Like many editions of the Protocols published in the 1920s, this French-language version charges that Jews are a foreign and dangerous ...

پروٹولولز آف دی ایلڈرز آف زائن: اہم تاریخیں

دا پروٹولولز آف دی ایلڈرز آف زائن  جدید دور کی سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر یہودی مخالف اشاعت ہے۔ ذیل میں اس کی اشاعت اور تقسیم سے متعلق منتخب تاریخوں کی فہرست ہے۔

دا پروٹولولز آف دی ایلڈرز آف زائن جدید دور کی سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر یہودی مخالف اشاعت ہے۔ یہ یہودیوں کے بارے میں جھوٹے سازشی نظریات پر مبنی ہے کہ وہ لوگ دنیا پر قبضہ کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ 

ان پروٹوکولز میں "زائن کے پڑھے لکھے بزرگوں" نامی گروہ کے ذریعہ ہونے والی میٹنگز کا ایک خفیہ، تحریری ریکارڈ ہونے کا دعویٰ پیش کیا گیا ہے۔ میٹنگ کے نوٹ جعلی ہیں۔ یہ میٹنگز کبھی نہیں ہوئی اور اس کے مبینہ رہنما یعنی زائن کے نام نہاد بزرگ کبھی موجود نہ تھے۔

پروٹوکولز پہلی بار 1903 میں روسی سلطنت میں شائع ہوئے تھے۔ 1920 کی دہائی سے پروٹوکولز کو دنیا بھر کے صحافیوں، عدالتوں اور حکومتوں نے جھوٹ کے طور پر بے نقاب کیا ہے۔ بہر حال، امریکہ سمیت متعدد زبانوں اور ممالک میں اس کا شائع ہونا جاری ہے۔ آج، پروٹوکولز پرنٹ، ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر گردش کررہے ہیں۔

ذیل میں منتخب کردہ تاریخوں سے پتہ چلتا ہے کہ سام دشمنی کے پروپیگنڈے کا یہ طاقتور حصہ وقت کے ساتھ کیسے پھیل گیا ہے۔

اپریل 1903

کیشینیو میں ایک پوگروم کے دوران یہودیوں کے خلاف مہلک تشدد کے مرتکبین بار بار پاویل کروشیوان کا نام لیتے ہیں۔ کرشیوان ایک کامیاب مصنف اور بے رحم سام دشمن تھا۔ بعد میں 1903 میں کروشیوان کی ملکیت والا ایک اخبار صیون کے بزرگوں کے پروٹوکولز کا پہلا ورژن شائع کرتا ہے۔

خزاں 1903

 پروٹوکولز کا ایک سلسلے وار ورژن پہلی بار سینٹ پیٹرزبرگ، روس میں شائع کیا جاتا ہے۔ یہ معروف اخبار کے صفحات پر شائع ہوتا ہے۔ Znamya (The Banner).

1905

روسی صوفیانہ اور مشہور مصنف سرگئی نیلس نے اپنی کتاب، دی گریٹ ان دی اسمال کے ضمیمہ کے طور پر پروٹوکولزشامل کیے ہیں: دجال کی آمد اور زمین پر شیطان کی حکمرانی۔ نیلس یہودیوں کو شیطانی قوتوں کے ایجنٹ کے طور پر پیش کرتا ہے جوکہ دنیا کو تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

1917

روسی زار مارچ میں ایک مقبول انقلاب کے درمیان تخت سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ روسی عبوری حکومت قائم کی جاتی ہے۔ اس موسم خزاں میں بالشویک پارٹی (بعد میں، کمیونسٹ پارٹی) عارضی حکومت سے اقتدار چھین لیتی ہے۔ انقلاب کے کچھ مخالفین پروٹوکولز کے تصورات کو دہراتے ہیں۔ وہ یہودیوں پر روس میں کمیونزم لانے کا الزام لگاتے ہیں۔

1918–1921

روسی خانہ جنگی کے دوران کمیونسٹ مخالف فوجیں پروٹوکولز اور دیگر یہود مخالف پروپیگنڈا شائع کرتی ہیں۔ یہودیوں کے خلاف کیے جانے والے پوگرومز، بنیادی طور پر یوکرین میں دسیوں ہزار افراد کی ہلاکت کا باعث بنتے ہیں۔

