ہولوکاسٹ سے پہلے آئشی شاک کی یہودی برادری ایک بھرپور ثقافتی اور مذہبی زندگی رکھتی تھی۔ آئشی شاک کو ایک “شٹیٹل” سمجھا جاتا تھا۔ “شٹیٹل” یدش زبان کا لفظ ہے جو مشرقی یورپ کے ایسے چھوٹے تجارتی قصبے کے لیے استعمال ہوتا ہے جہاں یہودی آبادی اکثریت میں ہو۔ جب دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی تو آئشی شاک پولینڈ کا حصہ تھا۔ تاہم جنگ کے دوران یہ علاقہ کئی مرتبہ مختلف طاقتوں کے قبضے میں گیا۔ جون 1941 میں جب جرمن افواج نے اس قصبے پر قبضہ کیا، اُس وقت یہ لتھووانیا کا حصہ تھا۔
ستمبر 1941 میں جرمن آئنسیٹز کمانڈو 3 اور لتھووانین معاون دستوں نے آئشی شاک میں ایک ہولناک قتلِ عام کیا۔ انہوں نے تقریباً 3,500 یہودیوں کو گولی مار کر قتل کر دیا، جن میں قصبے کے بیشتر باشندے شامل تھے۔ صرف چند دنوں کے اندر صدیوں پرانی یہودی برادری مکمل طور پر تباہ کر دی گئی۔
پہلی عالمی جنگ سے پہلے آئشی شاک میں بازار کے دن رہائشیوں اور گھوڑا گاڑیوں کا منظر۔
آئشی شاک کی معاشی زندگی بازار کے مرکزی چوک اور وہاں ہر جمعرات کو لگنے والی ہفتہ وار منڈی کے گرد گھومتی تھی۔ قصبے کے مرکز میں واقع بازار کے چوک میں بہت سی دکانیں اور کاروباری مراکز قائم تھے۔ ان کے گاہکوں میں یہودی اور پولش شہریوں کے علاوہ پولش کسان بھی شامل ہوتے تھے۔
آئٹم دیکھیں
آئشی شاک کے فائر بریگیڈ آرکسٹرا کے اراکین، جن میں یہودی اور پولش موسیقار دونوں شامل تھے۔ پہلی عالمی جنگ (1914–1918) کے دوران برادری کے فائر ہاؤس میں ایک آرکسٹرا پٹ تعمیر کیا گیا تھا۔ بازار کے مرکزی چوک میں واقع یہ فائر ہاؤس تھیٹر کی پیشکشوں کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا۔
آئٹم دیکھیں
یہودی اداکارہ اور ہوٹل کی مالک زینا کاتزینیلن بوئیگن کی آئشی شاک میں تصویر۔ زینا پانچ زبانوں میں روانی رکھتی تھی اور اس نے کمیونٹی میں ایک کتب خانہ قائم کرنے میں مدد کی۔ تصویر بیالسٹوک، پولینڈ میں لی گئی۔
جب جرمن افواج نے جون 1941 میں آئشی شاک پر قبضہ کر لیا، تو انہوں نے زینا کے ہوٹل کو اپنے مقامی ہیڈ کوارٹر کے طور پر استعمال کیا۔ آئنسیٹز کمانڈو3 اور لیتھوانین معاون افواج نے ستمبر 1941 کے قتل عام کے دوران بعد میں زینا کو قتل کر دیا۔
آئٹم دیکھیں
مردوں کا ایک گروہ آئشی شاک کے بس اڈے اور “شیل” گیس اسٹیشن کے قریب کھڑی ایک بس کے سامنے کھڑا ہے۔ بائیں سے دائیں ترتیب کے مطابق: دو نامعلوم بس ڈرائیور، ایک مقامی پولش پولیس اہلکار، ابراہام کریسیلوف، اسرائیل ایرلِخ، اور موشے سلونِمسکی کھڑے ہیں۔ اُن کے پیچھے ڈرائیور کی نشست پر بیٹھا ایک بچہ مسکراتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
ابراہام اور موشے، جو اس گیس اسٹیشن کے مشترکہ مالک تھے، ستمبر 1941 میں آئشی شاک کے قتلِ عام کے دوران مارے گئے۔ اسرائیل کو الگ سے قتل کیا گیا تھا۔
