Hungarian Jews on their way to the gas chambers. Auschwitz-Birkenau, Poland, May 1944.

ہولوکاسٹ ہنگری میں

ہولوکاسٹ (1933–1945) کے دوران ہنگری کی حکومت نے اپنی مرضی سے اور نازی جرمن حکام کے تعاون سے یہودیوں پر ظلم و ستم کیا اور اُنہیں قتل کیا۔ ہنگری میں ہولوکاسٹ نے نہ صرف ملک کے اندر موجود یہودی برادریوں کو متاثر کیا بلکہ وسطی اور مشرقی یورپ میں ہنگری کے زیرِ قبضہ علاقوں کی یہودی آبادی کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 825,000 یہودی ہنگری کے کنٹرول میں تھے۔ ان میں سے تقریباً 550,000 افراد ہولوکاسٹ میں قتل کر دیے گئے۔

اہم حقائق

  • 1

    1944 میں ہنگری میں ہولوکاسٹ کے آغاز کے وقت نے اجتماعی قتلِ عام میں ہولناک اضافے کی راہ ہموار کی۔ اسی کے ساتھ اس نے غیر معمولی امدادی اور بچاؤ کی کوششوں کو بھی جنم دیا۔

  • 2

    1938 سے مارچ 1944 تک ہنگری کی حکومت نے اپنی جانب سے یہود مخالف قوانین اور پالیسیاں نافذ کیں۔ اس عرصے کے دوران ہنگری کے اقدامات کے نتیجے میں 44,000 سے 63,000 کے درمیان یہودی قتل کیے گئے۔ یہ ہنگری میں ہولوکاسٹ کا پہلا مرحلہ تھا۔

  • 3

    1944–1945 میں جرمن اور ہنگرین حکام نے مل کر کارروائیاں کیں۔ صرف ایک سال کے اندر انہوں نے ہنگری کے تقریباً 500,000 یہودیوں کو قتل کر دیا۔ یہ ہنگری میں ہولوکاسٹ کا دوسرا مرحلہ تھا۔

ہنگری کے یہودی نازی کنٹرول میں آنے والی آخری بڑی یہودی آبادی تھے۔

1930 کی دہائی کے اواخر اور 1940 کی دہائی کے آغاز میں ہنگری کے یہودی ہنگری کی حکومت کے ہاتھوں ظلم و ستم اور تشدد کا سامنا کر رہے تھے۔ لیکن 1944 کے موسمِ بہار تک ۔۔ یعنی دوسری عالمی جنگ شروع ہونے کے چار سال سے زیادہ عرصے بعد ۔۔ انہیں نازی قتل و غارت کی پوری قوت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ اُس وقت تک نازی امتیازی سلوک، انسانیت سوز رویّوں، اور جبری ملک بدری کے اُن سفاک طریقوں کو مکمل کر چکے تھے جو آج ہولوکاسٹ (1933–1945) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ اس سے پہلے ہی یورپ کے لاکھوں یہودیوں کو قتل کر چکے تھے۔

ہنگری میں ہولوکاسٹ کے وقت نے اجتماعی قتلِ عام میں ایک ہولناک اضافے کی بنیاد رکھ دی۔ نازیوں اور اُن کے ہنگرین معاونین نے ہولوکاسٹ کے دوران ہنگری میں رہنے والے تقریباً 550,000 یہودیوں کو قتل کیا۔ ان میں سے بھاری اکثریت ۔۔ تقریباً 500,000 افراد ۔۔ جنگ کے آخری ایک سال میں قتل کی گئی۔ بہت سے لوگوں کو آشوٹس-برکیناؤ کے قتل گاہی مرکز کے گیس چیمبروں میں مار دیا گیا۔ آشوٹس پہنچنے والے ہنگری کے یہودیوں کی تصاویر ہولوکاسٹ کی علامتی تصویروں میں شمار ہوتی ہیں۔

ہنگری میں ہولوکاسٹ کے وقت نے غیر معمولی امدادی اور بچاؤ کی کوششوں کی راہ بھی ہموار کی۔ ان میں سب سے مشہور بین الاقوامی امدادی کارروائی راؤل والنبرگ کی قیادت میں انجام دی گئی۔ ہنگری کے زیرِ کنٹرول علاقوں سے تقریباً 250,000 یہودی ہولوکاسٹ سے زندہ بچنے میں کامیاب رہے۔ ان زندہ بچ جانے والوں میں “آئی ہیو لِوڈ اے تھاوزنڈ ایئرز” کی مصنفہ لیویا بِٹن-جیکسن اور نوبیل انعام یافتہ ایلی ویزل بھی شامل تھے۔ ہنگری سے تعلق رکھنے والے متعدد زندہ بچ جانے والے افراد بعد میں “یونائیٹڈ اسٹیٹس ہولوکاسٹ میموریل میوزیم” میں رضاکار کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔

ہنگری میں ہولوکاسٹ کا پہلا مرحلہ، 1938–مارچ 1944

ہنگری میں ہولوکاسٹ کا پہلا مرحلہ تقریباً 1938 میں شروع ہوا اور مارچ 1944 میں اختتام پذیر ہوا۔ اس عرصے کے دوران ہنگری کی حکومت نے اپنی جانب سے یہودیوں پر ظلم و ستم کیا۔ اُس کی یہود مخالف پالیسیاں ہنگری میں موجود ایک طویل عرصے سے جاری یہود دشمنی کی تاریخ پر مبنی تھیں۔

1920 سے ہنگری کی حکومت ایک دائیں بازو کی آمرانہ حکومت تھی۔ اس کی قیادت میکلوش ہورتی کر رہا تھا۔ ہورتی اور دیگر ہنگرین رہنما قوم پرست، یہود دشمن، اور کمیونزم مخالف تھے۔

مارچ 1944 تک ہنگری ایک خودمختار ریاست تھا جس کے نازی جرمنی کے ساتھ دوستانہ سفارتی تعلقات تھے۔ دونوں حکومتوں کا نظریۂ حیات کافی حد تک یکساں تھا۔ نومبر 1940 میں ہنگری محور اتحاد میں شامل ہو گیا اور اس طرح نازی جرمنی کا باقاعدہ اتحادی بن گیا۔

