Students and teachers mark the official establishment of the Hebrew school in Eyshishok

آئشی شاک: یہودی کمیونٹی کا خاتمہ

نازی جرمنی اور اُس کے اتحادیوں اور معاونین نے مشرقی یورپ کے مقبوضہ علاقوں میں یہودیوں کو نشانہ بناتے ہوئے اجتماعی فائرنگ اور قتلِ عام کی کارروائیاں کیں۔ اِسے بعض اوقات “گولیوں کے ذریعے ہولوکاسٹ” بھی کہا جاتا ہے۔ ان اجتماعی فائرنگ  کے واقعات اور متعلقہ قتلِ عام میں تقریباً بیس لاکھ یہودی قتل کر دیے گئے۔ اس طرح جرمن حکام نے مشرقی یورپ کے پندرہ سو سے زیادہ دیہات، قصبوں اور شہروں میں آباد یہودی برادریوں کو تباہ کر دیا۔ اَئشی شاک بھی انہی برادریوں میں سے ایک تھی۔

اہم حقائق

  • 1

    دوسری عالمی جنگ سے پہلے اَئشی شاک شمال مشرقی پولینڈ میں واقع ایک ایسا قصبہ تھا جہاں یہودی آبادی اکثریت میں تھی۔ جنگ کے دوران اَئشی شاک پر مختلف اوقات میں مختلف طاقتوں کا قبضہ رہا۔

  • 2

    25 اور 26 ستمبر 1941 کو جرمن آئنسیز کمانڈو 3 اور لتھواینین معاون دستوں نے تقریباً 3,500 یہودیوں کو گولی مار کر قتل کر دیا، جن میں قصبے کے بیشتر رہائشی شامل تھے۔

  • 3

    اَئشی شاک کے یہودیوں کی یاد کو “ٹاور آف فیسز” میں محفوظ کیا گیا ہے، جو “یونائیٹڈ اسٹیٹس ہولوکاسٹ میموریل میوزیم” کی ایک نمائش ہے۔ اس ٹاور میں ہولوکاسٹ سے پہلے کی زندگی کی ایک ہزار سے زیادہ تصاویر پیش کی گئی ہیں۔

اَئشی شاک کی یہودی برادری اُن زندگیوں اور بستیوں کی علامت بن چکی ہے جو ہولوکاسٹ میں تباہ کر دی گئیں۔ اَئشی شاک کے لوگوں کی یاد “یونائیٹڈ اسٹیٹس ہولوکاسٹ میموریل میوزیم” کی نمائش “ٹاور آف فیسز” میں محفوظ کی گئی ہے۔

تاریخی طور پر اَئشی شاک کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا رہا ہے، جن میں “ایج شی شکی” (پولش) اور “ای شی شکیس” (لتھوانین) شامل ہیں۔ “اَئشی شاک” اس قصبے کا یدش نام ہے، اور یہی نام وہاں رہنے والی یہودی برادری عام طور پر استعمال کرتی تھی۔

آج اَئشی شاک لتھووانیا کے ضلع ولنیئس میں، لتھواینیا اور بیلاروس کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ تاہم جب دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی، اُس وقت یہ علاقہ پولینڈ کا حصہ تھا۔

آئشی شاک اور اُس کے گرد و نواح کا علاقہ تنوع اور گوناگونی کی ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔ یہ علاقہ مختلف مذاہب، قومیتوں اور زبانوں کا مرکز تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ تین سو برسوں میں اس خطے پر کئی مرتبہ مختلف طاقتوں کا قبضہ رہا۔ تاریخی طور پر اس علاقے میں مختلف نسلی گروہ آباد تھے جو الگ الگ زبانیں بولتے تھے، جن میں بیلاروسی، یہودی، لتھووانین، پولش، تاتار اور دیگر قومیں شامل تھیں۔ یہ ایک کثیرالمذاہب خطہ بھی تھا جہاں کیتھولک، یہودی، مسلمان اور آرتھوڈوکس عیسائی آباد تھے۔

ہولوکاسٹ سے پہلے آئشی شاک کو ایک “شٹیٹل” سمجھا جاتا تھا۔ “شٹیٹل” یدش زبان کا ایک لفظ ہے جو مشرقی یورپ کے ایسے چھوٹے تجارتی قصبے کے لیے استعمال ہوتا ہے جہاں یہودی آبادی اکثریت میں ہو۔ انیسویں صدی کے اواخر میں آئشی شاک کی آبادی تقریباً دو ہزار سے تین ہزار افراد پر مشتمل تھی۔ اس آبادی کا تقریباً ستر فیصد حصہ یہودیوں پر مشتمل تھا۔ باقی تیس فیصد باشندے زیادہ تر پولش تھے، جن میں سے بہت سے رومن کیتھولک مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ آئشی شاک اور اُس کے گرد و نواح میں زیادہ تر کسان نسلی طور پر پولش تھے۔ تاہم اس علاقے میں لتھووانین، تاتار اور بیلاروسی لوگ بھی آباد تھے، اور اُن کے آئشی شاک کے باشندوں کے ساتھ روابط اور تعلقات موجود تھے۔

