ذاتی تاریخ

سارا (شیلا) پیریٹز ایٹونز ایک چھوٹی بچی کی حیثیت سے چھپے رہنے کا تجربہ بیان کرتی ہیں

جرمنی نے یکم ستمبر 1939 کو پولینڈ پر حملہ کر دیا۔ جرمن قبضے کے بعد سارا (جو اُس وقت صرف تین سال کی تھیں) اور اُن کی والدہ کو زبردستی یہودی بستی میں بھیج دیا گيا۔ ایک دن پولینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک کیتھولک پولیس مین نے اُنہیں خبردار کیا کہ یہودی بستی ختم کی جانے والی ہے۔ اس نے پہلے سارا اور اُن کی والدہ کو اپنے گھر میں پناہ دی پھر ان کو آلوؤں کے گودام میں اور اُس کے بعد اپنی جائداد میں موجود مرغیوں کے ڈربے میں چھپائے رکھا۔ سارا وہاں تقریبا دو سال تک چھپی رہیں یہاں تک کہ سوویت فوجوں نے اس جگہ کو آزاد کرا لیا۔ جنگ کے بعد سارا یورپ سے پہلے 1947 میں اسرائيل آئیں اور پھر 1963 میں امریکہ منتقل ہو گئیں۔

مکمل نقل

میں دو سال تک اس جھونپڑی میں چھپی رہی۔ میں کبھی بھی باہر نہیں گئی۔ سردیوں میں وہاں سخت سردی ہوتی اور گرمیوں میں سخت گرمی۔ وہ ہمیں روزانہ روٹی کا ایک ٹکڑا اور پانی کی ایک بوتل لا کر دیتا۔ کبھی کبھار کسی خاص موقع پر وہ تھوڑا سا سوپ بھی لے آتا۔ بعض اوقات جب اُسے کام سے کہیں کسی دوسری جگہ یا کسی دوسرے شہر جانا پڑتا تو اس کی بیوی اور اسکی بیٹی ہمیں کچھ بھی کھانے کو نہ دیتے۔ یوں ہمیں اس کے آنے تک بھوکا پیاسا رہنا پڑتا۔ میں اور میری والدہ اس جھونپڑی میں رہتے۔ بعض اوقات رات میں میری والدہ برتن وغیرہ صاف کرنے کے لئے نکلتی مگر میں تو کبھی بھی باہر نہیں نکلی۔ وہ مجھے نکلنے بھی نہیں دیتی تھیں اور میں خوفزدہ بھی تھی۔ ہمارے لئے کچھ کرنے کے لئے نہیں تھا۔ کھیلنے کیلئے بھی کچھ نہیں تھا۔ میں اس وقت چھ سال کی تھی اور مجھے کچھ پتہ نہ تھا۔ میں مرغیوں کے بچوں کے ساتھ کھیلتی۔ میں تنکوں سے کھیلتی۔ وہاں زمین پر بہت سا بھوسہ پڑا ہوتا تھا۔ اس نے ہمیں ایک خاص قسم کا بستر دے رکھا تھا جہاں ہم ایک کنارے کمبل میں سوتے اور اسی جگہ ہم رہتے بھی تھے۔


  • US Holocaust Memorial Museum Collection
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

شیئر کریں