ہنگری میں یہودیوں کے خلاف قانون سازی

ہورتی حکومت (1920–1944) کے دوران ہنگری کی حکومت نے یہود مخالف قوانین نافذ کیے۔ ان قوانین کا مقصد یہودیوں کو ملک کی سماجی، معاشی، سیاسی، اور ثقافتی زندگی سے خارج کرنا تھا۔ 1920 کی مردم شماری کے مطابق اُس وقت ہنگری میں تقریباً 470,000 یہودی آباد تھے۔ یہودی آبادی ہنگری کی تقریباً 80 لاکھ کی مجموعی آبادی کا لگ بھگ 6 فیصد تھی۔

ہنگری کے ابتدائی یہود مخالف قوانین میں سے پہلا قانون 1920 میں نافذ کیا گیا، یعنی ہولوکاسٹ کے آغاز سے بھی پہلے۔ اُسی سال ہنگری کی پارلیمان نے “نومیرس کلاوسس” قانون منظور کیا۔ اس قانون نے یہودی طلبہ کے لیے جامعات میں داخلے کی تعداد محدود کر دی۔ یہ پہلی عالمی جنگ (1914–1918) کے بعد یورپ میں نافذ کیا جانے والا پہلا یہود مخالف قانون تھا۔

ہنگری میں یہودیوں کے خلاف ظلم و ستم اور قانونی امتیاز میں 1938 سے نمایاں شدت آنا شروع ہوئی۔ 1938 سے 1941 کے درمیان ہنگری کی حکومت نے تین بڑے یہود مخالف قوانین نافذ کیے:

  • پہلا یہودی قانون (مئی 1938): اس قانون نے ملک کی معیشت کے بعض شعبوں میں یہودیوں کی تعداد کو 20 فیصد تک محدود کر دیا۔ ان شعبوں میں دفتری اور پیشہ ورانہ ملازمتیں، تجارت، اور صنعت شامل تھے۔
  • دوسرا یہودی قانون (مئی 1939): اس قانون میں یہودیوں کی تعریف نسلی بنیادوں پر کی گئی اور بعض یہودیوں کے ووٹ کے حق کو محدود کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ پچھلے سال مقرر کردہ کوٹہ مزید سخت کر دیا گیا۔
  • تیسرا یہودی قانون (اگست 1941): اس قانون کے تحت یہودیوں اور غیر یہودیوں کے درمیان شادی اور جنسی تعلقات پر پابندی لگا دی گئی۔

1930 کی دہائی کے اواخر اور 1940 کی دہائی کے آغاز میں ہنگری کی حکومت نے یہود مخالف متعدد دیگر قوانین بھی نافذ کیے۔ ان میں سے زیادہ تر قوانین یہودیوں کو معاشی اور سماجی زندگی کے مختلف شعبوں سے خارج کرنے کے لیے بنائے گئے تھے۔ اس کے نتیجے میں دسیوں ہزار یہودی اپنی ملازمتوں، کاروباروں، اور روزگار کے ذرائع سے محروم ہو گئے۔

Hungarian expansion
کریڈٹس:
  • US Holocaust Memorial Museum

ہنگری کی علاقائی توسیع، 1938–1941

1938 میں ہنگری نے پہلی عالمی جنگ کے بعد طے کی گئی سرحدوں سے باہر اپنے علاقے کو وسعت دینا شروع کی۔ اس نے یہ اقدام جرمن حمایت اور نازی جرمنی کی علاقائی توسیع کے ساتھ مل کر کیا۔ اس کوشش نے ہنگری کے رہنماؤں کو اپنے اُس جغرافیائی و سیاسی مقصد کے حصول میں مدد دی جس کے تحت وہ پہلی عالمی جنگ کے بعد ہونے والے امن معاہدوں میں کھوئے گئے علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔

1938 سے 1941 کے درمیان ہنگری نے پڑوسی ممالک چیکوسلواکیہ، رومانیہ، اور یوگوسلاویہ سے کئی علاقے (جن کی فہرست جدول نمبر 1 میں دی گئی ہے) اپنے قبضے میں لے لیے۔ ان علاقوں میں مختلف نسلوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والی آبادیاں رہتی تھیں۔ ان میں نسلی ہنگرین، رومانی، سلوواک، سرب، یہودی، اور دیگر بہت سی قومیتوں کے لوگ شامل تھے۔ ضم کیے گئے تمام علاقوں میں ہنگری کی حکومت نے غیر ہنگرین آبادیوں کے خلاف ظلم و ستم، جبری بے دخلی، اور تشدد کی کارروائیاں کیں۔

ضم کیے گئے علاقوں میں رہنے والے یہودی ہنگری کے یہود مخالف قوانین اور پالیسیوں کا نشانہ بنے۔ 1941 کی ہنگرین مردم شماری کے مطابق 725,007 افراد نے خود کو یہودی قرار دیا تھا۔ ان میں سے تقریباً 325,000 افراد ہنگری کے ضم شدہ علاقوں میں رہتے تھے۔ 1941 میں یہودی آبادی ’’گریٹر ہنگری‘‘ کی کل آبادی (14,683,323) کا تقریباً 5 فیصد تھی۔ اس کے علاوہ تقریباً 100,000 مزید افراد کو 1939 کے ’’دوسرے یہودی قانون‘‘ کے تحت نسلی اعتبار سے یہودی شمار کیا گیا، حالانکہ وہ خود کو یہودی نہیں سمجھتے تھے۔

جدول نمبر 1: 1938 تا 1941 ہنگری کی علاقائی توسیع اور یہودی آبادی کی تعداد، 1938 تا 1941

علاقہ

سے ضم کیا گیا

تاریخ

ضم شدہ علاقے کی مجموعی آبادی (1941)

یہودی آبادی (1941)

جنوبی سلوواکیہ اور جنوبی سبکارپیتھین روس کا ایک چھوٹا حصہ (پہلا ویانا ایوارڈ)

چیکوسلوواکیا

نومبر سن 1938

1,000,000

68,000

سوب کارپاتھین روس

چیکوسلوواکیا

مارچ 1939

700,000

78,000

شمالی ٹرانسلوانیا (دوسرا ویانا ایوارڈ)

رومانیہ

اگست – ستمبر 1940

2,600,000

146,000

باچکا، بارانیا کے بعض حصے، میجی مُوریے، اور پریکموریے

یوگوسلاویہ

اپریل 1941

1,000,000

14,000

1939 تا 1945 ہنگری کے جبری مشقتی نظام میں یہودی مردوں کا استحصال

1939 سے 1945 تک ہنگری کی حکومت نے فوجی عمر کے یہودی مردوں کا جبری مشقتی نظام (مونکاسولگالات) میں استحصال کیا۔