آئشی شاک میں یہودی برادری

ہولوکاسٹ سے پہلے آئشی شاک میں یہودی برادری کے وجود کی دستاویزی تاریخ ڈھائی سو سال سے بھی زیادہ پر محیط ہے۔ دو عالمی جنگوں کے درمیانی دور میں آئشی شاک کی یہودی آبادی تقریباً دو ہزار افراد پر مشتمل تھی۔ تاہم جنگوں اور ہجرت کے باعث اس آبادی کی درست تعداد وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتی رہتی تھی۔

آئشی شاک کے یہودیوں کی زندگی گہرے طور پر یہودی روایات سے جڑی ہوئی تھی۔ قصبے میں یہودی ثقافتی تنظیمیں، تعلیمی سرگرمیاں، اور فلاحی انجمنیں موجود تھیں۔ مرکزی چوک کے قریب ایک عبادت گاہی کمپلیکس قائم تھا۔ عبادت گاہ کے صحن، جسے “شول ہوئف” کہا جاتا تھا، میں تورات کی تعلیم کے لیے دو مخصوص مقامات موجود تھے، یعنی پرانا اور نیا “باتے مِدراش”، جبکہ وہاں ایک مذہبی غسل خانہ “مِکواہ” بھی تھا۔ اس کے علاوہ ایک عبرانی ڈے اسکول بھی قائم تھا۔

آئشی شاک کی معاشی زندگی بازار کے مرکزی چوک اور وہاں ہر جمعرات کو لگنے والی ہفتہ وار منڈی کے گرد گھومتی تھی۔ قصبے کے مرکز میں واقع بازار کے چوک میں بہت سی دکانیں اور کاروباری مراکز قائم تھے۔ ان کے گاہکوں میں یہودی اور پولش شہریوں کے علاوہ پولش کسان بھی شامل ہوتے تھے۔ قصبے کے بہت سے یہودی خاندان چھوٹے کاروبار چلاتے اور اُن کے مالک تھے، جیسے بیکریاں، فوٹوگرافی اسٹوڈیو، سرائیں، اور کریانے کی دکانیں۔ بعض یہودی موچی، درزی، لوہار، قصاب یا دیگر خدمات سے وابستہ تھے۔ 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں ان میں سے بہت سے کاروبار مشکلات کا شکار ہو گئے۔ اُس زمانے میں پولش حکومت کی معاشی پالیسیوں نے یہودیوں کی ملکیت میں چلنے والے کاروبار اور تجارت کو منفی طور پر متاثر کیا۔

Shtetl bus stop and gas station

مردوں کا ایک گروہ آئشی شاک کے بس اڈے اور “شیل” گیس اسٹیشن کے قریب کھڑی ایک بس کے سامنے کھڑا ہے۔ بائیں سے دائیں ترتیب کے مطابق: دو نامعلوم بس ڈرائیور، ایک مقامی پولش پولیس اہلکار، ابراہام کریسیلوف، اسرائیل ایرلِخ، اور موشے سلونِمسکی کھڑے ہیں۔ اُن کے پیچھے ڈرائیور کی نشست پر بیٹھا ایک بچہ مسکراتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

ابراہام اور موشے، جو اس گیس اسٹیشن کے مشترکہ مالک تھے، ستمبر 1941 میں آئشی شاک کے قتلِ عام کے دوران مارے گئے۔ اسرائیل کو الگ سے قتل کیا گیا تھا۔

کریڈٹس:
  • United States Holocaust Memorial Museum, courtesy of The Shtetl Foundation

اگرچہ آئشی شاک کی یہودی برادری ایک دوسرے سے گہری وابستگی رکھتی تھی، لیکن وقت کے ساتھ اس میں تنوع بھی بڑھتا جا رہا تھا۔ 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں علاقے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی نے آئشی شاک کو بیرونی دنیا سے زیادہ باقاعدگی کے ساتھ جوڑ دیا۔ 1920 کی دہائی میں پولش حکومت نے ایک پختہ شاہراہ تعمیر کی جو آئشی شاک سے گزرتی تھی۔ قصبے کے مرکز میں ایک یہودی خاندان “شیل” پٹرول اسٹیشن چلاتا تھا جہاں بسیں ایندھن بھرواتی تھیں۔ 1931 میں اس قصبے میں پہلی مرتبہ بجلی آئی۔

