• 18 ستمبر 1931 جاپان منچوریا پر حملہ کرتا ہے۔
  • 2 اکتوبر 1935– مئی 1936 فاشسٹ اٹلی ایتھوپیا پر حملہ کرتا ہے، اسے فتح کرتا ہے اور اس پر قبضہ کر لیتا ہے۔
  • 25 اکتوبر–یکم نومبر 1936 نازی جرمنی اور فاشسٹ اٹلی 25 اکتوبر کو تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کرتے ہیں۔یکم نومبر کو روم- برلن ایکسس (Axis) کا اعلان کیا جاتا ہے۔
  • 25 نومبر 1936 نازی جرمنی اور سامراجی جاپان انسداد کومنترن معاہدہ پر دستخط کرتے ہیں۔ یہ معاہدہ سوویت یونین اور بین الاقوامی کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیا جاتا ہے۔
  • 7 جولائی 1937 جاپان چین پر حملہ کرتا ہے۔
  • 26 نومبر 1937 اٹلی جرمنی اور جاپان کے ساتھ انسداد کومنترن معاہدہ میں شمولیت اختیار کرتا ہے۔
  • 11–13 مارچ 1938 جرمنی آسٹریا کو انشلس میں شامل کرتا ہے۔

آسٹریا پر جرمنی کے قبضے کے فوری بعد، ایک یہودی کے ذاتی کاروبار کے باہر نازی حملہ آور فوجی نگرانی کررہے ہیں۔