ہنگری کی حکومت نے جبری مشقتی نظام کو باقاعدہ فوجی خدمت کے متبادل کے طور پر قائم کیا تھا۔ یہ نظام اُن مردوں کے لیے مخصوص تھا جنہیں حکومت قابلِ اعتماد نہیں سمجھتی تھی۔ سیاسی مخالفین، بعض مسیحی فرقوں کے ارکان، رومانی، سرب، اور خاص طور پر یہودی اُن لوگوں میں شامل تھے جنہیں اس جبری مشقتی نظام میں دھکیلا گیا۔ ابتدا میں یہ مشقت ہنگری اور اُس کے ضم شدہ علاقوں کے اندر کروائی جاتی تھی، اور اُس وقت حالات نسبتاً بہتر تھے۔

1941 کے موسمِ بہار میں ہنگری کے دوسری عالمی جنگ میں داخل ہونے کے بعد ہنگری کی وزارتِ دفاع نے اس جبری مشقتی نظام کو مزید جابرانہ اور کھلے عام یہود مخالف ادارے میں تبدیل کر دیا۔ یہودی جبری مشقتی کارکنوں کو غیر یہودی کارکنوں سے الگ کر دیا گیا۔ انہیں اب وردیاں بھی نہیں دی جاتی تھیں۔ مزید یہ کہ اُنہیں ایسے امتیازی بازوبند پہننے پر مجبور کیا گیا جو اُنہیں یہودی کے طور پر ظاہر کرتے تھے۔

1941 کے موسمِ گرما سے دسیوں ہزار یہودی جبری مشقتی کارکنوں کو محور طاقتوں کے زیرِ قبضہ مشرقی یورپ، خصوصاً یوکرین، میں محاذِ جنگ کے قریب تعینات کیا جانے لگا۔ ہنگرین افسران اکثر ان افراد کے ساتھ نہایت بدسلوکی کرتے تھے اور انہیں جان لیوا تشدد کا نشانہ بناتے تھے۔ ان یہودی مردوں کے پاس مناسب رہائش، خوراک، لباس، یا طبی سہولیات موجود نہیں تھیں۔ ان میں سے بڑی تعداد سوویت قید میں جنگی قیدیوں کے طور پر جا پہنچی۔

محققین کے اندازے کے مطابق تقریباً 100,000 یہودی مردوں کو اس جبری مشقتی نظام میں حصہ لینے پر مجبور کیا گیا۔ مارچ 1944 میں جرمنی کے ہنگری پر قبضے سے پہلے ان میں سے 25,000 سے 42,000 افراد ہلاک ہو چکے تھے۔

1941 میں ہنگری سے یہودیوں کی جبری بے دخلی اور کامیانیٹس-پودیلسک میں قتلِ عام

ہنگری میں ہولوکاسٹ کے پہلے مرحلے کے دوران یہود دشمنی پر مبنی تشدد کے بدنام ترین واقعات میں سے ایک 1941 کے موسمِ گرما میں پیش آیا۔ یہ واقعہ سوویت یونین پر محور طاقتوں کے حملے (آپریشن بارباروسا) کے بعد رونما ہوا۔ جولائی تا اگست 1941 میں ہنگرین حکام نے اُن یہودیوں کو گرفتار کر کے بے دخل کرنا شروع کیا جنہیں وہ ’’ناپسندیدہ غیر ملکی اور بیرونی شہری‘‘ قرار دیتے تھے۔ ہنگری کی حکومت نے 20,000 سے زیادہ یہودیوں کو سرحد پار محور طاقتوں کے زیرِ قبضہ گالیشیا (جو اُس وقت پولینڈ اور آج یوکرین کا حصہ ہے) بھیج دیا۔ یہ بے دخلیاں انتہائی تیز رفتاری، بدنظمی، افراتفری، اور غیر انسانی انداز میں انجام دی گئیں۔

بالآخر ہنگری سے بے دخل کیے گئے بیشتر یہودیوں (تقریباً 14,000 تا 16,000 افراد) کو کامیانیٹس-پودیلسک کے قصبے میں لے جایا گیا۔ وہاں انہیں ایک گھیٹو میں قید کر دیا گیا۔ 26 تا 28 اگست کو نازی جرمن ایس ایس اور پولیس یونٹوں نے اپنے مقامی یوکرینی معاونین کے ساتھ مل کر کامیانیٹس-پودیلسک میں اجتماعی فائرنگ کی ایک بڑی کارروائی انجام دی۔ انہوں نے 23,600 یہودیوں کو قتل کر دیا۔ غالب امکان ہے کہ بعض ہنگرین فوجی حکام نے اس گرفتار کرنے اور اجتماعی قتل کی کارروائی کو دیکھا، اور شاید اس میں حصہ بھی لیا۔

ہنگری سے بے دخل کیے گئے وہ بہت سے یہودیوں کو جو کامیانیٹس-پودیلسک میں قتل نہیں کیے گئے تھے، بعد کے قتلِ عام میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، گھیٹوز میں ہلاک ہو گئے، یا بیلزیک کے قتل گاہی مرکز میں مارے گئے۔ اندازہ ہے کہ تقریباً 2,000 یہودی مہاجر کسی نہ کسی طرح واپس ہنگری پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم گالیشیا میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں اُن کی باتوں پر اکثر لوگوں نے یقین نہیں کیا۔

ہنگری کے زیرِ قبضہ یوگوسلاویہ میں باچکا کے چھاپے 

جنوری 1942 میں ہنگرین فوجی یونٹوں نے یوگوسلاویہ کے ہنگری کے زیرِ قبضہ باچکا علاقے میں چھاپے مارے۔ بظاہر یہ کارروائیاں پارٹیزن مزاحمتی سرگرمیوں کے جواب میں کی گئیں۔ تشدد کی یہ کارروائیاں نووی ساد (جسے ہنگرین زبان میں اوئی وِدیک کہا جاتا تھا) اور علاقے کے دیگر شہروں میں بھی ہوئیں۔ ہنگرین حکام نے سربوں، یہودیوں، اور دیگر افراد کو نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں میں تقریباً 1,000 یہودی اور 2,500 سرب قتل کیے گئے۔ ان قتلِ عام کے ذمہ دار افراد پر 1943–1944 میں ہنگرین عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔

جرمنوں کی بے دخلی کی درخواستوں پر ہنگری کے انکار، 1942–1944

ہنگری میں ہولوکاسٹ کے پہلے مرحلے کے دوران ہنگری کی حکومت نے نازی قیادت میں ہونے والے یہودیوں کے اجتماعی قتل میں مکمل طور پر حصہ نہیں لیا۔

جون 1941 میں سوویت یونین پر حملے کے بعد نازی جرمنی کی یہودیوں کے خلاف مہلک کارروائیاں بہت تیزی سے شدت اختیار کر گئیں۔ جرمن یونٹوں نے اجتماعی فائرنگ کی کارروائیوں میں پوری کی پوری یہودی برادریوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ پھر 1941 کے اواخر اور 1942 میں نازی جرمن حکومت نے ایسے قتل گاہی مراکز قائم کیے جو زہریلی گیس کے ذریعے یہودیوں کو قتل کرنے کے لیے مخصوص تھے۔ نازی جرمن حکام نے پورے یورپ سے یہودیوں کو ان قتل گاہی مراکز میں جبراً منتقل کیا۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنے اتحادیوں اور معاونین پر بھی انحصار کرتے تھے۔

1942 میں نازی جرمن حکومت نے ہنگری کی حکومت پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ ہنگری کے تمام یہودیوں کو جرمن کنٹرول والے علاقوں میں بے دخل کر دیا جائے۔ تاہم ہورتی اور وزیرِ اعظم میکلوش کالّائی (جو مارچ 1942 تا مارچ 1944 منصب پر رہے) نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔ ہورتی اور کالّائی کا مؤقف تھا کہ ہنگری کی یہودی آبادی کا معاملہ ملک کا داخلی مسئلہ ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہودیوں کی بے دخلی ہنگری کی معیشت کے لیے تباہ کن نتائج پیدا کر سکتی ہے۔

اس تعاون سے انکار کے نتیجے میں اجتماعی قتل کے عروج کے برسوں میں لاکھوں یہودی ہنگری میں زندہ رہے۔ تاہم اس عرصے میں ہنگری کے یہودی ملک کے یہود مخالف قوانین اور جبری مشقتی نظام کے باعث شدید مشکلات کا شکار رہے۔ اس کے باوجود، نازیوں کے براہِ راست قبضے والے دیگر علاقوں کے برعکس، ہنگری کے بیشتر یہودی اپنے گھروں میں رہنے اور خوراک و دیگر ضروری وسائل تک رسائی رکھنے کے قابل تھے۔ ہنگری یہاں تک کہ اُن ہزاروں یہودی مہاجرین کے لیے بھی پناہ گاہ بن گیا جو پڑوسی ممالک میں نازی قتلِ عام سے فرار ہو رہے تھے۔

نازیوں کے اجتماعی قتل سے نسبتاً محفوظ پناہ گاہ کے طور پر ہنگری کا یہ دور مارچ 1944 میں اچانک ختم ہو گیا، جب نازی جرمنی نے ملک پر قبضہ کر لیا۔

Jews drafted into the Hungarian Labor Service System march to a work site.

ہنگری کے لیبر سروس نظام میں بھرتی کیے گئے یہودی ایک کام کی جگہ کی جانب مارچ کر رہے ہیں۔ سیگیڈ، ہنگری، 1940 سے 1944 کے درمیان۔

کریڈٹس:
  • Magyar Nemzeti Muzeum Torteneti Fenykeptar

 مارچ 1944–1945 کے دوران ہنگری میں ہولوکاسٹ کا دوسرا مرحلہ

مارچ 1944 میں نازی جرمنی نے جاری جنگی کوششوں میں ہنگری کے کردار سے متعلق فوجی وجوہات کی بنا پر اپنے اتحادی ملک ہنگری پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ 19 مارچ 1944 کو جرمن فوج نسبتاً کم مزاحمت کے ساتھ ہنگری میں داخل ہو گئی۔ ہنگری کی حکومت نے جلد ہی جرمن مطالبات مان لیے۔ اس کے نتیجے میں زیادہ تر جرمن فوجی صرف مختصر مدت کے لیے ہنگری میں رہے۔ تاہم جرمن حکام ہنگری کی سیاست میں بدستور غالب کردار ادا کرتے رہے۔

جرمن قابض حکام نے ہورتی کو ہنگری کی نگرانِ ریاست (ریجنٹ) کے عہدے پر برقرار رہنے کی اجازت دی۔ بہت سے دیگر ہنگرین حکام بھی اپنے مناصب پر قائم رہے۔ تاہم جرمنوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہورتی وزیرِ اعظم کالّائی کو ہٹا کر اُس کی جگہ جرمن نواز دومے سٹویائی کو مقرر کرے۔ وزیرِ اعظم بننے کے بعد سٹویائی نے جرمن حکام کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔ اُس کی حکومت میں انتہا پسند دائیں بازو کے کئی یہود دشمن افراد کو اہم عہدے دیے گئے۔

ہنگری پر قبضے کے بعد نازی جرمنی کے اہم مقاصد میں سے ایک ملک کے یہودیوں کی جبری بے دخلی اور اجتماعی قتل تھا۔ مارچ 1944 میں ہنگری میں تقریباً 760,000 سے 780,000 یہودی آباد تھے۔ یہ اُس وقت یورپ میں زندہ بچ جانے والی سب سے بڑی یہودی آبادی تھی۔

ہنگری پر جرمن قبضہ ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ اگلے ایک سال کے اندر جرمنوں اور اُن کے ہنگرین معاونین نے ہنگری کے تقریباً 500,000 یہودیوں کو قتل کر دیا۔

جرمن قبضے والے ہنگری میں نئے یہود مخالف اقدامات، موسمِ بہار 1944

جرمن قبضے کے بعد ہنگری کی حکومت نے درجنوں یہود مخالف احکامات نافذ کیے۔ ان کا مقصد ہنگری کے یہودیوں کو مکمل طور پر الگ تھلگ کرنا، اُنہیں بدنام کرنا، اور معاشی طور پر تباہ کرنا تھا۔ نئے یہود مخالف قوانین کے تحت یہودیوں کو اپنی جائیداد، جیسے گاڑیاں، ٹیلی فون، ریڈیو، اور سائیکلیں، حکام کے حوالے کرنے پر مجبور کیا گیا۔ دیگر احکامات کے ذریعے انہیں غیر یہودیوں کے ساتھ سنیما یا تھیٹر جانے سے منع کر دیا گیا۔ مزید قوانین کے تحت یہودیوں کے لیے خوراک کے راشن بھی کم کر دیے گئے۔

