنا رویّہ تبدیل کر لیتا تھا، تو اس کے لیے “قومی برادری” میں دوبارہ شامل ہونا ممکن تھا۔
نازی پالیسیوں اور قوانین نے “عدم مساوات” کو قانونی شکل دی اور مختلف متاثرہ گروہوں کو “قومی برادری” کی رکنیت سے خارج کرنے کو جائز قرار دیا۔ 15 ستمبر 1935 کا رائخ سٹیزن شپ لا—جو نیورمبرگ کے نسل پرستانہ قوانین میں سے ایک تھا—اس بات کی وضاحت کرتا تھا کہ نئے جرمنی میں کون شہری ہو سکتا ہے اور کون نہیں۔ اس قانون کے تحت صرف وہ شخص شہری بن سکتا تھا جو “جرمن یا اس سے متعلقہ خون” کا حامل ہو اور اپنے طرزِ عمل سے ثابت کرے کہ وہ جرمن عوام اور رائخ کی وفاداری سے خدمت کرنے کے لیے تیار اور قابل ہے۔ اس شق نے یہ بات واضح کر دی کہ شہریت کوئی حق نہیں بلکہ ایک استحقاق ہے، جس کا فیصلہ نازی قیادت کرتی تھی۔ بعد ازاں جاری ہونے والے احکامات میں واضح کر دیا گیا کہ یہودی، سیاہ فام افراد، اور روما و سنتی لوگوں کو جرمن شہریت رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
"قومی کمیونٹی" کے تصورات کی تبدیلی
نازی حکومت میں “قومی برادری” اور “قومی ساتھی” جیسی اصطلاحات لچکدار مفاہیم رکھتی تھیں۔ نازی قیادت ان الفاظ کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتی اور مختلف لوگوں کو خارج کرنے کے لیے انہیں موڑ لیتی تھی۔ جو جرمن یہودی دکانوں سے خریداری جاری رکھتے یا یہودی ہمسایوں سے دوستی برقرار رکھتے تھے، انہیں “قوم کے غدار” قرار دیا جاتا تھا۔ جو جرمن بیرونِ ملک نازی حکومت کی مخالفت کا اظہار کرتے، انہیں اکثر اپنی شہریت سے محروم کر دیا جاتا تھا۔ اسی طرح، نازی حکام نے اُن افراد کے خلاف عوامی مہمات بھی شروع کیں جنہیں Gemeinschaftsfremde (یعنی برادری سے بیگانہ یا غیر متعلق) سمجھا جاتا تھا۔
دسمبر 1937 میں، نازی حکومت نے جرم کی روک تھام سے متعلق ایک فرمان جاری کیا۔ یہ فرمان اُن افراد کے خلاف تھا جنہیں “غیر سماجی” (asocial) قرار دیا گیا تھا۔ ایسے افراد کی تعریف یوں کی گئی کہ وہ لوگ جو اپنے برادری مخالف رویّے کی وجہ سے—خواہ وہ رویّہ مجرمانہ نہ بھی ہو—یہ ظاہر کرتے تھے کہ وہ برادری کا حصہ بننا نہیں چاہتے۔ اس مبہم اور وسیع تعریف نے پولیس کو یہ اجازت دے دی کہ وہ تقریباً 100,000 افراد کو گرفتار کر کے قید کر سکے۔ گرفتار ہونے والوں میں وہ لوگ شامل تھے جنہیں “کام چور” سمجھا جاتا تھا، آوارہ گرد، طوائفیں، بھکاری، نیز روما اور سنتی افراد بھی۔
1938 کے بعد اور جنگ کے دوران کے برسوں میں، نازی حکمرانوں نے ایسے قوانین اور پالیسیاں نسلی جرمنوں پر بھی لاگو کرنا شروع کر دیں۔ حکومت ہر جرمن النسل شخص کو Volksdeutsche (نسلی جرمن) نہیں سمجھتی تھی، بلکہ صرف اُنہیں جو نئی جرمنی کی پالیسیوں کی حمایت کرتے تھے۔ وہ افراد جن کا تعلق جرمن نسل سے تھا لیکن جو خود کو اب بھی پولش یا سوویت شہری سمجھتے تھے، یا جو “غیر جرمن” طرزِ عمل اختیار کرتے تھے، انہیں “قومی برادری” کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم (1939–1945) کے دوران، جرمن نسل سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد کو ایس ایس کے ذریعے سوویت یونین اور دیگر مقبوضہ علاقوں سے جرمنوں کے زیرِ قبضہ پولینڈ میں منتقل کیا گیا۔ ایس ایس نے ان نئے آنے والوں کی نسلی اور سیاسی جانچ پڑتال یعنی اسکریننگ بھی کی۔