آئٹم دیکھیں
میں آئشی شاک میں دوستوں کا ایک گروہ اَوریمیلے بوٹوِنک کی بار مِٹزوہ تقریب منا رہا ہے۔ اَوریمیلے درمیان میں کیک کے پیچھے مسکراتے ہوئے بیٹھا ہے۔ اُس کے قریب بیٹھے ہوئے موشے باسٹونسکی (بائیں جانب سے دوسرے نمبر پر) اور آویگدور کاٹز (دائیں جانب) ہیں۔ اَوریمیلے کے پیچھے کھڑے افراد میں الیشا کوپل مین (بائیں جانب سے دوسرے نمبر پر) اور موشے کاپلان (دائیں جانب سے دوسرے نمبر پر) شامل ہیں۔
اَوریمیلے بعد میں ایک پارٹیزن مزاحمتی جنگجو بن گیا، اور تصویر میں موجود افراد میں سے دوسری عالمی جنگ سے زندہ بچنے والا واحد شخص تھا۔ تصویر میں موجود سات بچے ستمبر 1941 میں آئشی شاک کے قتلِ عام میں مارے گئے، جبکہ الیشا کو الگ سے قتل کیا گیا تھا۔
آئٹم دیکھیں
آئشی شاک میں ایک نوجوان خاتون کی فلسطین روانگی سے پہلے اُس کے اعزاز میں لوگوں کا ایک گروہ جمع ہے۔ اس تصویر میں موجود زیادہ تر افراد ہولوکاسٹ کے دوران قتل کر دیے گئے۔ مریم کاباچنک (درمیانی قطار میں دائیں جانب سے چوتھے نمبر پر) اور زینا بلاخارَوِچ (درمیانی قطار میں انتہائی دائیں جانب) چھپ کر زندہ بچنے میں کامیاب رہیں۔
آئٹم دیکھیں
آلٹے کاٹز آئشی شاک کے مرکزی چوک میں واقع اپنے فوٹو اسٹوڈیو اور دواخانے کی سیڑھیوں پر خاندان کے افراد کے ساتھ تصویر بنوا رہی ہیں۔ اُنہوں نے اپنے بیٹے آویگدور (بائیں جانب) اور اپنے پوتے یتزک (دائیں جانب) کو بازوؤں میں لیا ہوا ہے۔ سامنے کھڑا بچہ آلٹے کے بھتیجے کا بیٹا شاؤل ہے۔
ستمبر 1941 میں جرمن آئنسیٹز کمانڈو 3 اور لتھووانین معاون دستوں نے آلتے، آویگدور، اور شاؤل کو گولی مار کر قتل کر دیا۔ یتزق چھپ کر ہولوکاسٹ سے زندہ بچنے میں کامیاب رہا۔
آئٹم دیکھیں
جون 1941 کو یافا سونینسن (جو بعد میں ایلیاخ کہلائیں) ٹیٹلانس میں اپنے خاندان کے گرمائی گھر کے سامنے مرغیوں کو دانہ ڈال رہی ہیں۔ کیمرے کے پیچھے اُن کی دادی آلٹے کاٹز موجود ہیں، جو آئشی شاک میں ایک فوٹو اسٹوڈیو کی مالک تھیں۔ یافا چھپ کر ہولوکاسٹ سے زندہ بچ گئیں، لیکن اُن کی دادی قتل کر دی گئیں۔
برسوں بعد یافا نے ہولوکاسٹ سے پہلے آئشی شاک کی زندگی کی یادوں کو دوبارہ محفوظ کرنے کا عزم کیا۔ پندرہ برسوں کے دوران وہ برادری کی تصاویر کی تلاش میں دنیا بھر کا سفر کرتی رہیں۔ اُن کی جمع کردہ ایک ہزار سے زیادہ تصاویر اب “یونائیٹڈ اسٹیٹس ہولوکاسٹ میموریل میوزیم” میں قائم تین منزلہ ٹاور میں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔
آئٹم دیکھیں
We would like to thank Crown Family Philanthropies, Abe and Ida Cooper Foundation, the Claims Conference, EVZ, and BMF for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of donor acknowledgement.