آئشی شاک کی یہودی برادری کے تمام افراد ایک جیسے سیاسی نظریات یا مذہبی طرزِ فکر نہیں رکھتے تھے۔ نسلی اور سیاسی اختلافات، جو اُس زمانے میں یورپ اور شمالی امریکہ کے بڑے حصوں میں کشیدگی پیدا کر رہے تھے، آئشی شاک میں بھی نمایاں نظر آتے تھے۔ نوجوان نسلیں شٹیٹل کی روایات سے دور ہوتی جا رہی تھیں۔ بہت سے نوجوان بڑے شہروں اور ثقافتی مراکز، جیسے ولنا (ولنو/ولنیئس)، کی جدید زندگی کی طرف مائل تھے۔ بعض نوجوان جدید اور سیکولر سیاسی تحریکوں، مثلاً کمیونزم، سے بھی متاثر ہو رہے تھے۔

آئشی شاک میں بین النسلی تعلقات

آئشی شاک میں یہودی علاقے کی دوسری برادریوں سے الگ تھلگ زندگی نہیں گزارتے تھے۔ آئشی شاک میں یہودی اور غیر یہودی ایک دوسرے کے قریب رہتے تھے اور روزمرہ کی بنیاد پر مل کر کام کرتے تھے۔ بہت سے لوگوں کے درمیان قریبی تعلقات بھی موجود تھے۔ بعض پولش کسان تو اُن یہودی مہمانوں کے لیے، جو “کوشَر” غذائی اصولوں پر عمل کرتے تھے (یعنی یہودی مذہبی قوانین کے مطابق سخت غذائی ضابطے اپناتے تھے)، الگ برتن بھی رکھتے تھے۔

مثال کے طور پر کاباچنک خاندان قصبے کے نمایاں یہودی خاندانوں میں شمار ہوتا تھا۔ وہ چمڑے کو تیار کرنے کے کارخانے اور چمڑے کے تھوک کاروبار کے مالک تھے۔ اُن کے بہت سے ملازمین پولش تھے، جن میں اُن کی ملازمہ بھی شامل تھی جو خاندان کے ساتھ یدش زبان میں گفتگو کرتی تھی۔ کاباچنک خاندان کے قصبے کے بعض پولش خاندانوں کے ساتھ بہت قریبی تعلقات تھے۔ مریم کاباچنک نے یاد کرتے ہوئے کہا:

یہ ایک معمول کی زندگی تھی۔ ایک معمول کی، اچھی زندگی۔ ہم ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ ماحول دوستانہ تھا۔ لوگ خوش آمدید کہتے تھے۔ ہم نے کبھی اپنے دروازوں کو تالا نہیں لگایا۔ دروازے ہمیشہ کھلے اور بغیر تالے کے رہتے تھے۔ اور غیر یہودیوں میں ہمارے بہت سے دوست تھے۔ وہ ہمیشہ ہمارے گھر میں خوش آمدید ہوتے تھے اور آتے جاتے رہتے تھے۔

لیکن آئشی شاک میں افراد اور مختلف گروہوں کے درمیان بعض مشکلات بھی موجود تھیں۔ بعض اوقات تعلقات تعصبات اور باہمی رنجشوں سے متاثر ہوتے تھے۔ یہ مشکلات اکثر مذہبی اور طبقاتی اختلافات میں جڑی ہوئی تھیں۔ مثال کے طور پر، بازار کے دن کسانوں اور شہریوں کے درمیان اکثر جھگڑے ہو جاتے تھے۔ بعض یہودی بچوں کو اپنے اسکول کے دنوں کے اختلافات یاد تھے، جن میں اُن کے پولش ہم جماعت یہود مخالف گالیاں اور توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے تھے۔

دوسری عالمی جنگ نے آئشی شاک میں موجود تعلقات کو بدل کر رکھ دیا۔ قابض افواج نے مختلف گروہوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا۔ اس عمل نے برسوں پرانے نسلی اور طبقاتی تعلقات اور توازن کو تہس نہس کر دیا۔ نازی قبضے کی سفاکیت خاص طور پر تباہ کن اور عدم استحکام پیدا کرنے والی ثابت ہوئی۔

آئشی شاک اور دوسری عالمی جنگ کے حالات و واقعات

دوسری عالمی جنگ کا آغاز یورپ میں ستمبر 1939 میں جرمنی کے پولینڈ پر حملے سے ہوا۔ دو ہفتے بعد سوویت یونین نے مشرقی پولینڈ پر حملہ کر کے اُس پر قبضہ کر لیا۔ سوویت قبضے والے اس علاقے میں آئشی شاک بھی شامل تھا۔ اکتوبر 1939 میں سوویت یونین نے آئشی شاک اور اس کے گرد و نواح کے علاقے لتھووانیا کے حوالے کر دیے۔

آئشی شاک بطور لتھوانیائی سرحدی قصبہ (1939–1940)

