<p>رھائن لینڈ کے علاقے کی فوجی تشکیل نو کے بعد بیلجیم کی سرحد پر واقع شہر آچن میں جرمن فوجیں داخل ہو رہی ہیں۔ آچن، جرمنی، 18 مارچ، 1936</p>
<p> </p>

دوسری عالمی جنگ: ٹائم لائن

اس امیج کے بارے میں اضافی معلومات

18 ستمبر 1931

جاپان منچوریا پر حملہ آور ہوتا ہے۔

2 اکتوبر 1935 - مئی 1936

فاشسٹ ملک اٹلی کا ایتھوپیا پر حملہ ہوتا ہے۔ فتح کے بعد وہ ایتھوپیا پر قبضہ کر لیتا ہے۔

25 اکتوبر - یکم نومبر 1936

نازی جرمنی اور فاشسٹ اٹلی 25 اکتوبر کو تعاون کے معاہدے پر دستخط کرتے ہیں؛ یکم نومبر کو روم ۔ برلن اتحاد کا اعلان ہوتا ہے۔

25 نومبر 1936

نازی جرمنی اور سلطنت جاپان اینٹی کومنٹم معاہدے پر دستخط کرتے ہیں۔ یہ معاہدہ سوویت یونین اور بین الاقوامی کمیونسٹ تحریک کے خلاف تھا۔

7 جولائی 1937

جاپان چین پر حملہ کر کے بحر اوقیانوس کے علاقے میں دوسری عالمی جنگ کی ابتدا کرتا ہے۔

13-11 مارچ 1938

جرمنی آسٹریہ کو آنشلس میں شامل کرتا ہے۔

29 ستمبر 1938

جرمنی، اٹلی، برطانیہ اور فرانس میونخ سمجھوتے پر دستخط کرتے ہیں جس سے چیکوسلاوک جمہوریہ سوڈیٹین لینڈ کو نازی جرمنی کے حوالے کرنے پر مجبور ہو گئی۔ اِس میں چیکوسلاوک فوج کی اہم ترین دفاعی پوزیشنیں بھی شامل تھیں۔

15-14 مارچ 1939

جرمن دباؤ کے تحت سلاوک لوگ اپنی آزادی کا اعلان کرتے ہیں اور سلاوک جمہوریہ کی تشکیل کرتے ہیں۔ جرمن میونخ سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چیک علاقوں پر قبضہ کر کے بوہیمیا اور موراویا کے ماتحت علاقے قائم کرتے ہیں۔

31 مارچ

1939 فرانس اور برطانیہ پولش ریاست کی سرحدوں کو تحفظ دینے کی ضمانت دیتے ہیں۔

15-7 اپریل 1939 فاشسٹ اٹلی البانیہ پر حملہ کر کے اُس پر قبضہ کر لیتا ہے۔

23 اگست 1939

نازی جرمنی اور سوویٹ یونین عدم جارحیت کے معاہدے اور ایک ترمیم شدہ دستاویز پر دستخط کرتے ہیں جس کی رو سے مشرقی یورپ کو اپنے زیر اثر علاقوں میں تقسیم کر لیا جاتا ہے۔

یکم ستمبر 1939

جرمنی پولینڈ پر حملہ کرتا ہے جس سے یورپ میں دوسری عالمی جنگ کا آغاز ہوجاتا ہے۔

3 ستمبر 1939

برطانیہ اور فرانس پولینڈ کی سرحدوں کے تحفظ کے وعدے کا پاس کرتے ہوئے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیتے ہیں۔

17 ستمبر 1939

مشرق کی جانب سے سوویٹ یونین پولینڈ پر حملہ کر دیتا ہے۔

29-27 ستمبر 1939

وارسا 27 ستمبر کو ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ پولینڈ کی حکومت رومانیہ کے راستے فرار ہو کر جلاوطنی اختیار کر لیتی ہے۔ جرمنی اور سوویٹ یونین پولینڈ کو آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں۔