  • 29 ستمبر 1938 جرمنی، اٹلی، برطانیہ اور فرانس میونخ معاہدہ پر دستخط کرتے ہیں جو چیکوسلواک رپبلک کو سوڈیٹن لینڈ بشمول چیکوسلواک کے اہم فوجی دفاعی مقامات کو نازی جرمنی کے حوالے کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
  • 14–15 مارچ 1939 جرمن دباؤ کے تحت سلواک اپنی آزادی کا اعلان کرتے ہیں اور سلوواک جمہوریہ تشکیل دیتے ہیں۔ جرمن میونخ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تباہ شدہ چیک سرزمین پر قبضہ کر لیتے ہیں اور ماتحت علاقے بوہیمیا اور موراویا تشکیل دیتے ہیں۔
  • 31 مارچ 1939 فرانس اور برطانیہ پولش ریاست کی سرحدوں کی سالمیت کی ضمانت دیتے ہیں۔
  • 7–15 اپریل 1939 فاشسٹ اٹلی البانیہ پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کرتا ہے۔
  • 23 اگست 1939 نازی جرمنی اور سوویت یونین ایک عدم جارحیت کا معاہدہ اور مشرقی یورپ کو اثر و رسوخ کے حلقوں میں منقسم کرنیوالے ایک خفیہ مسودے پر دستخط کرتے ہیں۔
  • یکم ستمبر 1939 دوسری جنگ عظیم شروع کرتے ہوئے جرمنی پولینڈ پر حملہ کرتا ہے۔
  • 3 ستمبر 1939 پولینڈ کی سرحدوں کی ضمانت کا احترام کرتے ہوئے برطانیہ اور فرانس، جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کرتے ہیں۔
  • 17 ستمبر 1939 سوویت یونین مشرق کی جانب سے پولینڈ پر حملہ کرتا ہے۔پولینڈ کی حکومت رومانیہ کے ذریعے پہلے فرانس اور پھر بعد میں برطانیہ میں فرار ہو جاتی ہے۔ 
  • 27–29 ستمبر 1939 وارسا 27 ستمبر کو ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ جرمنی اور سوویت یونین پولینڈ کو اپنے درمیان تقسیم کر لیتے ہیں۔
  • 30 نومبر 1939–12 مارچ 1940 سوویت یونین فن لینڈ پر حملہ کر کے نام نہاد سرمائی جنگ کا آغاز کرتا ہے۔ فنز جنگ بندی کی درخواست کرتے ہیں اور جھیل لاگوڈا کے شمالی ساحلوں سے سوویت یونین کے حق میں دستبردار ہو جاتے ہیں۔ وہ بحیرہ آرکٹک پر فن لینڈ کے چھوٹے ساحلی علاقوں سے بھی دستبردار ہو جاتے ہیں۔
  • 9 اپریل 1940–9 جون 1940 جرمنی، ڈنمارک اور ناروے پر حملہ کرتا ہے۔ ڈنمارک حملے والے دن ہی ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ ناروے 9 جون تک مقابلہ کرتا ہے۔
  • 10 مئی 1940–22 جون 1940 جرمنی مغربی یورپ، خاص طور پر فرانس اور غیر جانبدار زیریں ممالک (بیلجیم، نیدرلینڈز اور لکسمبرگ) پر حملہ کر دیتا ہے۔ لکسمبرگ پر 10 مئی کو قبضہ کر لیا جاتا ہے؛ نیدرلینڈز 14 مئی کو ہتھیار ڈالتا ہے؛ اور بیلجیئم نے 28 مئی کو ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ 22 جون کو فرانس ایک جنگ بندی کے معاہدہ پر دستخط کرتا ہے جس کے ذریعے جرمن ملک کے شمالی نصف حصہ اور بحر اوقیانوس کے پورے ساحلی حصے پر قبضہ جما لیتے ہیں۔ جنوبی فرانس میں، وِیکی میں اپنے دارالحکومت کے ساتھ ایک تعاون پسند حکومت قائم کی جاتی ہے۔
  • 10 جون 1940 اٹلی جنگ میں داخل ہوتا ہے۔ اٹلی 21 جون کو جنوبی فرانس پر حملہ کرتا ہے۔
  • 28 جون 1940 سوویت یونین رومانیہ کو مشرقی صوبے بیسارابیہ اور بوکووینا کے شمالی نصف حصہ سے سوویت یوکرین کے حق میں دستبردار ہونے پر مجبور کرتا ہے۔
  • 14 جون 1940–6 اگست 1940 سوویت یونین 14-18 جون کو بالٹک ریاستوں (ایستونیا، لٹویا اور لتھوینیا) پر قبضہ کرتا ہے۔ 14–15 جولائی کو یہ ان ممالک میں سے ہر ایک میں کمیونسٹ مسلح بغاوت کو منظم کرتا ہے اور پھر 3–6 اگست کو سوویت جمہوریہ ریاستوں کی حیثیت سے ان سے الحاق کرتا ہے۔
  • 10 جولائی 1940–31 اکتوبر 1940 برطانیہ کی جنگ کے نام سے مشہور فضائی جنگ نازی جرمنی کی شکست پر ختم ہوتی ہے۔
  • 30 اگست 1940 دوسرا ویانا ایوارڈ: جرمنی اور اٹلی رومانیہ اور ہنگری کے مابین متنازعہ صوبے ٹرانسلوانیا کی تقسیم کے فیصلے پر ثالثی کرتے ہیں۔ شمالی ٹرانسلوانیا کا کھو دینا رومانی بادشاہ کیرول کو اپنا تخت اپنے بیٹے مائیکل کو سونپ دینے پر مجبور کرتا ہے اور جنرل آئن انتونسکو کے تحت ایک آمریت قائم کرتا ہے۔