اکتوبر 1939 سے آئشی شاک لتھووانیا کا حصہ بن گیا۔ یہ قصبہ لتھووانیا اور سوویت قبضے والے پولینڈ کی سرحد سے صرف چند میل کے فاصلے پر واقع تھا۔

سرحدی قصبہ ہونے کے باعث آئشی شاک یہودی مہاجرین کے لیے ایک عبوری مرکز بن گیا۔ اُس زمانے میں یہودی اور دوسرے افراد اب بھی لتھووانیا کے راستے جرمن اور سوویت قبضے والے پولینڈ سے فرار ہو سکتے تھے۔ بہت سے لوگ لتھووانین سرحدی پولیس سے بچتے ہوئے غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرتے تھے۔ مقامی کسان اکثر مہاجرین کو سرحد پار کروا کر آئشی شاک اور پھر ولنا تک پہنچانے میں مدد دیتے تھے۔ ان مہاجرین کو خوراک، رہائش اور راستوں کی معلومات درکار ہوتی تھیں۔ آئشی شاک کے ربی، شمعون روزووسکی، نے اُن کی مدد کے لیے ایک کمیٹی قائم کی۔

آئشی شاک کے یہودیوں نے انہی مہاجرین سے جرمن قبضے والے پولینڈ میں یہودیوں پر ہونے والے نازی مظالم کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

لتھووانیا پر سوویت قبضہ (موسم گرما 1940 سے جون 1941)

1940 کے موسمِ گرما میں سوویت یونین نے لتھووانیا پر حملہ کر کے اُسے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ اس طرح آئشی شاک ایک مرتبہ پھر سوویت کنٹرول میں آ گیا۔ سوویت حکام نے لتھووانیا کے انتظامی ڈھانچے کو بدل دیا اور علاقائی و مقامی سطح پر کمیونسٹوں کو اقتدار میں لے آئے۔ سوویت حکومت نے ہزاروں لوگوں کو جبراً سائبیریا جلا وطن بھی کر دیا۔

ایک کمیونسٹ ریاست ہونے کے ناطے سوویت کنٹرول میں آنے والا لتھووانیا مذہب اور آزاد تجارت کے خلاف تھا۔ نئی حکومت نے مقبوضہ لتھووانیا میں بہت سے لوگوں، خواہ وہ یہودی ہوں یا غیر یہودی، کے خلاف سخت پالیسیاں نافذ کیں۔ کمیونسٹ حکام نے نجی جائیداد کو سرکاری تحویل میں لے لیا۔ آئشی شاک میں بعض خوشحال باشندے اسی طرح اپنے کاروبار اور گھروں سے محروم ہو گئے۔ حکومت نے بعض مذہبی ادارے بھی بند کر دیے۔

آئشی شاک میں مقامی یہودی، جو کمیونسٹوں کے حامی تھے، اپنی ہی برادری کے اندر ان پالیسیوں پر عمل درآمد کرتے تھے۔ انہوں نے ربی روزووسکی کو اُن کے گھر سے نکلنے پر مجبور کر دیا اور عبرانی ڈے اسکول بند کر دیا۔ تاہم عبادت گاہ کھلی رہی، اور برادری مذہبی تہوار مناتی رہی۔

لتھووانیا میں بہت سے یہودیوں اور غیر یہودیوں نے سوویت کنٹرول کو مسترد کر دیا۔ وہ نئی کمیونسٹ حکومت کی قومیانے کی پالیسیوں کے مخالف تھے۔ بعض لتھووانین افراد سوویت پالیسیوں کا ذمہ دار یہودیوں کو ٹھہرانے لگے۔ سوویت قبضے نے نئی رنجشوں کو جنم دیا، جو اکثر پہلے سے موجود تعصبات پر مبنی تھیں۔

جرمن قبضے کے دوران لتھووانیا (جون 1941–1944)

22 جون 1941 کو نازی جرمنی نے سوویت یونین پر حملہ کر دیا، جس میں سوویت قبضے والا پولینڈ اور لتھووانیا بھی شامل تھے۔ نازیوں نے کمیونزم کے خلاف ایک انتہائی سفاک مہم شروع کی اور اُن لوگوں کو قتل کیا جو سوویت قابض حکومت کے لیے کام کر چکے تھے۔ بہت سے لتھووانین لوگ سوویت قبضے کے خاتمے پر خوش تھے اور امید رکھتے تھے کہ لتھووانیا دوبارہ ایک آزاد ملک بن جائے گا۔

بعض کمیونزم مخالف لتھووانین افراد نے جرمن فوج کی آمد کا خیر مقدم کیا۔ نئی قوم پرست لتھووانین ملیشیائیں تشکیل پائیں، جو بعد میں کمیونسٹوں کے خلاف جرمن مہم میں شامل ہو گئیں۔ بعض مواقع پر ان ملیشیاؤں نے یہودیوں پر بھی حملے کیے اور قتل و غارت پر مبنی فسادات برپا کیے۔ جرمن پروپیگنڈا لتھووانین لوگوں کو یہودیوں کو سوویت اقتدار کا ذمہ دار ٹھہرانے پر اُکساتا تھا، جبکہ جرمن حکام نے ان میں سے بہت سے فسادات کو خود بھڑکایا۔