30 نومبر 1939 تا 12 مارچ 1940

سوویٹ یونین فن لینڈ پر حملہ آور ہوتا ہے جس سے وہ جنگ چھڑ جاتی ہے جسے موسم سرما کی جنگ سے موسوم کیا جاتا ہے۔ فن لیند جنگ بندی کی درخواست کرتا ہے جس کے نتیجے میں اُسے لیگوڈا جھیل کے شمالی ساحل اور بحیرہ منجمد شمالی کی جانب فن لینڈ کا مختصر ساحل سوویٹ یونین کے قبضے میں چلے جاتا ہے۔

9 اپریل 1940 - 9 جون 1940

جرمنی ڈنمارک اور ناروے پر حملہ کرتا ہے۔ ڈنمارک حملے کے پہلے روز ہی ہتھیار ڈال دیتا ہے جبکہ ناروے 9 جون تک جنگ جاری رکھتا ہے۔

10 مئی 1940 - 22 جون 1940

جرمنی مغربی یورپ میں فرانس اور شمال مغربی ممالک پر حملہ کر دیتا ہے۔ لیگزمبرگ پر 10 مئی کو قبضہ ہو جاتا ہے جبکہ ہالینڈ 14 مئی کو اور بیلجیم 28 مئی کو ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ 22 جون کو فرانس جنگ بندی کے ایک معاہدے پر دستخط کرتا ہے جس کی رو سے جرمن فرانس کے شمالی نصف حصے اور بحر اوقیانوس سے ملحقہ تمام ساحلی علاقے پر قابض ہو جاتے ہیں۔ جنوبی فرانس میں جرمن نواز حکومت قائم ہوتی ہے جس کا دارلاحکومت وکی قرار پاتا ہے۔

10 جون 1940

اٹلی جنگ میں شامل ہو جاتا ہے۔ اٹلی 21 جون کو جنوبی فرانس پر حملہ کرتا ہے۔

28 جون 1940

سوویٹ یونین رومانیہ کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ مشرقی صوبے بیساریبیا اور بوکووینا کا شمالی نصف حصہ سوویت یوکرین کے حوالے کر دے۔

14 جون 1940 - 6 اگست 1940

سوویت یونین 14 تا 18 جون کو بالتیک ریاستوں پر قبضہ کر لیتا ہے اور اِن میں سے ہر ریاست میں 14 اور 15 جولائی کو ایک سازش کے ذریعے حکومت کا تختہ اُلٹ کر کمیونسٹ حکومت قائم کر دیتا ہے اور 3 تا 6 اگست کو اُن پر قبضہ کر کے اُنہیں سوویت جمہوریاؤں میں تبدیل کر دیتا ہے۔

10 جولائی 1940 تا 31 اکتوبر 1940

برطانوی لڑائی سے موسوم ہوائی جنگ نازی جرمنی کی شکست پر ختم ہوتی ہے۔

30اگست 1940

دوسرا ویانا ایوارڈ۔ جرمنی اور اٹلی ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے ٹرانسلوانیہ کے متنازعہ صوبے کی رومانیہ اور ہنگری کے درمیان تقسیم کا فیصلہ کرتے ہیں۔ شمالی ٹرانسلوانیہ ہاتھ سے نکل جانے کے نتیجے میں رومانیہ کا بادشاہ کیرل اپنے بیٹے مائیکل کے حق میں دستبردار ہونے پر مجبور ہو جاتا ہے اور یوں جنرل آئیون اینٹونیسکو کی سربراہی میں ایک مطلق العنان حکومت اقتدار میں آتی ہے۔

13 ستمبر 1940

اٹلی اپنے مقبوضہ ملک لیبیا سے برطانیہ کے زیر تسلط ملک مصر پر حملہ کرتا ہے۔

27 ستمبر 1940

جرمنی، اٹلی اور جاپان سہ فریقی معاہدے پر دستخط کرتے ہیں۔

اکتوبر 1940

اٹلی 28 اکتوبر کو البانیہ سے یونان پر حملہ کرتا ہے۔

نومبر

1940 سلواکیہ (23 نومبر)، ہنگری (20 نومبر) اور رومانیہ (22 نومبر) کو حلیف ملکوں کی صف میں شامل ہو جاتے ہیں۔