1919

روسی انقلاب کے بعد یورپ فرار ہونے والے کمیونسٹ مخالف تارکین وطن اپنے ساتھ پروٹوکول کو لے جاتے ہیں۔

پروٹوکولز کا پہلا غیر روسی زبان میں ایڈیشن جرمنی میں شائع ہوتا ہے۔ ایک دہائی بعد، 1929 میں، نازی پارٹی اس ایڈیشن کے حقوقِ اشاعت حاصل کر لیتی ہے۔ 1938 تک نازی پارٹی کا اشاعتی ادارہ پروٹوکولز کے 22 ایڈیشن شائع کر چکا ہوتا ہے۔

1920

پروٹوکولز فرانس، انگلینڈ، ریاستہائے متحدہ اور جاپان میں شائع ہوتا ہے۔ ان ایڈیشنز میں 1917 کے روسی انقلاب کا الزام یہودی سازشی عناصر پر عائد کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مغرب میں کمیونزم یا بالشویزم کے پھیلاؤ سے خبردار بھی کیا جاتا ہے۔

1920

برطانوی صحافی اور سفارت کار لوسیئن وولف نے کتاب “دی جیوش بوگی اینڈ دی فورجڈ پروٹوکولز آف دی لرنیڈ ایلڈرز آف زائن” شائع کی۔ اس کتاب میں وولف پروٹوکولز کو ایک جھوٹ اور جعل سازی کے طور پر بے نقاب کرتے ہیں۔ وہ اس بات کے شواہد پیش کرتے ہیں کہ جرمن ناول “بیارٹز” (1868) میں موجود خیالات کو پروٹوکولز گھڑنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

1920

کار ساز صنعت کار ہنری فورڈ کے اخبار دی ڈیئربورن انڈیپنڈنٹ میں پروٹوکولز کی بنیاد پر 91 حصوں پر مشتمل مضامین کی ایک سلسلہ وار اشاعت کی جاتی ہے۔ بعد ازاں اسی مواد پر مبنی کتاب “دی انٹرنیشنل جیو” شائع ہوتی ہے، جس کا ترجمہ کم از کم 16 زبانوں میں کیا جاتا ہے۔

اگست 1921

دی ٹائمز (لندن) یہ انکشاف کرتا ہے کہ پروٹوکولز کا بڑا حصہ ایک فرانسیسی سیاسی طنزیہ تحریر سے نقل کیا گیا ہے: موریس جولی کی کتاب “ڈائیلاگ اِن ہیل بیٹوین ماکیاویلی اینڈ مونٹیسکیو” (1864)۔ اس کتاب میں یہودیوں کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ دی ٹائمز پروٹوکولز کو ایک “جعلی” اور “بھونڈی جعل سازی” قرار دیتا ہے۔

1921

New York Herald reporter Herman Bernstein declared the Protocols “a cruel and terrible lie invented for the purpose of defaming ...

نیو یارک ہیرلڈ رپورٹر ہرمین برنسٹائن نے پروٹوکولز کو "تماتر یہودی لوگوں کو بدنام کرنے کی خاطر ایک طالمانہ اور بدترین جھوٹ قرار دیا۔" یہ 1921 میں نیو یارک میں شائع ہوا اور پھر 1928 میں اس کی دوبارہ اشاعت ہوئی۔

کریڈٹس:
  • US Holocaust Memorial Museum

 پروٹوکولز اٹلی، سویڈن اور ناروے میں شائع ہوتے ہیں۔

نیویارک ہیرالڈ کے رپورٹر ہرمن برنسٹائن کتاب “دی ہسٹری آف اے لائی: دی پروٹوکولز آف دی وائز مین آف زائن” شائع کرتے ہیں۔ یہ پہلا موقع تھا جب امریکی قارئین کے سامنے پروٹوکولز کو ایک دھوکے اور جعل سازی کے طور پر بے نقاب کیا گیا۔

