ذاتی تاریخ

جارج سالٹن آزادی کے وقت اپنی جسمانی کیفیت کے بارے میں بتاتے ہیں

جارج کو امریکی فوجیوں نے مئی 1945 میں آزاد کرایا۔ اُنہوں نے جنگ کے دوران دس مختلف حراستی کیمپوں میں تین سال کاٹے۔ وہ 1945 میں جرمنی کے وییبلن کیمپ میں تھے۔ آزادی کے بعد اُنہوں نے دو سال تک بے دخل افراد کے مختلف کیمپوں میں گزارے۔ جارج اکتوبر 1947 میں امریکہ چلے آئے۔

مکمل نقل

بنیادی طور پر میری جسمانی حالت بری طرح خراب ہوچکی تھی۔ میں ٹھیک سے چل بھی نہیں پارہا تھا۔ کمزوری کی وجہ سے میری کمر کے نچلے حصے میں بہت تکلیف تھی اور میں بہت ہی زیادہ کمزور تھا۔ میں کمزوری کے اس درجہ پر پہنچ چکا تھا جہاں کسی کو اس کی پرواہ نہیں رہتی کہ وہ شخص زندہ ہے یا مر گیا۔ ابھی میں اس درجہ تک نہیں پہنچا تھا۔ جب میں نے اپنی آنکھوں کے کونوں سے لوگوں کو دوڑتے ہوئے دیکھا تو میں اٹھ بیٹھا اور دیکھنے لگا کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ مگر میری حالت بہت خراب تھی اور میں سمجھتا تھا کہ اگر میں مزید چند دن تک آزاد نہیں ہوا تو میں بھی ان مردہ لاشوں میں ہوتا جو غسلخانوں کے سامنے پہاڑ کی شکل میں پڑی ہوئیں تھیں۔ میرا خیال تھا کہ میرے پاس ہوسکتا ہے ایک ہفتہ یا دس دن باقی رہ گئے ہیں اور اگر میں آزاد نہیں ہوا اور مجھے اضافی کھانا نہ دیا گيا اور سورج کی روشنی میں بیٹھنے اور آرام کرنے نہ دیا گيا تو میں ٹھیک ہی نہیں ہوں گا۔


  • US Holocaust Memorial Museum Collection
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.