فروری 1941

جرمنی شمالی افریقہ میں کمزور پڑتی ہوئی اطالوی فوجوں کی مدد کیلئے افریقہ کور کو روانہ کرتا ہے۔

یکم مارچ 1941

بلغاریہ حلیف ملکوں میں شامل ہو جاتا ہے۔

6 اپریل 1941 - جون 1941

جرمنی، اٹلی، ہنگری اور بلغاریہ یوگوسلاویہ پر حملہ کر کے اُس کے ٹکڑے کر دیتے ہیں۔ یوگوسلاویہ 17 اپریل کو ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ جرمنی اور بلغاریہ اٹلی کی مدد کیلئے یونان پر حملہ کر دیتے ہیں۔ یونان میں اُن کے خلاف مزاحمت جون 1941 کے شروع میں ختم ہو جاتی ہے۔

10 اپریل 1941

دہشتگرد اُستاسا تحریک کے لیڈر نام نہاد آزاد ریاست کروئیشیا کے قیام کا اعلان کرتے ہیں۔ اِس نئی ریاست میں بوسنیا اور ہرزیگووینا کے صوبے شامل ہیں۔ جرمنی اور اٹلی اِس نئی ریاست کو فوراً تسلیم کر لیتے ہیں۔ کروئیشیا 15 جون کو رسمی طور پر حلیف قوتوں کے ساتھ مل جاتا ہے۔

22 جون 1941 - نومبر 1941

نازی جرمنی اور اُس کے حلیف (سوائے بلغاریہ کے) سوویت یونین پر حملہ کر دیتے ہیں۔ اِس حملے سے فوراً پہلے فن لیند موسم سرما کی جنگ سمیت جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اپنے کھوئے ہوئے علاقوں کی تلافی کی خاطر حلیف قوتوں کی صف میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ جرمن فوجیں تیزی کے ساتھ بالتیک ریاستوں کو روندتی ہوئی آگے بڑھتی ہیں اور فن لینڈ کی شمولیت کے بعد ستمبر تک لینن گراڈ (سینٹ پیٹڑزبرگ) کا محاصرہ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ جرمن اگست کے شروع میں سوویت یونین کے وسطی علاقے میں سمالینسک پر قبضہ کر لیتے ہیں اور پھر اکتوبر میں ماسکو کی جانب پیش قدمی کرتے ہیں۔ جنوب میں جرمن اور رومانین فوجی ستمبر میں کئیو Kyiv اور نومبر میں ڈون دریا پر واقع مقام روستوو فتح کر لیتے ہیں۔

6 دسمبر 1941

سوویت جوابی حملے نے جرمنوں کو ماسکو کے گردونواح سے بدنظمی کی حالت میں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ < P>7 دسمبر 1941

جاپان پرل ھاربر پر بمباری کرتا ہے۔

8 دسمبر 1941

امریکہ جاپان کے خلاف اعلان جنگ کر کے دوسری عالمی جنگ میں شامل ہو جاتا ہے۔ جاپانی فوجی فلپائن، فرینچ انڈو چائنا (ویت نام، لاؤس، کمبوڈیا) اور برطانوی سنگاپور پہنچ جاتے ہیں۔ اپریل 1942 تک فلپائن، انڈوچائنا اور سنگاپور جاپانی قبضے میں چلے جاتے ہیں۔

13-11 دسمبر 1941

نازی جرمنی اور اُس کے حلیف ممالک امریکہ کے خلاف اعلان جنگ کر دیتے ہیں۔

30 مئی 1942 - مئی 1945

برطانیہ کون (کولون) پر بمباری کرتا ہے اور اِس طرح جنگ کو پہلی مرتبہ جرمنی کے اندر لے جاتا ہے۔ اگلے تین برس کے دوران برطانیہ اور امریکہ کی بمباری سے جرمنی کا شہری علاقہ کھنڈر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

جون 1942

برطانیہ اور امریکہ کی بحری فوجیں جاپانی بحریہ کی بحرالکاہل میں پیش قدمی سمندر کے بیچ میں روک دیتی ہیں۔