مارچ 1944 کے اواخر میں ہنگری کی حکومت نے اعلان کیا کہ 5 اپریل سے چھ سال یا اُس سے زیادہ عمر کے تمام یہودیوں کے لیے لباس پر زرد رنگ کا “ستارۂ داؤد” پہننا لازمی ہو گا۔

پورے ملک میں ہنگرین حکام, جن میں میئر، پولیس افسران، اور جینڈرمری کے اہلکار شامل تھے، ان اقدامات پر عمل درآمد میں تعاون کر رہے تھے۔ حکومت کے احکامات کے مطابق انہوں نے یہودی برادریوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے علاقوں میں رہنے والے تمام یہودیوں کی رجسٹریشن فہرستیں تیار کریں۔

ہنگری کے عبوری گھیٹوز اور یہودیوں کی جبری بے دخلی، اپریل–جولائی 1944

جرمن اور ہنگرین حکام نے ہنگری کے یہودیوں کو گھیٹوز میں جمع کرنے اور اُنہیں جبری طور پر بے دخل کرنے کی منصوبہ بندی تیزی سے شروع کر دی۔ نازی ایس ایس افسر ایڈولف آئخمان اور اُس کی بے دخلی کے معاملات میں ماہر ٹیم اس عمل کو منظم کرنے کے لیے بوڈاپیسٹ پہنچ گئی۔ 1944 کے موسمِ بہار اور گرما میں ہنگرین اور جرمن حکام نے ہنگری کو چھ انتظامی علاقوں میں تقسیم کر دیا۔ ہر علاقے میں یہودیوں کی بے دخلی سے پہلے گھیٹوز قائم کیے گئے۔

اپریل 1944 سے ہنگرین حکام نے قصبوں اور شہروں میں عبوری گھیٹوز قائم کرنا شروع کیے۔ ان ہنگرین حکام میں علاقائی اور ضلعی سرکاری افسران، میئر، محکمۂ صحت کے اہلکار، پولیس افسران، اور جینڈرمری کے اہلکار شامل تھے۔ یہ گھیٹوز اکثر یہودی محلّوں یا بڑی عمارتوں، جیسے کارخانوں، گوداموں، یا اینٹوں کے بھٹوں میں قائم کیے جاتے تھے۔ عموماً انہیں ریلوے کی سہولیات کے قریب بنایا جاتا تھا تاکہ جبری بے دخلی کا عمل آسان ہو سکے۔ چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں کے یہودیوں کو بڑے شہروں کے گھیٹوز میں جمع کیا جاتا تھا۔ انہیں ان عبوری گھیٹوز میں کئی دنوں یا ہفتوں تک قید رکھا جاتا تھا۔ ان کی نگرانی ہنگرین حکام کرتے تھے، اور انہیں محدود مقدار میں خوراک، رہائش، اور طبی سہولیات فراہم کی جاتی تھیں۔ اس عمل میں جرمن حکام کی ایک چھوٹی تعداد بھی شریک تھی۔ گھیٹوز قائم کرنے کے اس پورے عمل کے ساتھ بڑے پیمانے پر لوٹ مار، چوری، اور تشدد بھی کیا گیا۔

عبوری گھیٹوز سے یہودیوں کی منظم جبری بے دخلی مئی 1944 کے وسط میں شروع ہوئی۔ ایک ایک انتظامی علاقے میں جرمن بے دخلی کے ماہرین اور ہنگرین جینڈرمری اہلکار یہودیوں کو عبوری گھیٹوز سے نکال کر مال بردار ریل گاڑیوں میں ٹھونس دیتے تھے۔ 15 مئی سے 9 جولائی 1944 کے درمیان تقریباً 437,000 یہودیوں کو 147 ٹرینوں کے ذریعے ہنگری سے بے دخل کیا گیا۔ ان میں سے تقریباً 420,000 افراد کو آشوٹس-برکیناؤ کے قتل گاہی مرکز بھیجا گیا۔ وہاں پہنچنے پر اُنہیں ’’انتخابی عمل‘‘ سے گزارا جاتا تھا۔ تقریباً 100,000 ہنگرین یہودیوں کو آشوٹس میں جبری مشقت کے لیے منتخب کیا گیا، جبکہ باقی تقریباً 330,000 یہودیوں (یعنی لگ بھگ 75 فیصد) کو پہنچتے ہی گیس چیمبروں میں قتل کر دیا گیا۔ ان مقتولین میں مرد، عورتیں، اور بچے سب شامل تھے۔ یہ آشوٹس-برکیناؤ کی تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز دور تھا۔

ہورتی نے بے دخلیاں رُکوا دیں، جون–جولائی 1944

7 جولائی 1944 کو ہورتی نے ہنگری سے یہودیوں کی جبری بے دخلی روکنے کا حکم دیا۔ اُس نے یہ فیصلہ جرمنی کی بگڑتی ہوئی فوجی صورتحال، بین الاقوامی دباؤ، اور اپنے قریبی مشیروں کے دباؤ کے باعث کیا۔ اس کے باوجود بوڈاپیسٹ کے گرد و نواح کے شہروں سے آشوٹس کی طرف بے دخلیاں مزید دو دن تک جاری رہیں اور بالآخر 9 جولائی کو روک دی گئیں۔ ہورتی کے احکامات کے باوجود آئخمان، اُس کے جرمن بے دخلی کے ماہرین، اور ہنگری کی حکومت میں اُن کے اتحادی اس عمل کو جاری رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔ جولائی کے اواخر اور اگست 1944 میں انہوں نے ہنگری کے حراستی کیمپوں سے یہودیوں کی ایک محدود تعداد کو آشوٹس بھیجا۔

پچھلے مہینوں کی بے دخلیوں سے بڑی حد تک محفوظ رہنے والی واحد بڑی یہودی برادری بوڈاپیسٹ کی تھی۔