  • 13 ستمبر 1940 اطالوی افواج اطالوی زیرِ اختیار لیبیا سے برطانیہ کے زیرِ اختیار مصر پر حملہ کرتی ہیں۔
  • 27 ستمبر 1940 جرمنی، اٹلی اور جاپان سہ فریقی معاہدہ پر دستخط کرتے ہیں۔
  • اکتوبر 1940 اٹلی 28 اکتوبر کو البانیہ سے یونان پر حملہ کرتا ہے۔
  • نومبر 1940 ہنگری (20 نومبر)، رومانیہ (23 نومبر)، اور سلوواکیہ (24 نومبر) کو ایکسس اتحاد میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔
  • فروری 1941 ڈگمگاتے اطالویوں کو تقویت دینے کے لیے جرمن افریقہ کور کو شمالی افریقہ بھیجتے ہیں۔
  • یکم مارچ 1941 بلغاریہ ایکسیس میں شمولیت کرتا ہے۔
  • 6 اپریل 1941–جون 1941 جرمنی، اٹلی اور ہنگری یوگوسلاویہ پر حملہ کرتے ہیں اور بلغاریہ کے ساتھ مل کر اس کے علاقوں کو تقسیم کر دیتے ہیں۔ یوگوسلاویہ 17 اپریل کو ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ جرمنی اور بلغاریہ اطالویوں کی حمایت میں یونان پر حملہ کرتے ہیں۔ یونان میں مزاحمت جون 1941 کے اوائل میں ختم ہو جاتی ہے۔
  • 10 اپریل 1941 دہشت گرد اوستاشا (Ustaša) تحریک کے سربراہان کروشیا کی نام نہاد آزاد ریاست کا اعلان کرتے ہیں۔ جرمنی اور اٹلی کی طرف سے فوری طور پر تسلیم کردہ، نئی ریاست میں بوسنیا ہرزیگووینا کا صوبہ شامل کیا جاتا ہے۔ کروشیا باضابطہ طور پر 15 جون 1941 کو ایکسیس طاقتوں میں شمولیت اختیار کرتا ہے۔
  • 22 جون 1941–نومبر 1941 نازی جرمنی اور (بلغاریہ کے علاوہ) اس کے ایکسس شراکت دار سوویت یونین پر حملہ کرتے ہیں۔ فن لینڈ، نام نہاد سرمائی جنگ کے نتیجے میں جنگ بندی میں کھوئے علاقے واپس حاصل کرنے کے لیے حملے میں شامل ہونے پر اتفاق کرتا ہے۔ جرمن افواج بالٹک ریاستوں پر تیزی سے قبضہ کر لیتی ہیں اور فن افواج کے ساتھ مل کر ستمبر تک لینن گراڈ (سینٹ پیٹرزبرگ) کا محاصرہ کرتی ہیں۔ مرکز میں جرمن اگست کے شروع میں سمولینسک پر قبضہ کرتے ہیں اور اکتوبر تک ماسکو کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں۔ جنوب میں جرمنی اور رومانیہ کے فوجی ستمبر میں کیف پر قبضہ کرتے ہیں اور نومبر میں دریائے ڈان پر روستوف پر قبضہ کر لیتے ہیں۔
  • 6 دسمبر 1941 سوویت جوابی حملہ جرمنوں کو ماسکو کے مضافاتی علاقوں سے پسپا ہونے پر مجبور کرتا ہے۔
  • 7 دسمبر 1941 جاپان پرل ہاربر پر بمباری کرتا ہے۔
  • 8 دسمبر 1941 کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ دوسری جنگ عظیم میں داخل ہوتے ہوئے جاپان کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہے۔جاپانی فوجی فلپائنز، فرانسیسی ہند چین (ویت نام، لاؤس، کمبوڈیا) اور برطانوی سنگاپور میں اترتے ہیں۔ جاپانی اپریل 1942 تک فلپائن، انڈوچائنا اور سنگاپور پر قبضہ کر لیتے ہیں اور مئی میں برما کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں۔ 
  • 11–13 دسمبر 1941 نازی جرمنی اور اس کے ایکسس شراکت دار ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے خلاف اعلانِ جنگ کرتے ہیں۔
  • 30 مئی 1942–مئی 1945 برطانویوں نے بمباری مہم کے آغاز میں کولن (کولون) پر بمباری کی جو جنگ کو جرمنی کی سرزمین تک لے آئی۔ اگلے تین سالوں میں اینگلو امریکن بمباری شہری علاقوں پر مشتمل جرمنی کو تباہ کر دیتی ہے۔
  • جون 1942 امریکی بحریہ مرکزی بحرالکاہل میں جاپانی بحری پیش قدمی کو نصف راستے میں روک دیتی ہے۔
  • 28 جون، 1942 – ستمبر 1942 جرمنی اور اس کے ایکسس شراکت دار سوویت یونین میں ایک نئی جارحانہ کارروائی شروع کرتے ہیں۔ جرمن فوجی ستمبر کے وسط تک دریائے وولگا پر اسٹالن گراڈ (وولگوگراڈ) میں لڑتے ہوئے پیش قدمی کرتے ہیں اور کریمیائی جزیرہ نما کو محفوظ بنانے کے بعد قفقاز میں کافی آگے تک داخل ہو جاتے ہیں۔ شمالی افریقہ میں جرمن افواج کے مصر میں داخل ہونے کے بعد جرمنی دوسری جنگ عظیم میں اپنی فوجی کامیابی کے عروج پر تھا۔

