ذاتی تاریخ

پریبن منچ ۔ نیلسن یہودیوں کو بحفاظت سویڈن لیجانے والی کشتیوں کے پار کرانے کے سلسلے میں لی گئی احتیاطی تدابی کی وضاحت کرتے ہیں

پریبن مچھیروں کے ایک چھوٹے سے گاؤں اسنیکرسٹن کے ایک پروٹیسٹنٹ خاندان میں پیدا ہوئے۔ جرمنی نے 1940 میں ڈنمارک پر حملہ کر دیا۔ پریبن مزاحمت کرنے والی جماعت کے پیغام رساں بن گئے۔ جب اکتوبر 1943 میں گسٹاپو (جرمن خفیہ اسٹیٹ پولس) نے ڈنمارک میں یہودیوں کو شکار کرنا شروع کیا تو پریبن نے سمندر کے کنارے گھروں میں پناہ گذینوں کو چھپنے میں مدد دی اور پھر اُنہیں اُن کشتیوں تک پہنچایا جو اُنہیں سویڈن لے گئیں۔ پریبن کو خود بھی نومبر 1943 میں سویڈن میں پناہ لینی پڑی۔ وہ مئی 1945 میں ڈنمارک واپس آ گئے۔

مکمل نقل

جب ہم اُنہیں کنارے پر منتظر کشتی کے پاس لائے تو ہم پوری طرح سے کشتی کے وہاں ہونے کے وقت سے باخبر تھے۔ ہم نے کچھ ایسا انتظام کیا تھا کہ کشتی عین وقت پر سویڈن کے ساحل پر لنگر انداز ہوتی اور اسی طرح دوسری طرف ہر دن وقت کے مطابق موجود ہوتی۔ کشتی وہاں آتی اور ہم اپنے مسافروں کو اُس پر سوار کرا دیتے۔ لیکن یہ کسی حد تک محفوظ تھا کیونکہ ہم نے ہر ممکن کوشش کی تھی کہ گھر سے ساحل تک کا راستہ بالکل محفوظ ہو۔ [انٹرویو لینے والے نے سوال کیا "محفوظ ہونے کا کیا مطلب ہے؟"] یہی کہ وہ گرفتار نہ ہوں۔ ہم یہ دیکھ سکیں کہ وہاں کوئی بھی ایسا نہ ہو جو ان کو نقصان پہنچا سکے۔ اِس کے علاوہ اُنہیں ایک خاص انداز میں حرکت کرنا تھی ۔۔۔ بہت خاموش انداز اختیار کرنا تھا۔ بعض اوقات ہمیں بچوں کی طرف سے مشکلیں پیش آئیں لیکن ہمارے ساتھ ڈاکٹر گسفیلڈز تھے جنھوں نے بچوں کو انجکشن دے دئے۔ لیکن وہ بعض اوقات بہت گھبرا جاتے اور کہتے "میں اس مریض کو نہیں جانتا ہوں۔ لہذا میں یہ کیسے اور کس قدر کرسکتا ہوں؟" لیکن کچھ بھی نہ ہوا۔ سبھی لوگ زندہ سلامت پہنچ گئے۔۔۔ ہم نے کبھی بھی کوئی سوار نہیں کھویا۔


ٹیگ


  • US Holocaust Memorial Museum Collection
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

شیئر کریں

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.