اگست 1941 میں جرمنوں نے مقبوضہ لتھووینیا میں ایک جرمن سول انتظامیہ قائم کی۔ جرمن حکام نے انتظامی عہدوں پر بہت سے لتھووانین افراد کو مقرر کیا۔

آئشی شاک پر جرمن قبضہ

جون 1941 کے اواخر میں جرمن فوج آئشی شاک پہنچ گئی۔ تاہم وہ وہاں صرف چند ہفتوں تک رہی۔

جب فوج وہاں سے چلی گئی تو قصبے اور اُس کے گرد و نواح کا انتظام ایک جرمن سول قابض انتظامیہ نے سنبھال لیا۔ یورپ کے بہت سے دوسرے علاقوں کی طرح جرمن حکام نے حکومت چلانے کے لیے مقامی نظام اور معاونین پر انحصار کیا۔ چنانچہ آئشی شاک پر اختیار جرمنوں کا تھا، لیکن اُن کے مقامی نمائندوں میں لتھووانین افراد بھی شامل تھے۔

آئشی شاک میں جرمن قابض افواج نے یہودیوں کو جبری مشقت، تشدد اور عوامی تذلیل کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے یہودیوں کو ’’ستارۂ داؤد‘‘ کا بیج پہننے پر مجبور کیا۔ مذہبی یہودی مردوں کی داڑھیاں کاٹ کر اُن کی توہین کی گئی۔ یہودیوں کے فٹ پاتھ پر چلنے پر پابندی لگا دی گئی۔ جرمنوں نے آئشی شاک کے یہودیوں کو اپنی قیمتی اشیا حکام کے حوالے کرنے پر بھی مجبور کیا۔

اس کے علاوہ جرمنوں نے آئشی شاک میں ایک یہودی کونسل، یعنی ’’یوڈن ریٹ‘‘، قائم کرنے کا حکم دیا۔ اس کونسل کو جرمن پالیسیوں پر عمل درآمد کروانا پڑتا تھا۔ اس کے ارکان پر یہ ذمہ داری بھی عائد تھی کہ قابض حکام کی مقرر کردہ جبری مشقت کی ضروریات پوری کی جائیں۔ دیگر فرائض کے ساتھ ساتھ یہودی کونسل کو جرمن قابض افواج کے لیے خوراک بھی فراہم کرنا پڑتی تھی۔

Students and teachers mark the official establishment of the Hebrew school in Eyshishok

طلبہ اور اساتذہ آئشی شاک میں عبرانی اسکول کے باضابطہ قیام کی تقریب منا رہے ہیں۔ ستمبر 1941 میں جرمن آئنسیٹز کمانڈو 3 اور لتھووانین معاون دستوں نے آئشی شاک میں یہودیوں کا قتلِ عام کیا، جس میں قصبے کے بیشتر باشندے مارے گئے۔

کریڈٹس:
  • United States Holocaust Memorial Museum, courtesy of The Shtetl Foundation

آئشی شاک کے یہودیوں کا اجتماعی قتلِ عام، ستمبر 1941

آئشی شاک میں ہولوکاسٹ، لتھووانیا میں ہونے والے وسیع تر ہولوکاسٹ کی کہانی کا ایک حصہ تھا۔ نازیوں نے لتھووانیا میں یہودیوں کے اجتماعی قتل کو حیران کن تیزی کے ساتھ انجام دیا۔ نازی قبضے کے وقت لتھووانیا میں تقریباً دو لاکھ یہودی آباد تھے۔ صرف چھ ماہ کے اندر جرمنوں نے، لتھووانین معاونین کی مدد سے، ایک لاکھ پچاس ہزار یہودیوں کو قتل کر دیا۔

جرمن ایس ایس اور پولیس کے ایک یونٹ، جسے “آئنسیٹز کمانڈو 3” کہا جاتا تھا، نے جرمن قبضے والے لتھووانیا میں ہونے والے بہت سے قتلِ عام منظم کیے۔ خاص طور پر اس یونٹ نے کووْنو (کاؤناس) اور ولنا کے گرد و نواح کی یہودی آبادیوں کو نشانہ بنایا۔ آئنسیٹز کمانڈو 3 ایک چھوٹا یونٹ تھا اور وہ اکیلے اتنے بڑے پیمانے پر قتلِ عام نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے انہوں نے قوم پرست لتھووانین ملیشیاؤں کے افراد کو معاون دستوں میں بھرتی کیا۔ عام طور پر یہی معاون دستے جرمن نگرانی میں قتلِ عام کی کارروائیاں انجام دیتے تھے۔