1923

نازی نظریات کے نمایاں مفکر الفریڈ روزنبرگ کتاب “دی پروٹوکولز آف دی ایلڈرز آف زائن اینڈ جیوش ورلڈ پالیسی” تحریر کرتے ہیں۔ روزنبرگ کی ان کوششوں کے نتیجے میں نازی پارٹی کے بعض رہنماؤں، جن میں ایڈولف ہٹلر بھی شامل تھے، کو پروٹوکولز کے بارے میں آگاہی حاصل ہوتی ہے۔

 1923

 پروٹوکولز پولینڈ میں شائع ہوتے ہیں۔

1924

جرمنی میں مقیم یہودی صحافی بینجمن زیگل کتاب “ڈی پروٹوکولے ڈیر وائزن فون زائن، کریٹش بیلوئختٹ” (یعنی پروٹوکولز آف دی ایلڈرز آف زائن: تنقیدی جائزہ) تحریر کرتے ہیں۔ زیگل کی یہ کتاب پروٹوکولز کو ایک جعل سازی کے طور پر مزید واضح طور پر بے نقاب کرتی ہے۔

1924

یوزف گوئبلز اپنی ڈائری میں پروٹوکولز کا حوالہ دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

میں سمجھتا ہوں کہ پروٹوکولز آف دی وائز مین آف زائن ایک جعل سازی ہیں۔ … [تاہم،] میں پروٹوکولز کی حقائق پر مبنی نہیں بلکہ اس کی اندرونی حقیقت پر یقین رکھتا ہوں۔ـ

1933 میں گوئبلز نازی حکومت کے وزیرِ عوامی آگاہی اور پروپیگنڈا بن جاتے ہیں۔

1925

ایڈولف ہٹلر اپنی خود نوشت “مائن کامف” شائع کرتا ہے۔ اس میں وہ پروٹوکولز کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے یہود مخالف دعوؤں اور سازشی نظریات کو تقویت دینے کی کوشش کرتا ہے۔

 1925

پروٹوکولز دمشق، شام میں شائع ہوتا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں ثقافت اور قوم پرستی کا ایک اہم مرکز تھا۔ پروٹوکولز کا یہ پہلا عربی ترجمہ وسیع پیمانے پر گردش میں آتا ہے۔

 1927

ہنری فورڈ “دی انٹرنیشنل جیو” شائع کرنے پر عوامی طور پر معذرت کرتے ہیں۔ فورڈ ہدایت دیتے ہیں کہ کتاب کی باقی ماندہ کاپیاں گردش سے واپس لے لی جائیں۔ وہ بیرونِ ملک ناشرین سے بھی کتاب کی اشاعت روکنے کو کہتے ہیں، تاہم وہ اس ہدایت کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

 1929

نازی پارٹی پروٹوکولز کے 1919 کے جرمن زبان کے ایڈیشن کے حقوقِ اشاعت حاصل کر لیتی ہے۔

1933

ایڈولف ہٹلر کو جرمنی کا چانسلر مقرر کیا جاتا ہے، جس سے نازی آمریت کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ نازی پروپیگنڈا نازی پارٹی کے یہود مخالف پیغام کو پھیلانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ یہی پروپیگنڈا یورپ کے یہودیوں کے خلاف ظلم و ستم—اور بعد ازاں ان کے قتل—کو آگے بڑھانے میں بھی مدد دیتا ہے۔ نازی پارٹی کے یہود مخالف اخبار ڈر شٹورمر کے ناشر جولیس شٹریشر پروٹوکولز کی تشہیر کرنے والی نمایاں سرخیوں کے ساتھ مضامین شائع کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

 1934

جنوبی افریقہ کی جینٹائل نیشنل سوشلسٹ موومنٹ (ایک نازی گروہ جسے گرے شرٹس بھی کہا جاتا تھا) پر ایسے دستاویز کی ترسیل کے باعث مقدمہ دائر کیا جاتا ہے اور جرمانہ عائد کیا جاتا ہے جو پروٹوکولز سے مشابہت رکھتا تھا۔ جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے فیصلہ دیا کہ پروٹوکولز ایک جھوٹ اور جعل سازی ہے۔