28 جون 1942 - ستمبر 1942

جرمنی اور اُس کے حلیف سوویت یونین میں ایک نیا حملہ شروع کرتے ہیں۔ جرمن فوجی لڑتے ہوئے ستمبر کے وسط میں وولگا دریا کے قریب شہر اسٹالن گراڈ (وولگوگراڈ) جا پہنچتے ہیں اور جزیرہ نما کریمیا پر قبضے کے بعد یورپ اور ایشیاء کے درمیانی علاقے کاکیسس کے اندر دور تک پہنچ جاتے ہیں۔

اگست ۔ نومبر 1942

امریکی فوجوں نے آسٹریلیہ کی جانب جزیروں کی طرف جاپان کی پیش قدمی کو سولومن آئی لینڈز میں گواڈل کنال کے مقام پر روک دیا۔

24-23 اکتوبر 1942

برطانوی فوجیں مصر کے مقام الامین میں جرمن اور اٹلی کی فوجوں کو شکست دیتی ہیں اور یوں حلیف فوجوں کو انتہائی افراتفری کی حالت میں تمامتر لیبیا کو خالی کرتے ہوئے تیونس کے مشرقی ساحل کی جانب دھکیلے جانے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

8 نومبر 1942

امریکی اور برطانوی فوجی فرینچ شمالی افریقہ میں الجزائر اور مراکش کے ساحلوں پر کئی مقامات پر اُتر جاتے ہیں۔ اِس حملے کے خلاف دفاع میں وکی فرینچ فوجوں کی ناکامی کے باعث اتحادی فوجوں کو تیزی سے تیونس کی مغربی سرحدوں کی جانب پیش قدمی کا موقع مل جاتا ہے اور اِس کے نتیجے میں 11 نومبر کو جرمنی جنوبی فرانس پر قابض ہو جاتا ہے۔

23 نومبر 1942 - 2 فروری 1943

سوویت فوجیں جوابی حملہ کرتی ہیں اور اسٹالن گراڈ کے شمال مغرب اور جنوب مغرب کی جانب ہنگری اور رومانیہ کی فوجوں کو چیرتی ہوئی جرمنی کی چھٹی فوج کو شہر میں محصور کر دیتی ہیں۔ واپس آنے یا سوویت حصار توڑ کر باہر نکلنے سے ہٹلر کی طرف سے منع کئے جانے کی وجہ سے چھٹی فوج کے زندہ بچ جانے والے فوجی 30 جنوری اور 2 فروری 1943 کو ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔

13 مئی 1943

تیونس میں حلیف فوجیں اتحادی فوجوں کے آگے ہتھیار ڈال دیتی ہیں اور یوں شمالی افریقہ کی مہم کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

10 جولائی 1943

امریکہ اور برطانیہ کے فوجی سسلی میں اترتے ہیں۔ اگست کے وسط تک سسلی پر اتحادیوں کا کنٹرول ہو جاتا ہے۔

5 جولائی 1943

جرمن سوویت یونین میں کرسک کے قریب ٹینکوں سے ایک بہت بڑا حملہ کرتے ہیں۔ سوویت یونین ایک ہفتے کے اندر اِس حملے کو ناکام بنا دیتا ہے اور خود اپنے حملے کا آغاز کر دیتا ہے۔

25 جولائی 1943

اٹلی میں فاشسٹ گرینڈ کونسل بینیٹو میسولینی کو اقتدار سے الگ کر دیتی ہے اور یوں اٹیلین مارشل پئیٹرو بیڈوگلیو کیلئے نئی حکومت بنانے کا موقع مل جاتا ہے۔

8 ستمبر 1943

بیڈوگلیو حکومت بغیر کسی شرط کے اتحادیوں کے آگے ہتھیار ڈال دیتی ہے۔ جرمن فوری طور پر روم اور شمالی اٹلی کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں اور وہاں مسولینی کی سربراہی میں ایک کٹھ پتلی فاشسٹ حکومت قائم کر دیتی ہے جسے جرمن کمانڈو اِس مقصد کیلئے 12 ستمبر کو قید سے آزاد کر دیتے ہیں۔

