ذاتی تاریخ

روتھ موزر بورسوس ویسٹر بروک سے آش وٹز کی طرف جلاوطنی کیلئے انتحاب کا طریقۂ کار بیان کرتی ہیں

روتھ سن 1938 میں کرسٹل ناخٹ ("ٹوٹی ہوئے شیشوں کی رات") کے بعد نیدرلنڈ چلی گئی۔ اسے اور اس کے والد کو امریکہ جانے کی اجازت مل گئی تھی لیکن جرمنی نے مئی سن 1940 میں نیدرلنڈ پر حملہ کر دیا اور یوں وہ لوگ نہیں جا سکے۔ روتھ کو سن 1943 میں ویسٹ بروک کیمپ میں اور سن 1944 میں جرمنی کے برجن بیلسن کیمپ میں جلاوطن کیا گیا۔ اتحادیوں کے ساتھ ایک تبادلے کے معاہدہ کے ٹوٹنے کے بعد روتھ کو 1945 میں فرانسیسی فوجوں کی طرف سے رہائی حاصل ہونے تک سوئیس سرحد کے قریب رکھا گیا۔

مکمل نقل

آش وٹز بھیجے جانے والے افراد کی فہرست ۔۔۔ ہمارے اندازے کے مطابق اُنہیں آش وٹز کی طرف ہی جلاوطن کیا جا رہا تھا۔ ہمیں سو فیصد یقین نہیں تھا مگر ساری ریل گاڑیاں آش وٹز سے واپس آ گئی تھیں۔ کنڈکٹر یا کوئی دوسرا شخص وہاں سے مزيد لوگوں کو لینے مشرق کی طرف بھیجنے کیلئے آتا تھا۔ بہر حال فہرستوں کو پیر اور منگل کے دن اکٹھا کیا جاتا تھا اور ان کو بیرکوں میں اونچی آواز سے پڑھا جاتا تھا۔ ایک کاپو بیرکوں میں آیا اور اُس نے بھیجے جانے والے لوگوں کے نام اونچی آواز میں پڑھنے شروع کئے۔ اور جسے کہ آپ تصور کر سکتے ہیں، یہ بھیانک اوقات تھے۔ لوگوں کو معلوم ہو رہا تھا کہ یہ شاید اختتام کی گھڑی ہے۔ ہمیں سو فیصد یقین نہیں تھا کہ آش وٹز میں کیا ہو رہا تھا۔ ہمیں بس اتنا معلوم تھا کہ جو ہو رہا تھا وہ نہایت برا ہو رہا تھا۔ مگر کتنا برا۔ اس بات کا اندازہ ہم نہیں لگا سکے۔ لوگ کیمپ چھوڑنے والے لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ ان کے سازوسامان کو جمع کرنے میں مدد کرتے تھے۔ ان کو دلاسہ دیتے تھے۔ راستے میں کھانے کیلئے کوئی بچا ہوا کھانا بھی دیتے تھے۔


ٹیگ


  • US Holocaust Memorial Museum Collection
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

یہ صفحہ مندرجہ ذیل مقامات پر بھی دستیاب ہے:

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.