1935

1935 میں سوئٹزرلینڈ کی ایک عدالت نے سوئس نیشنل فرنٹ (ایک نازی گروہ) کے خلاف فیصلہ سنایا، کیونکہ اس نے ایک عوامی مظاہرے میں پروٹوکولز کا جرمن زبان میں ایڈیشن تقسیم کیا تھا۔ مقدمے کے جج نے پروٹوکولز کو “مضحکہ خیز بکواس” قرار دیا۔ یہ فیصلہ اس مقدمے کا نتیجہ تھا جو 1933 میں برن، سوئٹزرلینڈ میں دو یہودی تنظیموں کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔

1938

1938 تک نازی پارٹی کے اشاعتی ادارے (فرانز ایہر فرلاگ) جرمنی میں پروٹوکولز کے 22 ایڈیشن شائع کر چکے ہوتے ہیں۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ میں فادر چارلس ای۔ کافلن اپنے اخبار سوشل جسٹس میں پروٹوکولز کو قسط وار شائع کرتے ہیں۔ کافلن ڈیٹرائٹ کے مضافاتی علاقے میں مقیم ایک کیتھولک پادری تھے۔ 1930 کی دہائی کے دوران وہ اپنی ریڈیو تقاریر کے ذریعے لاکھوں سامعین تک رسائی حاصل کرتے رہے۔

 1943

دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمن حکام جرمنی کے زیرِ قبضہ فرانس، بیلجیم اور پولینڈ میں پروٹوکولز اور دیگر ایسی تحریروں کے ایڈیشن شائع کرتے ہیں جو یہودی سازشوں سے متعلق جھوٹے دعوؤں کو فروغ دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پروٹوکولز کو روسی، یوکرینی اور بیلاروسی زبانوں میں بھی شائع کرتے ہیں۔

 1943

برلن کے ریڈیو اسٹیشنوں سے نشر ہونے والی عربی زبان کی نشریات میں یروشلم کے مفتی، الحاج امین الحسینی، پروٹوکولز کے موضوعات کو دہراتے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے پاس “خفیہ صہیونی دستاویزات” موجود ہیں جو مبینہ طور پر برطانوی زیرِ انتظام لازمی فلسطین میں اسلامی مقدس مقامات کو تباہ کرنے کے یہودی منصوبوں کی تصدیق کرتی ہیں۔

1964

امریکی سینیٹ کی عدالتی کمیٹی کی ایک ذیلی کمیٹی ایک رپورٹ جاری کرتی ہے جس میں پروٹوکولز کو “ایک نہایت مکروہ فریب” قرار دیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں پروٹوکولز کو “مہمل اور بے معنی تحریر” کہا جاتا ہے، اور یہ بھی نشاندہی کی جاتی ہے کہ اس کتاب میں وہی “بڑا جھوٹ” (Big Lie) پر مبنی پروپیگنڈا تکنیک استعمال کی گئی ہے جو ہٹلر نے اختیار کی تھی۔

1974

پروٹوکولز بھارت میں “انٹرنیشنل کانسپیریسی اگینسٹ انڈینز” (یعنی ہندوستانیوں کے خلاف بین الاقوامی سازش) کے عنوان سے شائع ہوتا ہے۔

1985

پروٹوکولز کا ایک انگریزی زبان میں ایڈیشن ایران میں شائع کیا جاتا ہے۔ اس کا ناشر اسلامک پروپیگیشن آرگنائزیشن ہوتا ہے۔

1988

دہشت گرد تنظیم حماس اپنا منشور شائع کرتی ہے۔ اس کے آرٹیکل 32 میں پروٹوکولز کا حوالہ دیتے ہوئے یہودی عوام اور ریاستِ اسرائیل دونوں کی تباہی کے مطالبات کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

1993

ایک روسی عدالت فیصلہ سناتی ہے کہ پروٹوکولز ایک جعل سازی ہے۔ عدالت یہ بھی قرار دیتی ہے کہ اس کی اشاعت ایک یہود مخالف فعل ہے۔

2000

ایرانی حکومت پروٹوکولز کا فارسی زبان میں ایک ایڈیشن شائع کرتی ہے۔

2002

مصر کا ایک نجی ملکیتی ٹیلی وژن چینل “ہارس مین وِد آؤٹ اے ہارس” نشر کرتا ہے۔ یہ 41 اقساط پر مشتمل ایک سلسلہ ہے جو بڑی حد تک پروٹوکولز پر مبنی ہے۔