جنگ نے لاکھوں غیر جرمن افراد کو جبری مزدوروں کے طور پر رائخ میں داخل کر دیا۔ چونکہ لاکھوں جرمن مردوں کو فوجی خدمت کے لیے بھرتی کر لیا گیا تھا، نازی حکام کو خدشہ تھا کہ غیر جرمنوں، خصوصاً سلاو باشندوں کی یہ بھاری آمد جرمن آبادی کی نسلی اور قومی ساخت پر منفی اثر ڈالے گی۔ وہ جرمن عورتیں جنہوں نے—یا جن پر یہ الزام لگایا گیا کہ انہوں نے—پولش، سوویت، یا دیگر غیر ملکی جبری مزدوروں یا جنگی قیدیوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے ہیں، اکثر سرِعام رسوا کی جاتیں اور انہیں “قومی برادری” سے خارج سمجھا جاتا تھا۔ بعض اوقات انہیں حراستی کیمپوں میں بھیج دیا جاتا تھا۔ جبری مزدوروں کو اکثر انہی کیمپوں میں قید کیا جاتا یا انہیں پھانسی دے دی جاتی تھی۔
واکس گیمین شیفٹ میں جرمنوں پر فتح حاصل کرنا
اگرچہ نازی کبھی حقیقت میں واکس گیمین شیفٹ (قومی برادری) قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے، لیکن انہوں نے پروپیگنڈا کے ذریعے ایک ایسی برادری کا تصور ضرور تخلیق کر لیا۔ نازی پروپیگنڈا سازوں کو یہ ہدایات دی جاتی تھیں کہ وہ تقاریب اور پروگرام کس طرح ترتیب دیں تاکہ شرکاء کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ وہ ایک “قومی برادری” کا حصہ ہیں۔
جرمن فلمسازوں اور فوٹوگرافروں نے ایسے مناظر پیش کیے جن میں جرمنوں کی بڑی تعداد ایڈولف ہٹلر کے لیے پرجوش انداز میں نعرے لگا رہی تھی۔ یہ تصویریں “ہٹلر کے اسطورہ” (Hitler Myth) کو تقویت دیتی تھیں اور ایک فرضی “قومی برادری” کا تصور پیدا کرتی تھیں۔ جرمنوں کو ترغیب بھی دی جاتی تھی اور دباؤ بھی ڈالا جاتا تھا کہ وہ اپنا ہاتھ بلند کر کے نیا جرمن سلام “ہائل ہٹلر” کہیں۔ اس کوشش کا مقصد یہ تاثر پیدا کرنا تھا کہ پوری قوم حکومت اور اس کی پالیسیوں کے پیچھے کھڑی ہے—چاہے ملک کے اندر ہو یا بیرونی دنیا میں۔ اس رسم میں حصہ نہ لینا فوراً توجہ کا باعث بنتا تھا اور یہ ظاہر کرتا تھا کہ وہ فرد خود کو “قومی برادری” کا حصہ نہیں سمجھتا۔ چاہے وہ حکومت کی مکمل حمایت نہ کرتے ہوں، بہت سے جرمن لوگ محض عوامی یا پولیس نگرانی سے بچنے کے لیے ایسے مراسم میں لازماً شرکت کرتے تھے۔
سنیما اور خبروں کی فلموں میں، نازی پروپیگنڈا ساز عوام کو یہ تاثر دیتے تھے کہ پورا جرمنی Führer (ہٹلر) کے پیچھے کھڑا ہے۔ لینی ریفن شٹال کی فلم "ٹرائمف آف دی وِل" “قومی برادری” کی نازی انداز میں پیشکش کی بہترین مثال ہے۔ مثال کے طور پر، اس فلم میں جرمن لیبر سروس کے ارکان کے وہ مناظر شامل ہیں جن میں وہ 1934 کے نازی پارٹی اجلاس (نیو ریمبرگ ریلی) کے دوران اپنے اپنے علاقوں کے نام بلند آواز میں پکار رہے ہیں۔ اس کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ جرمن—چاہے ان کا تعلق کسی بھی علاقے، طبقے یا مذہب سے ہو—ایک نئے جرمنی کی تعمیر کے لیے متحد ہیں۔
