ذاتی تاریخ

گرڈا بلیک مین ولچ فورٹ بتاتی ہیں کہ جب اُنہیں کیوبا میں داخلے کی اجازت نہ ملی تو ’’سینٹ لوئس‘‘ میں مسافروں کا موڈ کیسا تھا

گرڈا اور اُن کے والدین نے مئی 1939 میں "سینٹ لوئس" جہاز سے کیوبا کا سفر کرنے کے لئے ویزا حاصل کیا۔ جب جہاز ہوانا کی بندرگاہ پر پہنچا تو اکثر پناہ گزینوں کو داخلے کی اجازت نہیں ملی اور جہاز کو یورپ واپس لوٹنا پڑا۔ گرڈا اور اُن کے والدین بیلجیم میں اتر گئے۔ مئی 1940 میں جرمنی نے بیلجیم پر حملہ کر دیا۔ گرڈا اور اُن کی والدہ سوئزرلنڈ بھاگ گئیں۔ جنگ کے بعد اُنہیں بتایا گيا کہ گرڈا کے والد جلاوطنی کے دوران انتقال کرگئے۔

مکمل نقل

جیسا کہ آپ تصور کر سکتے ہیں وہاں لوگوں کا مزاج بہت خراب تھا۔ ہر کوئی بد دل تھا۔ بہت سے لوگوں نے خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے ایک شخص نے اپنی کلائی ہی کاٹ لی اور میرے خیال میں وہ ایک واحد شخص تھا جس کو اتارا گیا کیونکہ اس کو علاج کے لئے ہسپتال لے جانا پڑا تھا۔ میں نہیں جانتی آیا اسے وہاں رہنے دیا گيا یا واپس بھیج دیا گيا۔ میرا خیال ہے کہ وہ وہاں رہ گيا تھا۔ اگر ایسا تھا تو وہ واحد شخص تھا جو ایسا کرنے میں کامیاب ہوا۔ لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ انسان ہمیشہ پرامید ہوتا ہے۔ ہم لوگ ہمیشہ یہ اُمید رکھتے ہیں کہ کچھ اچھا ہو کر رہے گا۔ یہ لوگ ہمیں سمندر میں سڑنے کے لئے نہیں چھوڑیں گے۔ میرا مطلب ہے کہ ہمارے لئے کوئي نہ کوئی حل نکلے گا۔ ہمارا خوف یقیناً یہ تھا کہ کہیں ہمیں جرمنی واپس لوٹنا نہ پڑے۔ یہی سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ کھانا خراب سے خراب تر ہوتا گیا اور پانی بھی خراب ہوچکا تھا۔ میرا مطلب ہے کہ ہمارے پاس پانی تھا مگر ہمیں اُس کے استعمال میں حد درجہ احتیاط برتنی تھی۔ سب کچھ ہی ختم ہو چکا تھا۔ کوئی مزید دعوتیں نہیں ہو سکتی تھیں اور مزہ لینے کا کوئی موقع نہیں بچا تھا۔ ہم بیٹھے انتظار کررہے تھے کہ کیا ہونے والا ہے۔ کمیٹی نے دوبارہ ہرطرح سے کوشش کی اور ساری دنیا کو ٹیلی گرام ارسال کئے اس کوشش میں کہ وہ ہم لوگوں کو داخل ہونے دیں مگر کچھ بھی نہ ہوا۔ ہر روز وہ لوگ ہمیں نئی صورتحال سے باخبر کرنے کے لئے ڈیک پر ایک لکھا ہوا پرچہ لگا دیتے تھے کہ ہوسکتا ہے کہ ہم کسی دوسرے ملک جائیں لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا اور آخر کار ہم میامی کے ساحل پر پہنچے اور ہم نے سوچا کہ ہوسکتا ہے کہ یہاں داخلے کی اجازت مل جائے مگر وہاں بھی کچھ نہیں ہوا۔۔ بعد میں ہم نے سنا کہ جہاز کا کیپٹن اس بات پر راضی ہوگيا تھا کہ ہم زبردستی جہاز سے اتریں اور داخل ہوں لیکن ہمیں اس کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہوا۔ ہم نے میامی کے قریب اپنے چاروں طرف ساحلی گارڈوں کی کشتیاں دیکھیں جو اس بات کو یقینی بنانے کے لئے تعنیات تھیں کہ ہم ساحل کی سرحد سے قریب نہ ہوں۔ لہذا ہم نے صرف میامی کی روشنیاں دیکھیں۔ ہم نے امریکہ کی صرف روشنیاں ہی دیکھیں۔ بہرحال ہم آہستہ آہستہ یورپ لوٹ گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہاں امریکہ کے ساتھ ۔۔۔ یونائیٹڈ جیوئش اپیل کے ساتھ بہت سے مذاکرات ہوئے۔ پیرس میں مسٹر ٹوپر نے یہ ممکن کر دیا کہ ہم لوگوں کو بیلجیم، ہولینڈ، فرانس اور انگلینڈ کے درمیان تقسیم کردیا جائے۔


  • US Holocaust Memorial Museum Collection
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

Share This