2002

امریکی سینیٹ ایک قرارداد منظور کرتی ہے جس میں بیرونِ ملک پروٹوکولز کے استعمال سے متعلق تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس قرارداد میں مصر کی حکومت اور دیگر عرب ریاستوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ سرکاری کنٹرول میں چلنے والے ٹیلی وژن چینلز پر کسی ایسے پروگرام کی نشریات کی اجازت نہ دیں جو پروٹوکولز کو کسی بھی طرح جواز یا ساکھ فراہم کرے۔

2003

حزب اللہ کے المنار ٹی وی پر “الشَّتات (دی ڈایاسپورا)” کے نام سے 30 اقساط پر مشتمل ایک ٹیلی وژن منی سیریز نشر کی جاتی ہے۔ اس سیریز میں پروٹوکولز میں بیان کردہ تصور کے مطابق ایک “عالمی یہودی حکومت” کی تصویر کشی کی جاتی ہے۔

2003

مصر کی اسکندریہ لائبریری میں مقدس کتب کی ایک نمائش کے دوران تورات کے ساتھ پروٹوکولز کی ایک نقل رکھی جاتی ہے۔ تورات یہودیوں کی سب سے مقدس کتاب ہے، جس میں بائبل کی پہلی پانچ کتابیں شامل ہیں۔ یونیسکو اس نمائش کی سرِعام مذمت کرتا ہے۔

2004

ایران کے عربی زبان کے چینل العالم ٹی وی پر ایک دستاویزی سلسلہ نشر کیا جاتا ہے جو پروٹوکولز سے اخذ کردہ مواد پر مبنی ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہودی ہالی ووڈ کو کنٹرول کرتے ہیں، اور اس میں ہولوکاسٹ کے وقوع پذیر ہونے کی بھی تردید کی جاتی ہے۔

2004

 پروٹوکولز کا ایک ورژن اوکیناوا، جاپان میں شائع ہوتا ہے۔

2005

This 2005 Syrian edition of the Protocols claims that the terrorist attacks of September 11, 2001, were orchestrated by a Zionist ...

پروٹوکولز کے اس شامی ایڈیشن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 11 ستمبر، 2001 کو ہونے والا دہشت گرد حملہ صیہونی سازش کا نتیجہ تھا۔ اس کے آخری باب میں بالآخر اسرائیلی ریاست کی تباہی کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ یہ دمشق، شام میں شائع ہوا، 2005 ۔ یہ اسرائیلی سفارتخانے کی طرف سے پیش کردہ تحفہ ہے۔

کریڈٹس:
  • US Holocaust Memorial Museum

پروٹوکولز کا ایک ایڈیشن میکسیکو سٹی میں شائع کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہولوکاسٹ یہودی سازشی عناصر کی جانب سے اس غرض سے منظم کیا گیا تھا کہ اس کے بدلے ریاستِ اسرائیل کا قیام عمل میں آئے۔

2005

پروٹوکولز کا ایک ایڈیشن شائع کیا جاتا ہے جس کی اجازت شام کی وزارتِ اطلاعات نے دی ہوتی ہے۔ اس میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایلڈرز آف زائن نے 11 ستمبر 2001 کو ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور ہم آہنگی کی تھی۔

2012

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد (جو 2005 سے 2013 تک عہدے پر رہے) پروٹوکولز کے موضوعات سے اخذ کردہ خیالات کو دہراتے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ یہودیوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہودی ریاستہائے متحدہ امریکہ کی حکومت کو کنٹرول کرتے ہیں۔

2020

پروٹوکولز کو اس یہود مخالف جھوٹ کی تائید کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ کووڈ-19 کی وبا کے ذمہ دار یہودی ہیں۔

2024

امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ پروٹوکولز اپنے اصل وطن، یعنی روس میں، اب بھی خاصا اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ پروٹوکولز ایک جعلی تحریر ہے، جس کا مقصد یہودیوں کے خلاف نفرت کو فروغ دینا ہے۔

Thank you for supporting our work

We would like to thank Crown Family Philanthropies, Abe and Ida Cooper Foundation, the Claims Conference, EVZ, and BMF for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.

گلاسری