’’پیلے ستارے والے گھر‘‘: بوڈاپیسٹ، موسمِ گرما 1944

جولائی 1944 میں، بوڈاپیسٹ کی بڑی یہودی آبادی تقریباً دو لاکھ افراد پر مشتمل تھی۔

Swedish protective document

1944 میں ہنگری کے شہر بوڈاپیسٹ میں سویڈن کے سفارت خانے کی جانب سے ایک یہودی خاتون کو جاری کی گئی حفاظتی دستاویز۔ اس نوعیت کی دستاویزات اپنے حامل کو جرمن حکام کی جانب سے مقبوضہ پولینڈ میں واقع آشوٹز قتل گاہ بھیجے جانے سے فوری طور پر تحفظ فراہم کرتی تھیں۔ دستاویز کے نچلے بائیں کونے میں درج حرف "W" اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ دستاویز راؤل والنبرگ کی کوشش اور سرپرستی سے جاری کیا گیا تھا۔

کریڈٹس:
  • US Holocaust Memorial Museum, courtesy of Lena Kurtz Deutsch

اس موسمِ گرما میں بوڈاپیسٹ کے حالات نہایت سنگین تھے۔ ہنگری کی حکومت کے یہود مخالف قوانین اور اقدامات پوری شدت کے ساتھ نافذ تھے۔ دیہی علاقوں سے یہودیوں کی جبری بے دخلی اور ملک بدری کی خبریں دارالحکومت تک پہنچ رہی تھیں۔ ہنگری کی حکومت نے شہر میں بکھرے ہوئے انداز کی ایک قسم کی “گھیٹو بندی” بھی متعارف کروائی۔ ہنگری کی حکومت اور بوڈاپیسٹ کی بلدیاتی انتظامیہ کے اہلکاروں نے یہودیوں کو مخصوص “پیلا ستارہ گھروں” میں رہنے پر مجبور کیا۔ حکام نے کرفیو اور دیگر پابندیاں بھی عائد کر دی تھیں۔

ہنگری میں بچاؤ کی کارروائیاں

ہنگری میں ہولوکاسٹ کے وقوع پذیر ہونے کے وقت نے کئی غیر معمولی امدادی اور بچاؤ کی کارروائیوں کے مواقع پیدا کیے۔ ان کوششوں کی قیادت یہودیوں اور غیر یہودیوں، دونوں نے کی۔

خصوصی طور پر، بوڈاپیسٹ کی ریلیف اینڈ ریسکیو کمیٹی کے یہودی رہنماؤں نے ہنگری کے یہودیوں کو بچانے کے لیے نازی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات اور انہیں رشوت دینے کی کوشش کی۔ اس کمیٹی نے ایک امدادی کارروائی پر مذاکرات کیے جو “کازٹنر ٹرانسپورٹ” کے نام سے معروف ہوئی۔ رقم اور قیمتی اشیا کے بدلے نازی حکام اس بات پر آمادہ ہوئے کہ یہودیوں کے ایک قافلے کو محفوظ مقام تک جانے کی اجازت دی جائے۔ اس طریقے سے سولہ سو سے زائد یہودی زندہ بچنے میں کامیاب ہوئے۔

1944 کے موسمِ گرما اور خزاں میں بوڈاپیسٹ میں متعدد بین الاقوامی امدادی اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری تھیں۔ ان کی قیادت غیر جانب دار ممالک کے سفارتی مشنز کے اراکین کر رہے تھے، خصوصاً سویڈن اور سوئٹزرلینڈ کے نمائندے۔ راؤل والنبرگ (سویڈن) اور کارل لوٹز (سوئٹزرلینڈ) نے حفاظتی پاس جاری کرنے اور تقسیم کرنے کے عمل کی نگرانی کی۔ حفاظتی پاس (جسے بعض اوقات “شُٹز پاس” بھی کہا جاتا تھا) ایک ایسی دستاویز تھی جو یہ ظاہر کرتی تھی کہ کوئی فرد یا خاندان بظاہر کسی غیر جانب دار ملک کے تحفظ میں ہے۔ ان امدادی کارکنوں نے شہر میں یہودیوں کے لیے محفوظ گھر بھی قائم کیے۔ وہ اکثر یہودی تنظیموں اور امدادی گروہوں کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کرتے تھے۔ راؤل والنبرگ کو امریکی وار ریفیوجی بورڈ نے اس مشن کے لیے منتخب کیا تھا۔

ہنگری پر ایرو کراس پارٹی کا قبضہ

اگست 1944 میں، جب جنگ کا پانسہ مزید اتحادی طاقتوں کے حق میں پلٹنے لگا، ہورتی نے وزیرِ اعظم سٹویائے کو برطرف کر دیا۔ ہورتی نے ایک نئی حکومت قائم کی اور سٹویائے حکومت کے کئی انتہائی دائیں بازو کے یہود مخالف اراکین کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا۔ ستمبر میں ریڈ آرمی (سوویت فوج) ہنگری کی سرحد میں داخل ہو گئی۔ اس صورتحال میں ہورتی نے سوویت حکام کے ساتھ جنگ بندی کے مذاکرات کے لیے اپنے نمائندے روانہ کیے۔

15 اکتوبر 1944 کو ہورتی نے کھلے طور پر نازی جرمنی سے علیحدگی اختیار کرنے کی کوشش کی۔ اس نے سوویت یونین کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان بھی کر دیا۔ تاہم، ہورتی کی منصوبہ بندی کمزور ثابت ہوئی۔ جرمن حکام اور ان کے ہنگری کے حامیوں نے فوری طور پر صورتحال پر قبضہ کر لیا۔ جرمن حکام نے ہورتی کو حراست میں لے لیا، اس کے بیٹے کی جان کو خطرے میں ڈالنے کی دھمکی دی، اور مطالبہ کیا کہ وہ ایک نئی حکومت قائم کرے۔ ہورتی نے یہ مطالبہ قبول کر لیا۔ نئی حکومت کی قیادت فیرینس سالاشی کے ہاتھ میں آئی۔ سالاشی فاشسٹ اور انتہائی یہود مخالف ایرو کراس پارٹی (نیلاسکیرستیس پارٹی) کا رہنما تھا۔ ایرو کراس کی قیادت میں ہنگری نے نازی جرمنی کے ساتھ مل کر سوویت یونین کے خلاف جنگ جاری رکھی۔