لیفٹننٹ جنرل (بعد میں فیلڈ مارشل) ایرون رومیل نے شمالی افریقہ کی مہم کے دوران جرمن فوجوں کی کمان کی۔

 

  • 7 اگست – 9 فروری 1943 پہلی مرتبہ اتحادی افواج سولومن جزائر میں تولاگی، فلوریڈا اور گوادالکانال پر اتر کر اور قبضہ کر کے جاپانی افواج کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کا آغاز کرتی ہیں۔
  • 23–24 اکتوبر 1942 برطانوی فوجی مصر میں ال الامین میں جرمنوں اور اطالویوں کو شکست دیتے ہیں اور ایکسس افواج کو افراتفری میں پسپائی میں لیبیا کے پار تیونس کی مشرقی سرحد تک دھکیل دیتی ہے۔
  • 8 نومبر 1942 امریکی اور برطانوی فوجیں فرانسیسی شمالی افریقہ میں الجیریا اور مراکش کے ساحلوں پر کئی مقامات پر اترتی ہیں۔ ویکی فرانسیسی فوجیوں کی حملے کے خلاف دفاع کرنے میں ناکامی اتحادیوں کو تیونس کی مغربی سرحد پر تیزی سے جانے کے قابل بناتی ہے اور 11 نومبر کو جنوبی فرانس پر جرمن قبضے کی تحریک کا سبب بنتی ہے۔
  • 23 نومبر 1942–2 فروری 1943 سوویت فوجی اسٹالن گراڈ کے شمال مغرب اور جنوب مغرب میں ہنگری اور رومانیہ کی سرحدوں میں داخل ہو کر اور جرمن چھٹی فوج کو شہر میں گھیر کر جوابی حملہ کرتے ہیں۔ ہٹلر کی پسپائی اختیار کرنے یا سوویت حلقے سے نکلنے کی کوشش کرنے سے منع کرنے کی وجہ سے چھٹی فوج کے زندہ بچ جانے والے فوجی 30 جنوری اور 2 فروری 1943 کو ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔
  • 13 مئی 1943 شمالی افریقی مہم کو ختم کرتے ہوئے تیونس میں ایکسس افواج اتحادیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی ہیں۔
  • 5 جولائی 1943 جرمن سوویت یونین میں کرسک کے قریب ایک بڑے ٹینک حملے کا آغاز کرتے ہیں۔ سوویت یونین ایک ہفتے کے اندر حملے کو ناکام بناتے ہیں اور اپنی طرف سے ایک جارحانہ کارروائی کا آغاز کرتے ہیں۔
  • 10 جولائی 1943 امریکی اور برطانوی فوجی سسلی کی سرزمین پر اترتے ہیں۔ اگست کے وسط تک اتحادی سسلی کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں۔
  • 25 جولائی 1943 فاشسٹ گرینڈ کونسل بینیٹو مسولینی کو معزول کرتی ہے، اطالوی مارشل پیٹرو بڈوگلیو کو نئی حکومت قائم کرنے کے قابل بناتی ہے۔
  • 8 ستمبر 1943 بڈوگلیو حکومت اتحادیوں کے سامنے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیتی ہے۔ جرمن افواج فوری طور پر روم اور شمالی اٹلی پر قبضہ کر لیتی ہیں، مسولینی، جسے 12 ستمبر کو جرمن کمانڈوز نے قید سے رہا کر دیا تھا، کے تحت ایک کٹھ پتلی فاشسٹ حکومت قائم کرتی ہیں۔
  • 9 ستمبر 1943 اتحادی فوجی نیپلز کے قریب سالیرنو کے ساحلوں پر اترتے ہیں۔
  • 6 نومبر 1943 سوویت فوجی کیف کو آزاد کراتے ہیں۔
  • 22 جنوری 1944 اتحادی فوجی روم کے بالکل جنوب میں انزیو کے قریب کامیابی سے اترتے ہیں۔
  • 19 مارچ 1944 ہنگری کی طرف سے ایکسس شراکت داری کو چھوڑ دینے کے ارادے سے ڈرتے ہوئے جرمن افواج ہنگری پر قبضہ جما لیتی ہیں اور ریجنٹ، ایڈمرل میکلوس ہورتھی کو ایک جرمن کا حامی وزیر صدر تعینات کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔
  • 4 جون 1944 اتحادی فوجی روم کو آزاد کراتے ہیں۔ چھ ہفتوں کے اندر اینگلو امریکن بمبار پہلی بار مشرقی جرمنی میں اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
  • 6 جون 1944 برطانوی، امریکی اور کینیڈین فوجیں فرانس کے نارمنڈی ساحلوں پر کامیابی سے اترتی ہیں، جرمنوں کے خلاف "دوسرا محاذ" شروع کرتی ہیں۔
  • 22 جون 1944 سوویت افواج مشرقی بیلورشیا (بیلاروس) میں ایک بڑی جارحانہ کارروائی کا آغاز کرتی ہیں، جرمن آرمی گروپ سینٹر کو تباہ کر دیتی ہیں اور یکم اگست تک وسطی پولینڈ میں وارسا کی جانب دریائے وسٹولا کی طرف مغربی جانب بڑھنے لگتے ہیں۔
  • 25 جولائی 1944 اتحادی افواج نورمنڈی کے ساحلی مورچوں سے نکل کر پیرس کی طرف مشرق میں پیش قدمی کرتی ہیں۔
  • یکم اگست 1944–5 اکتوبر 1944 ہوم آرمی (غیر کمیونسٹ پولش مزاحمت) سوویت فوجوں کی آمد سے قبل وارسا کو آزاد کرانے کی کوشش میں جرمنوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ سوویت افواج کی پیش قدمی وسٹولا کے مشرقی کنارے پر رک جاتی ہے۔ 5 اکتوبر کو جرمن افواج وارسا میں لڑنے والی باقی ہوم آرمی فورسز کے ہتھیار ڈالنے کو قبول کر لیتی ہیں۔