9 ستمبر 1943

اتحادی فوج سالرنو اور نیپلز کے ساحلوں پر اترتی ہے۔

6 نومبر 1943

سوویت فوجیں کئیو کو آزاد کرا لیتی ہیں۔

22 جنوری 1944

اتحادی فوجیں کامیابی کے ساتھ روم کے جنوب میں اینزیو پہنچ جاتی ہیں۔

19 مارچ 1944

ہنگری کی طرف سے حلیف شراکت سے الگ ہوجانے کے خدشے کے تحت جرمنی ہنگری پر قبضہ کر لیتا ہے اور وہاں کے بادشاہ ایڈمرل مکلوس ھورتھی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ایک جرمن نواز منسٹر پریذیڈنٹ کا تقرر کرے۔

4 جون 1944

اتحادی فوجیں روم کو آزاد کرا لیتی ہیں۔ چھ ہفتوں کے اندر برطانیہ اور امریکہ کے بمبار جہاز پہلی مرتبہ مشرقی جرمنی کے اندر ٹھکانوں کو نشانہ بنا سکتے تھے۔

6 جون 1944

برطانوی اور امریکی فوجیں فرانس میں نارمنڈی کے ساحلوں پر اترتی ہیں جس جرمنوں کے خلاف "دوسرا محاذ" کھل جاتا ہے۔

22 جون 1944

سوویت فوجیں مشرقی بائیلو رشیا (بیلا روس) میں ایک بڑا حملہ کرتی ہیں اور جرمن آرمی گروپ سنٹر کو تباہ کر کے جرمن فوجوں کو یکم اگست کو مرکزی پولینڈ میں مغرب کی جانب وارسا کے سامنے وسٹولا دریا کی جانب دھکیل دیا۔

25 جولائی 1944

برطانیہ اور امریکہ کی فوجیں نارمنڈی کے ساحل پر منقسم ہو جاتی ہیں اور تیزی سے مشرق میں پیرس کا رُخ کرتی ہیں۔

یکم اگست 1944 - 5 اکتوبر 1944

غیر اشتراکی خفیہ داخلی فوج سوویت فوجوں کی آمد سے پہلے ہی وارسا کو آزاد کرانے کی کوشش میں جرمنوں کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوتی ہے سوویت افواج کی پیش قدمی وسٹولا کے مشرقی ساحل پر روک دی جاتی ہے۔ 5 اکتوبر کو جرمن وارسا میں لڑنے والی داخلی فوج کے بچے کھچے فوجیوں کی طرف سے ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کو قبول کر لیتے ہیں۔

15 اگست 1944

اتحادی افواج جنوبی فرانس میں نائس کے قریب اترتی ہیں اور تیزی کے ساتھ شمال مشرق میں دریائے رائن کی جانب پیش قدمی کرتی ہیں۔

25-20 اگست 1944

اتحادی فوجیں پیرس پہنچ جاتی ہیں۔ 25 اگست کو آزاد فرانسیسی افواج اتحادی فوجوں کی مدد سے فرانسیسی دارالحکومت میں داخل ہو جاتی ہیں۔ ستمبر تک اتحادی افواج جرمن سرحد تک پہنچ جاتی ہیں اور دسمبر تک تقریباً تمام تر فرانس ، بیلجیم کے بیشتر حصے اور جنوبی ہالینڈ کے حصوں کو آزاد کرا لیا جاتا ہے۔

23 اگست 1944

سوویت فوجوں کے پرٹ دریا پر نمودار ہونے سے رومانیہ کی حذب اختلاف کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ اینٹونیسکو حکومت کا تختہ اُلٹ دیتی ہے۔ نئی حکومت امن کا معاہدہ طے کرتی ہے اور فوری طور پر جنگ میں وفاداری تبدیل کر کے مخالف اتحاد میں چلی جاتی ہے۔ رومانیہ کی طرف سے وفاداری تبدیل کرنے کے اقدام سے بلغاریہ 8 ستمبر کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور اکتوبر میں جرمن بھی یونان، البانیا اور جنوبی یوگوسلاویہ سے نکل جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