1941 کے موسمِ گرما اور خزاں میں جرمن قبضے والے لتھووانیا میں قتل کیے جانے والوں میں آئشی شاک کے یہودی بھی شامل تھے۔

قتل عام سے پہلے کا منظر

ستمبر 1941 میں آئسیٹزس کمانڈو 3 اور اُس کے لتھووانین معاون دستوں نے آئشی شاک کے قریب قتلِ عام کی کارروائیاں شروع کر دیں۔

مقامی کسانوں نے آئشی شاک کے یہودیوں کو خبردار کیا کہ آس پاس کے قصبوں میں یہودیوں کا قتلِ عام ہو رہا ہے، جن میں 10 ستمبر 1941 کو وارینا کا قصبہ بھی شامل تھا۔ وارینا آئشی شاک سے تقریباً بیس میل مغرب میں واقع تھا۔ اگرچہ بعض یہودیوں نے ان خبردار کرنے والی باتوں کو نظر انداز کر دیا، لیکن ربی روزووسکی نے انہیں سنجیدگی سے لیا۔ روزووسکی نے ایک اجلاس بلایا اور یہودی برادری کو اپنی حفاظت کے لیے ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دی۔ تاہم یہودی باشندوں کے درمیان اس بات پر ہچکچاہٹ اور اختلاف موجود تھا کہ کیا اقدام کیا جانا چاہیے۔

دو ہفتے سے بھی کم عرصے بعد اجتماعی قتلِ عام آئشی شاک تک پہنچ گیا۔

اتوار، 21 ستمبر 1941: گرفتاریاں 

اتوار، 21 ستمبر، 1941 روش ہشانہ، یہودیوں کے نئے سال کی شام، اور یہودیت کے مقدس ترین ایام میں سے ایک تھی۔

 اس صبح شہر میں نوٹس ظاہر ہوئے۔ جرمن انتظامیہ ایششوک کے یہودیوں کو حکم دے رہی تھی کہ وہ اپنی باقی ماندہ قیمتی چیزیں حوالے کریں اور اُسی شام عبادت خانہ میں جمع ہوں۔ شہر میں مسلح اجنبی ظاہر ہوئے۔ بہت سے یہودیوں نے اپنی قیمتی چیزیں چھپانے، چھپانے کی جگہوں کو محفوظ بنانے، اور پیاروں کو بھاگنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔

 اس دن بعد، لتھوانیائی ضمنی پولیس اہلکاروں نے یشیشوک کے یہودیوں کو گھیر لیا۔ انہوں نے یہودیوں کو یہودیت خانہ اور بیت مدراش (تورات کی تعلیم کے لئے وقف مقامات) جانے پر مجبور کیا۔ کچھ یہودیوں نے حکم کو نظرانداز کیا اور اپنے غیر یہودی پڑوسیوں، ملازمین اور دوستوں کے ساتھ مل کر فرار ہونے یا چھپنے کی کوشش کی۔ لتھوانیائی معاونین نے شہر کو گھیرے میں لے لیا۔ انہوں نے لوگوں کو جانے سے روکنے کی کوشش کی۔

اتوار، 21 ستمبر 1941: گرفتاریاں اور محاصرہ

پیر تا بدھ، 22 تا 24 ستمبر 1941: حراست اور قید

کم از کم تین دن تک یہودی عبادت گاہ اور دونوں ’’بیٹے مِدراش‘‘میں ٹھونسے ہوئے حالت میں قید رہے۔ انہیں نہ کھانا دیا گیا اور نہ پانی۔ وہاں غسل خانوں کا بھی کوئی انتظام نہیں تھا۔ قریبی قصبے والکینِنکائی (جسے پولش میں اولکیئینیکی کہا جاتا تھا) سمیت دیگر علاقوں سے بھی سیکڑوں یہودیوں کو وہاں لا کر رکھا گیا۔

جرمن آئنسیز کمانڈو 3 اکثر ایسے عارضی حراستی مراکز قائم کرتا تھا جو صرف چند دنوں کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ اس علاقے میں ہولوکاسٹ کے دوران یہودیوں کو اس طرح قید رکھنا ایک عام طریقۂ کار تھا۔ اس کا مقصد کسی قصبے یا ضلع کے یہودیوں کو اُن کے قتل سے پہلے ایک جگہ جمع کرنا ہوتا تھا۔

سولہ سالہ زوی میکائیلی اور اُس کا خاندان اُن لوگوں میں شامل تھا جنہیں عبادت گاہ میں ٹھونس دیا گیا تھا۔ برسوں بعد اُس نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اُن کے اردگرد لوگ خوف و ہراس کا شکار ہونے لگے تھے۔ لوگ چیخنے چلانے لگے، بچے رو رہے تھے، اور لوگ داخلی دروازے کے قریب بنائے گئے عارضی غسل خانے تک پہنچنے کی کوشش میں ایک دوسرے پر گر رہے تھے۔ اسی دوران ربی نے لوگوں کی اجتماعی دعا کی قیادت شروع کر دی۔ عبادت گاہ بیک وقت چیخ و پکار، رونے اور دعاؤں کی آوازوں سے گونج رہی تھی۔