  • 15 اگست 1944 اتحادی افواج نیس کے قریب جنوبی فرانس میں اترتی ہیں اور شمال مشرق میں دریائے رائن کی جانب تیزی سے پیش قدمی کرتی ہیں۔
  • 20-25 اگست 1944 اتحادی فوجی پیرس پہنچ جاتے ہیں۔ 25 اگست کو فری فرنچ فورسز، اتحادی افواج کی مدد سے فرانسیسی دارالحکومت میں داخل ہوتی ہیں۔ ستمبر تک اتحادی جرمن سرحد تک پہنچ جاتے ہیں۔ دسمبر تک، عملی طور پر پورا فرانس، بیلجیئم کا بیشتر حصہ، اور جنوبی نیدرلینڈز کا کچھ حصہ آزاد ہو چکا ہوتا ہے۔
  • 23 اگست 1944 دریائے پروٹ پر سوویت فوجیوں کا نمودار ہونا رومانین اپوزیشن کو انتونیسکو حکومت کا تختہ الٹنے کی ترغیب دیتا ہے۔ نئی حکومت جنگ بندی پر پہنچتی ہے اور فوری طور پر جنگ میں فریق بدل لیتی ہے۔ رومانیہ کا یوں پلٹ جانا بلغاریہ کو 8 ستمبر کو ہتھیار ڈالنے، اور جرمنوں کو اکتوبر میں یونان، البانیہ، اور جنوبی یوگوسلاویہ سے انخلاء کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
  • 29 اگست 1944–28 اکتوبر 1944 سلوواک نیشنل کونسل کی قیادت میں، جو کمیونسٹ اور غیر کمیونسٹ دونوں پر مشتمل تھی، زیر زمین سلوواک مزاحمتی یونٹس جرمنوں اور مقامی فاشسٹ سلوواک حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ اکتوبر کے اواخر میں جرمن شورش کے ہیڈ کوارٹر بنسکا بائسٹریکا پر تسلط قائم کرتے ہیں اور منظم مزاحمت کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔
  • 4 ستمبر 1944 فن لینڈ سوویت یونین کے ساتھ جنگ بندی پر دستخط کرنے اور جرمن افواج کو نکالنے پر رضامندی ظاہر کرتا ہے۔
  • 15 اکتوبر 1944 ہنگری کی فاشسٹ ایرو کراس (Arrow Cross) تحریک جرمن مدد کے ساتھ ایک مسلح بغاوت کرتی ہے جس کا مقصد ہنگری حکومت کو سوویت یونین کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے لیے مذاکرات کرنے سے روکنا ہوتا ہے۔
  • 20 اکتوبر 1944 امریکی فوجی فلپائن میں اترتے ہیں۔
  • 16 دسمبر 1944 جرمن بیلجیم کو دوبارہ فتح کرنے اور اتحادی افواج کو جرمن سرحد کے ساتھ تقسیم کرنے کی ایک کوشش میں مغرب میں ایک حتمی جارحانہ کارروائی شروع کرتے ہیں، جسے بلج کی لڑائی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یکم جنوری 1945 تک جرمن پسپائی اختیار کر چکے ہوتے ہیں۔
  • 12 جنوری 1945 سوویتس جنوری میں ایک نئی جارحانہ کارروائی کا آغاز کرتے ہیں اور وارسا اور کراکوف کو آزاد کرا لیتے ہیں۔ وہ 13 فروری کو دو ماہ کے محاصرے کے بعد بوڈاپیسٹ پر قبضہ کر لیتے ہیں اور اپریل کے آغاز میں جرمنوں اور ان کے ہنگری کے شریک کاروں کو ہنگری سے باہر نکال دیتے ہیں۔ 
  • 7 مارچ 1945 امریکی فوجی ریمجن میں دریائے رائن کو پار کرتے ہیں۔
  • 4 اپریل 1945 براٹیسلاوا پر قبضہ سلوواکیہ کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرتا ہے۔
  • 13 اپریل 1945 سوویت افواج ویانا پر قبضہ کر لیتی ہیں۔ 
  • 16 اپریل 1945 سوویت افوج اپنا حتمی حملہ کرتی ہیں، برلن کا محاصرہ کر لیتی ہیں۔
  • اپریل 1945 یوگوسلاو کمیونسٹ سربراہ جوسیپ ٹیٹو کی قیادت میں حامی یونٹس زگریب پر قبضہ جماتی اور اوستاشا (Ustaša) حکومت کا تختہ الٹ دیتی ہیں۔ اوستاشا کے بڑے سربراہان اٹلی اور آسٹریا فرار ہو جاتے ہیں۔
  • 30 اپریل 1945 ہٹلر خودکشی کر لیتا ہے۔
  • 7-8 مئی 1945 جرمنی 7 مئی کو رمس میں شمال مغربی یورپ میں اتحادی افواج کے کمانڈر، امریکی جنرل ڈیوائٹ ڈی آئزن ہاور کے ہیڈ کوارٹر میں غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے پر دستخط کرتا ہے۔ ہتھیار ڈالنے کا اطلاق 8 مئی کو مرکزی یورپی وقت (CET) بوقت رات 11:01 بجے سے ہوتا ہے۔
  • 8 مئی 1945 جرمنی برلن میں ہتھیار ڈالنے کی ایک دوسری بالکل ویسی ہی دستاویز پر دستخط کرتا ہے۔ یہ بھی 8 مئی کو رات 11:01 مرکزی یورپی وقت سے لاگو ہوتا ہے۔ ماسکو میں یہ پہلے ہی 9 مئی کی نصف شب کے بعد کیا گیا تھا۔ 
  • مئی 1945 اتحادی فوجیں مرکزی جاپانی جزائر سے پہلے آخری جزیرہ اوکیناوا کو فتح کرتی ہیں۔
  • 6 اگست 1945 امریکہ ہیروشیما پر ایٹم بم گراتا ہے۔
  • 8 اگست 1945 سوویت یونین جاپان کے خلاف اعلان جنگ کر کے منچوریا پر حملہ کرتا ہے۔
  • 9 اگست 1945 امریکہ ناگاساکی پر ایٹم بم گراتا ہے۔
  • 2 ستمبر 1945 14 اگست 1945 کو غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی شرائط پر اتفاق کرنے کے بعد جاپان باضابطہ طور پر ہتھیار ڈال دیتا ہے اور دوسری جنگ عظیم ختم ہو جاتی ہے۔