29 اگست 1944 - 27 اکتوبر 1944

کمیونسٹ اور غیر کمیونسٹ دونوں پر مشتمل سلاوک قومی کونسل کی قیادت میں خفیہ سلاوک مزاحمتی دستے جرمنوں اور مقامی فاشسٹ سلاوک حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ 27 اکتوبر کو جرمن مزاحمت کے صدر مقام بینسکا بیسٹریکا پر قبضہ کر لیتے ہیں اور یوں منظم مزاحمت کو کچل دیتے ہیں۔

12 ستمبر 1944

فن لینڈ حلیف قوتوں کا ساتھ چھوڑ کر سوویت یونین کے ساتھ امن کا معاہدہ کر لیتا ہے۔

20 اکتوبر 1944

امریکی فوجی فلپائن پہنچتے ہیں۔

15 اکتوبر 1944

ہنگری کی فاشسٹ ایرو تحریک ہنگری کی حکومت کو سوویت یونین کے ساتھ ہتھیار ڈالنے سے متعلق مزاکرات سے روکنے کیلئے جرمن حمایت کے ساتھ حکومت کا تختہ اُلٹ دیتی ہے۔

16 دسمبر 1944

جرمن مغرب کی جانب اپنا آخری حملہ کرتے ہیں جسے بلج کی لڑائی کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ حملہ بیلجیم کو دوبارہ فتح کرنے اور جرمن سرحد کے ساتھ ساتھ موجود اتحادی فوجوں میں دراڑ ڈالنے کیلئے کیا گیا۔ یکم جنوری 1945 کو جرمن پسپا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

12 جنوری 1945

سوویت یونین ایک نیا حملہ شروع کرتا ہے اور جنوری میں وارسا اور کراکاؤ کو آزاد کرا لیتا ہے۔ سوویت یونین دو مہینے کے محاصرے کے بعد 13 فروری کو بوڈاپیسٹ پر قبضہ کر لیتا ہے اور جرمن اور اُن کے ہنگیرین حلیفوں کو اپریل کے آغاز میں ہنگری سے نکالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ براٹسلاوا پر4 اپریل کو قبضے کے بعد سلواکیا ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور 13 اپریل کو ویانا پر بھی سوویت یونین کا قبضہ ہو جاتا ہے۔

7 مارچ 1945

امریکی فوجی ریماگین پر رائن دریا پار کر جاتے ہیں۔

16 اپریل 1945

سوویت یونین برلن کا محاصرہ کرتے ہوئے اپنے آخری حملے کا آغاز کرتا ہے۔

اپریل 1945

یوگوسلاویہ کمیونسٹ پارٹی لیڈر جوسپ ٹیٹو کی سرکردگی میں عسکریت پسند دستے زغرب پر قبضہ کر لیتے ہیں اور اُستاسا حکومت کا تختہ اُلٹ دیتے ہیں۔ استاسا کی اعلٰی قیادت اٹلی اور آسٹریہ فرار ہو جاتی ہے۔

30 اپریل 1945

ہٹلر خود کشی کر لیتا ہے۔

7 مئی 1945

جرمنی مغربی اتحادیوں کے آگے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔

9 مئی 1945

جرمنی سوویت یونین کے آگے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔

مئی 1945

اتحادی فوجیں اوکی ناوا فتح کر لیتی ہیں جو جاپان کے بڑے جزیرے سے پہلے آخری اسٹاپ تھا۔

6 اگست 1945

امریکہ ہیروشیما پر ایٹم بم گراتا ہے۔

8 اگست 1945

سوویت یونین جاپان کے خلاف اعلان جنگ کر دیتا ہے اور منچوریا پر حملہ کر دیتا ہے۔

9 اگست 1945

امریکہ ناگاساکی پر ایٹم بم گراتا ہے۔

2 ستمبر 1945

14 اگست 1945 کو غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہونے کے بعد جاپان رسمی طور پر شکست تسلیم کر لیتا ہے اور یوں دوسری عالمی جنگ کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