ایرو کراس ملیشیاؤں نے بوڈاپیسٹ کے یہودیوں کے خلاف دہشت اور ظلم کا ایک ہولناک دور شروع کیا۔ ایرو کراس کے کارکن، جنہیں “نیلاس” کہا جاتا تھا، یہودیوں کو گولی مار کر دریائے ڈینیوب میں پھینک دیتے تھے۔

بڈاپسٹ سے جلا وطنیاں، خزاں 1944

20  اکتوبر کو ایرو کراس ملیشیاؤں نے یہودیوں کو جبری مشقت کے لیے گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ ایک دن بعد، ایرو کراس حکومت نے حکم جاری کیا کہ یہودی مردوں اور عورتوں کو لازماً جبری مشقت انجام دینی ہوگی۔ ہزاروں یہودیوں کو پکڑ لیا گیا۔ ابتدا میں انہیں شہر کے گرد ٹینکوں کو روکنے کے لیے خندقیں کھودنے پر مجبور کیا گیا۔ 6  نومبر کو حکومت نے انہیں تقریباً سو میل پیدل مغرب کی جانب ہیگیش ہالوم (آسٹریا اور ہنگری کی سرحد کے قریب ایک گاؤں) کی طرف روانہ کیا۔ راستے میں بہت سے یہودی ہلاک ہو گئے یا انہیں گولی مار دی گئی۔ جو یہودی اس سفر میں زندہ بچ گئے، انہیں جرمنوں کے حوالے کر دیا گیا، بظاہر ’’ادھار‘‘ پر۔ ہنگری حکومت نے یہودی لیبر سروس بٹالینوں کو بھی اسی طرح ’’ادھار‘‘ دیا۔

سفارت کاروں (جن میں راؤل والنبرگ اور کارل لوٹز شامل تھے)، یہودی تنظیموں، اور عام ہنگری باشندوں نے حتیٰ الامکان مداخلت کی۔ انہوں نے متاثرین کو امداد فراہم کرنے یا انہیں جلا وطنی سے بچانے کی کوشش کی۔

نومبر اور دسمبر 1944 میں ہنگری کے دسیوں ہزار یہودیوں کو جرمنوں کے حوالے کر دیا گیا۔ جرمنوں نے انہیں جبری مشقت پر مجبور کیا۔ بہت سے مزدوروں سے دفاعی خندقیں تعمیر کروائی گئیں۔ وہ نہایت جان لیوا اور اذیت ناک حالات میں کام کرتے رہے۔ ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے یا قتل کر دیے گئے۔ بہت سے دوسرے بعد میں 1945 کے موسمِ بہار میں ہونے والی ’’موت کی مارچوں‘‘ کے دوران جان سے گئے۔

بوڈاپیسٹ گھیٹو اور بین الاقوامی گھیٹو، نومبر–دسمبر 1944

1944  کے آخری مہینوں میں ایرو کراس حکومت نے بوڈاپیسٹ میں دو گھیٹو قائم کیے۔

ان میں سے ایک باڑ سے گھرا ہوا گھیٹو بوڈاپیسٹ کے روایتی یہودی علاقے میں قائم کیا گیا۔ حکومت نے ’’پیلا ستارہ گھروں‘‘ میں رہنے والے یہودیوں کو حکم دیا کہ وہ اس گھیٹو میں منتقل ہو جائیں۔ بوڈاپیسٹ کے اس گھیٹو کو ’’پیشٹ گھیٹو‘‘ یا ’’بڑا گھیٹو‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔ یہ گھیٹو انتہائی حد تک گنجان آباد تھا۔ دسمبر 1944 میں اسے مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ اس میں تقریباً ستر ہزار افراد قید تھے۔ وہاں تقریباً تین ہزار یہودی ہلاک ہو گئے۔

بین الاقوامی حفاظتی پاس رکھنے والے یہودیوں کو اُس علاقے میں رکھا گیا جو بعد میں ’’بین الاقوامی گھیٹو‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔ اس گھیٹو کو ’’محفوظ گھیٹو‘‘ یا ’’چھوٹا گھیٹو‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔ یہ علاقہ باڑ سے بند نہیں تھا، بلکہ بین الاقوامی تحفظ کے تحت آنے والی اپارٹمنٹ عمارتوں کے ایک مجموعے پر مشتمل تھا۔ سرکاری طور پر تقریباً 15,600 افراد بین الاقوامی گھیٹو میں مقیم تھے، لیکن حقیقت میں ہزاروں مزید لوگ وہاں پناہ لینے آ گئے تھے۔ ان میں جعلی حفاظتی دستاویزات رکھنے والے افراد اور وہ لوگ بھی شامل تھے جن کے پاس کوئی کاغذات موجود نہیں تھے۔

بوڈاپیسٹ کے ہزاروں یہودی دونوں گھیٹوز میں منتقل ہونے کے بجائے روپوش ہو گئے۔

اختتام: ہنگری میں یہودیوں کی آزادی، 1944–1945

جب ریڈ آرمی (سوویت فوج) مغرب کی جانب پیش قدمی کر رہی تھی تو اس نے ہنگری کے یہودیوں کو آزادی دلائی۔ آزاد ہونے والوں میں جبری مشقت کرنے والی لیبر سروس بٹالینوں کے یہودی اور وہ لوگ بھی شامل تھے جو روپوش تھے۔

2  نومبر 1944 کو سوویت افواج نے بوڈاپیسٹ پر حملہ شروع کیا۔ 1944–1945 کی سردیوں میں سوویت فوج نے بوڈاپیسٹ کا محاصرہ کر لیا اور شہر کو گھیرے میں لے لیا۔ جرمن اور ہنگری کی افواج نے دارالحکومت کے دفاع کے لیے شدید لڑائی کی۔ اس دوران ایرو کراس ملیشیائیں یہودیوں کے خلاف تشدد اور ظلم جاری رکھے ہوئے تھیں۔ سوویت افواج نے 16 جنوری 1945 کو بین الاقوامی گھیٹو کو آزاد کرایا، جبکہ 17 اور 18 جنوری کو بوڈاپیسٹ گھیٹو کو آزادی ملی۔ فروری میں سوویت فوج نے شہر کے باقی حصوں پر بھی قبضہ کر لیا۔ اپریل 1945 تک سوویت یونین نے مکمل طور پر ہنگری پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

سوویت افواج نے بوڈاپیسٹ میں تقریباً ایک لاکھ انیس ہزار یہودیوں کو آزادی دلائی، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی تھوڑی تعداد میں یہودیوں کو نجات ملی۔

ہنگری میں ہولوکاسٹ کے متاثرین کی تعداد

Jewish women and children deported from Hungary, separated from the men, line up for selection.