نازی جرمنی کی شکست، 1942-1945

جنگِ عظیم دوم کے بارے میں اکثر پوچھے گئے سوالات

جنگِ عظیم دوم کتنا عرصہ تک چلتی رہی؟

دوسری جنگ عظیم چھ سال، یعنی 1939 سے 1945 تک جاری رہی۔

جنگِ عظیم دوم کب شروع ہوئی؟

دوسری جنگ عظیم کا آغاز یکم ستمبر 1939 کو جرمن افواج کے پولینڈ پر حملے سے ہوا۔

یورپ میں جنگِ عظیم دوم کب ختم ہوئی؟

جرمن مسلح افواج  نے 7 مئی 1945 کو اتحادیوں کے سامنے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیے۔ ہتھیار ڈالنے کا عمل اگلے دن، 8 مئی کو باضابطہ طور پر عمل میں آیا۔ 

دوسری جنگ عظیم باضابطہ طور پر یورپ کے بیشتر حصوں میں 8 مئی (یومِ فتح یورپ) کو ختم ہوئی۔ وقت کے فرق کی وجہ سے سوویت افواج  نے 9 مئی 1945 کو اپنے "یوم فتح" کا اعلان کیا۔

بحر الکاہل کے علاقے میں جنگِ عظیم دوم کب ختم ہوئی؟

دوسری جنگ عظیم جاپان کی طرف سے ہتھیار ڈالنے کی دستاویزات پر باضابطہ دستخط کرنے کے ساتھ بحرالکاہل کے علاقے میں 2 ستمبر 1945 کو اپنے اختتام کو پہنچی۔