ذاتی تاریخ

سام اشپیگل امریکہ جانے والے بحری جہاز کے اندر کے حالات بیان کرتے ہیں

1942 میں سام کو اپنے ہی وطن میں ایک یہودی بستی میں رہنے پر مجبور کر دیا گیا اور اُنہیں گولہ بارود کے کارخانے میں کام پر معمور کر دیا گیا۔ 1944 میں اُنہیں آشوٹز کیمپ بھیج دیا گيا جہاں اُنہیں ایک ریل گاڑی کے کارخانے میں کام پر لگا دیا گیا۔ جب نازیوں نے آشوٹز کو خالی کرایا تو وہ آٹھ دن تک جاری رہنے والے موت کے مارچ سے زندہ بچنے میں کامیاب ہو گئے۔ اُنہیں جنوری 1945 میں سوویت فوجی یونٹوں نے آزاد کرایا۔ وہ جرمنی میں پناہ گذینوں کے ایک کیمپ میں رہے جہاں اُنہوں نے اقوام متحدہ کی امداد اور آبادکاری کی انتظامیہ میں خدمات انجام دیں۔ وہ 1947 میں نقل مکانی کر کے امریکہ چلے آئے۔

مکمل نقل

جب ہم جہاز پر سوار ہوئے تو سب سے پہلے ہم نے اپنے امریکی ساتھیوں سے سوال کیا "ہم کھانا لینے کیلئے کوپن کب حاصل کر پائیں گے؟" یہ اس لئے تھا کیونکہ ہم ہمیشہ ان تمام سالوں کے دوران کھانا حاصل کرنے کے لئے ٹوکن حاصل کرنے کے عادی تھے۔ اس نے کہا "گھبراؤ نہیں۔ تمہیں کھانے کیلئے کافی کچھ ملے گا"۔ لیکن ہمیں یقین نہیں آيا۔ تاہم مجھے یاد ہے جب جہاز روانہ ہونے کے بعد ہم نے پہلی مرتبہ کھانا کھایا۔ ہم سب میزوں کے گرد بیٹھے ہوئے تھے اور ہم نے بہت سی روٹی اور کھانے پینے کی دوسری چیزیں میز پر رکھی دیکھیں۔ ہر کسی نے اپنی جیبیں بھر لیں کیونکہ کسی کو یہ یقین ہی نہیں تھا کہ وہاں کھانے کو بہت ہے اور یہ کہ ہم جتنا چاہیں کھا سکتے ہیں۔ ہمارے ساتھ ایک عمررسیدہ جوڑا بھی تھا جس نے اتنا کھانا کھایا کہ کھانے کی زیادتی سے وہ مر گئے۔ مجھے خود اپنے بارے میں بھی اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے اتنا کھانا کھا لیا کہ میں بیمار ہوگیا اور تین دن کھانا نہیں کھا سکا۔۔۔ یہ سب اس لئے تھا کیونکہ ہم سمجھ ہی نہیں سکے کہ وہاں ایک دنیا ہے جہاں کھانے کو بہت ہے۔ اور وہاں ہم بھوکے ہی رہتے تھے۔


آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

یہ صفحہ مندرجہ ذیل مقامات پر بھی دستیاب ہے:

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.