جوں جوں گرد و نواح کے علاقوں سے مزید یہودیوں کو زبردستی عبادت گاہی کمپلیکس میں لایا جاتا گیا، حالات مزید خراب ہوتے گئے۔ دو دن اور تین راتوں تک یہودی اسی طرح ایک دوسرے سے ٹھنسے ہوئے عبادت گاہ کے اندر قید رہے۔

بدھ، 24 ستمبر کو قاتل دستوں نے یہودیوں کو عبادت گاہ سے باہر نکالا۔ انہیں چند بلاک دور گھوڑوں کی منڈی کے علاقے کی طرف لے جایا گیا۔ وہاں پہنچنے کے لیے انہیں قصبے کے وسط سے گزارا گیا۔ اُن کے بعض پڑوسی یہ منظر دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے، اور کچھ نے تو خوشی کا اظہار بھی کیا۔ گھوڑوں کی منڈی میں یہودیوں کی نگرانی لتھووانین معاون پولیس اہلکاروں اور اُن کے کتوں کے ذریعے کی جا رہی تھی۔

25 ستمبر، 1941: یہودی مردوں کا قتل عام

جمعرات، 25 ستمبر کی صبح قاتل دستوں نے گھوڑوں کی منڈی میں جمع ہزاروں یہودیوں میں سے تقریباً ڈھائی سو نوجوان اور صحت مند مردوں کو الگ کیا۔ یہودیوں کو بتایا گیا کہ ان مردوں کو ایک یہودی بستی، یعنی “گھیٹو”، تعمیر کرنے کے لیے لے جایا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے بجائے لتھووانین معاون دستے انہیں پرانے یہودی قبرستان لے گئے، جہاں انہیں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

گھوڑوں کی منڈی میں قید یہودی قتلِ عام کی آوازیں سن سکتے تھے۔ زوی میکائیلی کے مطابق اُن کے بعض غیر یہودی پڑوسی منڈی کی باڑ کے قریب آئے اور یہودیوں کو بھاگ کر اپنی جان بچانے کا مشورہ دینے لگے۔ جبکہ کچھ دوسرے لوگ، جو صرف مالی فائدے کے خواہش مند تھے، یہودیوں سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ اپنی قیمتی چیزیں باڑ کے پار اُن کی طرف پھینک دیں۔

مزید مردوں اور لڑکوں کو گروہوں کی صورت میں پرانے یہودی قبرستان کی طرف لے جایا جانے لگا۔ وہاں لتھووانین معاون دستوں نے اُنہیں کپڑے اتارنے پر مجبور کیا۔ جرمن اہلکار یہ سب دیکھ رہے تھے جبکہ لتھووانین معاون اہلکار یہودی مردوں کو پہلے سے کھودی گئی ایک بڑی خندق میں گولی مار کر قتل کرتے جا رہے تھے۔ مردوں کے قتلِ عام کے دوران عورتوں اور بچوں کو گھوڑوں کی منڈی میں ہی رکھا گیا۔

زوی میکائیلی بھی اپنے والد اور چھوٹے بھائی کے ساتھ اُن لوگوں کی قطار میں کھڑا تھا جنہیں گولی مارنے کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔ فائرنگ کے دوران ایک گولی صرف اُس کے جسم کو چھوتی ہوئی گزری، لیکن ایک گولی اُس کے والد کو لگی اور اُن کا جسم زوی کے اوپر آ گرا۔ زوی نے بعد میں یاد کرتے ہوئے کہا:

لیکن میں اب بھی ہوش میں تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ مجھے احساس تھا کہ میں مرا نہیں ہوں… میں ابھی زندہ ہوں۔ کچھ دیر تک میں اپنے والد کا جسم اپنے اوپر محسوس کرتا رہا۔ اور وہ جسم بھاری سے بھاری ہوتا جا رہا تھا۔ مجھے لگ رہا تھا کہ میرا دم گھٹ رہا ہے۔ اب میں یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اور میں اُن کا خون اپنے پورے جسم پر محسوس کر رہا تھا۔ اُن کے نیچے سے نکلنا بہت مشکل تھا، لیکن کسی نہ کسی طرح میں نکلنے میں کامیاب ہو گیا…۔