نازی پروپیگنڈا سازوں نے دیگر بصری مواد، مثلاً پوسٹرز، بھی استعمال کیے۔ خوش و خرم جرمن خاندانوں کی تصویریں ایک صحت مند اور روشن مستقبل کی امید دلاتی تھیں۔ اسی طرح، مسکراتے ہوئے فیکٹری کارکنوں کے پوسٹرز سماجی ہم آہنگی اور طبقاتی تنازع کے خاتمے کا پیغام دینے کے لیے بنائے جاتے تھے۔
استحقاق اور عدم مساوات
حکومت نے عوام کو نازی اصولوں کے مطابق عمل کرنے کی صورت میں مختلف مراعات دینے کا وعدہ کیا۔ جرمن لیبر فرنٹ کے ذریعے جرمن مزدوروں کے لیے یہ ممکن بنایا گیا کہ وہ جرمنی اور بیرونِ ملک کم قیمت پر تعطیلات گزار سکیں۔ ناروے اور دیگر مقامات کے لیے بحری سفر (کروز) کو بھی ایک ممکنہ سہولت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ ہٹلر نے ایک سستی گاڑی—فوکس ویگن، یعنی "عوام کی گاڑی")—بنانے کا وعدہ بھی کیا، جو جرمنی کی نئی شاہراہوں پر چلانے کے لیے عام جرمنوں کی پہنچ میں ہو۔ اگرچہ بہت سے جرمنوں نے اس نئی گاڑی کے حصول کے لیے رقم جمع کرائی، لیکن کسی ایک شخص کو بھی یہ گاڑی کبھی وصول نہ ہوئی۔
’قومی برادری‘کے نازی پروپیگنڈے نے جرمنی میں موجود سنگین عدم مساوات اور ظلم و ستم کو چھپا دیا تھا۔ حکومت نے مزدوروں کی اجرتوں کو 1932 کی کساد بازاری کے دور کی سطح پر منجمد کر دیا اور کام کے اوقات میں اضافہ کر دیا۔ فیکٹریوں میں سخت پابندی اور نظم و ضبط بڑھا دیا گیا، اور ہڑتالوں پر مکمل پابندی لگا دی گئی۔ ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا۔ استعمال کی اشیاء، خاص طور پر بیرونِ ملک سے آنے والی مصنوعات، کی دستیابی محدود کر دی گئی۔ ہر جرمن سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ حکومت کی مختلف فلاحی مہمات کے لیے رقوم فراہم کرے۔ ان رقوم کو فرد کی طرف سے “برادری کی بھلائی کے لیے قربانی” کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔
"قومی کمیونٹی" کا اثر
آخرکار، “قومی برادری” قائم کرنے کی نازی کوششوں نے اُن افراد اور گروہوں پر ظلم و ستم اور منظم اجتماعی قتلِ عام میں مدد فراہم کی جنہیں اس برادری سے خارج کر دیا گیا تھا۔ نازیوں کا مقصد یورپ کے یہودیوں اور اُن دیگر گروہوں کے خلاف نفرت بھڑکانا تھا جنہیں وہ “ریاست کے دشمن” قرار دیتے تھے۔ انہوں نے دوسروں کی تکلیف اور مصیبت کے بارے میں بے حسی پیدا کرنے کے ماحول کو بھی فروغ دیا۔ بہت زیادہ جرمنوں نے “قومی برادری” کا حصہ بننے کو پرکشش پایا اور وہ متاثرین کی حالتِ زار کو نظر انداز کرنے یا نہ دیکھنے پر آمادہ تھے۔
فٹ نوٹس
-
Footnote reference1.
میکس ڈومارس، مدیر، دی کمپلیٹ ہٹلر اسپیچز اِن انگلش: اے ڈیجیٹل ڈیسک ٹاپ ریفرنس،
مترجم: میری فرین گولبرٹ (Wauconda, IL: Bolchazy-Carducci Publishers 1990) 145۔