ہنگری سے ملک بدر کیے گئے یہودی خواتین اور بچے، مردوں سے الگ کیے جانے کے بعد، آشوٹز میں انتخاب (سلیکشن) کے لیے قطار میں کھڑے ہیں۔ جرمن مقبوضہ پولینڈ، مئی 1944۔

کریڈٹس:
  • Yad Vashem Photo Archives

 1941 میں ہنگری اور اس کے الحاق شدہ علاقوں میں تقریباً آٹھ لاکھ پچیس ہزار یہودی آباد تھے۔ ان میں سے پینسٹھ فیصد سے زیادہ، یعنی تقریباً پانچ لاکھ پچاس ہزار افراد، ہولوکاسٹ کے دوران قتل کر دیے گئے۔

ہنگری میں ہولوکاسٹ کے ابتدائی مرحلے میں تقریباً چوالیس ہزار سے تریسٹھ ہزار یہودی ہلاک ہوئے یا قتل کر دیے گئے۔

ہنگری کے تقریباً پانچ لاکھ یہودی ہولوکاسٹ کے دوسرے مرحلے میں قتل کر دیے گئے۔ ان میں سے تقریباً تین لاکھ تیس ہزار افراد کو آشوٹز-برکیناؤ قتل گاہ پہنچتے ہی گیس چیمبروں میں قتل کر دیا گیا۔ دسیوں ہزار مزید یہودی آشوٹز اور دیگر جرمن حراستی و جبری مشقت کے کیمپوں میں قید کے دوران ہلاک ہوئے، جبکہ بہت سے لوگ ’’موت کی مارچوں‘‘ میں جان سے گئے۔ ہزاروں یہودی بوداپیسٹ میں ہنگری کی ایرو کراس ملیشیاؤں کے ہاتھوں بھی قتل کیے گئے۔

تقریباً ڈھائی لاکھ ہنگری کے یہودی ہولوکاسٹ سے زندہ بچ سکے۔ ان کی بقا کئی عوامل کے ایک غیر معمولی امتزاج کی وجہ سے ممکن ہوئی، جن میں خاص طور پر وقت، امدادی کوششیں، اور خوش قسمتی شامل تھیں۔

فٹ نوٹس

  1. Footnote reference1.

     (1914–1918) کے دوران آسٹرو-ہنگیرین سلطنت نے مرکزی طاقتوں (سینٹرل پاورز) کی جانب سے جنگ لڑی، جن میں جرمن سلطنت اور سلطنتِ عثمانیہ بھی شامل تھیں۔ جب یہ واضح ہونے لگا کہ مرکزی طاقتیں جنگ ہار رہی ہیں تو آسٹرو-ہنگیرین سلطنت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی۔ اس کی جگہ کئی نئی آزاد قومی ریاستیں وجود میں آئیں، جن میں ہنگری بھی شامل تھا۔ سلطنت کے خاتمے کے بعد اس بات پر شدید سفارتی اور عسکری تنازعات پیدا ہوئے کہ کون سا علاقہ کس ملک کے حصے میں آئے گا۔ جنگ کے بعد ہونے والے امن مذاکرات میں ہنگری کے کئی علاقے دوسرے ممالک کو دے دیے گئے۔ ان ممالک میں رومانیہ، نئی قائم ہونے والی ریاست چیکوسلواکیہ، اور وہ سلطنت شامل تھی جو بعد میں یوگوسلاویہ کے نام سے معروف ہوئی۔ ہنگری کے علاقائی نقصانات کی توثیق معاہدۂ ٹریانون کے ذریعے کی گئی، جس پر جون 1920 میں پیرس میں دستخط ہوئے۔ جنگ کے بعد کا ہنگری اپنے جنگ سے پہلے کے صرف ایک تہائی علاقے تک محدود رہ گیا۔

  2. Footnote reference2.

    Zoltán Vági, László Csősz, and Gábor Kádár, The Holocaust in Hungary: Evolution of a Genocide (AltaMira Press, 2013), 37.

  3. Footnote reference3.

    ہنگری سے یہودیوں کی آشوٹز کی جانب پہلی جلا وطنیاں اپریل 1944 کے آخر میں ہنگری کے حراستی کیمپوں سے کی گئیں۔ یہ جلا وطنیاں اُن منظم اور وسیع پیمانے کی جبری بے دخلیوں سے پہلے ہوئیں جو مئی کے وسط میں شروع ہوئیں۔

  4. Footnote reference4.

    محققین کے اندازوں کے مطابق، 1944 میں مجموعی طور پر تقریباً چار لاکھ تیس ہزار ہنگری کے یہودیوں کو آشوٹز بھیجا گیا۔ آشوٹز کی جانب سب سے بڑی تعداد میں جلا وطنیاں 15 مئی سے 9 جولائی کے درمیان ہوئیں۔ اس عرصے میں تقریباً چار لاکھ بیس ہزار یہودیوں کو ہنگری سے آشوٹز منتقل کیا گیا۔ چار لاکھ تیس ہزار کی مجموعی تعداد میں اپریل 1944 کے آخر میں ہنگری سے آشوٹز بھیجے گئے قافلے، اور 1944 کے موسمِ گرما اور ابتدائی خزاں میں روانہ ہونے والی چند مزید ٹرانسپورٹس بھی شامل ہیں۔ جون 1944 میں تقریباً پندرہ ہزار یہودیوں کو، جو ہنگری کے عبوری گھیٹوز میں رکھے گئے تھے، ویانا کے قریب واقع عبوری کیمپ ’’اسٹراس ہوف‘‘ منتقل کیا گیا۔ وہاں سے انہیں ویانا میں جبری مشقت کے لیے مقرر کیا گیا۔ محققین کے مطابق اسٹراس ہوف بھیجے گئے تقریباً پچھتر فیصد یہودی زندہ بچ گئے۔

Thank you for supporting our work

We would like to thank Crown Family Philanthropies, Abe and Ida Cooper Foundation, the Claims Conference, EVZ, and BMF for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.

گلاسری