آخرکار زوی اجتماعی قبر سے رینگتے ہوئے باہر نکل آیا اور وہاں سے فرار ہو گیا۔

جمعہ، 26 ستمبر: عورتوں اور بچوں کا قتل عام

جمعہ، 26 ستمبر کو قاتل دستوں نے عورتوں اور بچوں کے قتلِ عام کا آغاز کیا۔ انہیں گاڑیوں میں بٹھا کر تقریباً ایک میل دور ایک بجری کے گڑھے تک لے جایا گیا، جو ایک کیتھولک قبرستان کے پیچھے واقع تھا۔ لتھووانین معاون دستوں نے عورتوں اور بچوں کو الگ کر دیا۔ انہوں نے عورتوں کو کپڑے اتارنے پر مجبور کیا اور پھر انہیں ایک اجتماعی قبر میں گولی مارنا شروع کر دیا۔ اُنہوں نے بہت سی نوجوان عورتوں کی عصمت دری بھی کی۔ اس کے بعد بچوں کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔

لیون کاہن اور اُس کا بھائی قبرستان میں چھپے ہوئے تھے۔ انہوں نے عورتوں اور بچوں کے قتل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ بعد میں لیون نے یاد کرتے ہوئے کہا:

’’یہ صرف لوگوں کو پھانسی دینے یا قتل کرنے کا معاملہ نہیں تھا۔ یہ خالص وحشت اور درندگی کا مظاہرہ تھا۔‘‘

قتلِ عام کی دستاویز بندی: یاگر رپورٹ

دسمبر 1941 میں آئنسیٹز کمانڈو 3 کے کمانڈر کارل یاگر نے فخر سے دعویٰ کیا کہ اُس کے یونٹ نے ’’لتھواینیا کے لیے یہودی مسئلہ حل کر دیا ہے۔‘‘

برلن بھیجی گئی اپنی بدنامِ زمانہ رپورٹ میں اُس نے ایک سو سے زیادہ قتلِ عام کے مقامات، تاریخیں اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد درج کی۔ ان میں سے زیادہ تر قتلِ عام آئنسیٹز کمانڈو 3 نے جرمن قبضے والے لتھووانیا میں انجام دیے تھے۔ اس رپورٹ میں آئشی شاک کے قتلِ عام (جسے رپورٹ میں “ایسِسکی” لکھا گیا) کی تاریخ 27 ستمبر درج ہے۔ یہ واضح نہیں کہ آیا یہ ایک غلطی تھی یا پھر اُس دن کی عکاسی کرتی تھی جب قتلِ عام مکمل ہوا یا اس کی رپورٹ تیار کی گئی۔

یاگر نے برلن میں اپنے اعلیٰ حکام کو اطلاع دی کہ اُس کے یونٹ نے مجموعی طور پر 137,346 یہودیوں کا قتلِ عام کیا ہے۔ یاگر رپورٹ میں درج ہر عددی اندراج کے پیچھے افراد کا سفاکانہ قتل اور لتھووانیا و بیلاروس کی یہودی برادریوں کی تباہی کی داستان چھپی ہوئی ہے۔

یاگر رپورٹ کے مطابق آئشی شاک میں 3,446 یہودی قتل کیے گئے۔ ان میں 989 مرد، 1,636 عورتیں، اور 821 بچے شامل تھے۔ تاہم زندہ بچ جانے والوں کی شہادتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

آئشی شاک میں نجات اور بقا کی کہانیاں

قتل عام سے بچنا

آئشی شاک کے سیکڑوں یہودی ابتدا میں چھپ کر اور فرار ہو کر قتلِ عام سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اُن دنوں کے ہنگامے اور افراتفری نے فرار کے کچھ مواقع پیدا کر دیے تھے۔ بعض لوگوں نے 21 ستمبر کی شام عبادت گاہ میں جمع ہونے سے انکار کر دیا، جبکہ کچھ دوسرے اگلے دنوں میں عبادت گاہ یا گھوڑوں کی منڈی سے چپکے سے نکل جانے میں کامیاب ہو گئے۔ زندہ بچ جانے والوں کی گواہیوں کے مطابق کم از کم دو مواقع پر لتھووانین معاون اہلکاروں نے بھی بعض یہودیوں کو فرار ہونے میں مدد دی۔

جو لوگ بھاگ نکلے یا چھپ گئے، اُنہیں غیر یہودیوں کی مدد پر انحصار کرنا پڑا۔ انہوں نے اپنے پولش پڑوسیوں، دوستوں اور ملازمین سے مدد مانگی۔ ان پولش افراد نے یہودیوں کو لتھووانین اور جرمن محافظوں کی نظروں سے بچا کر نکالنے میں مدد دی۔ انہوں نے لوگوں کو اپنے گھروں میں چھپایا اور انہیں کسانوں کا بھیس بدلنے کے لیے کپڑے فراہم کیے۔ مثال کے طور پر، جب زوی میکائیلی اجتماعی قبر سے رینگتے ہوئے باہر نکلا تو وہ اپنے پولش خاندانی دوستوں کے فارم پر پہنچا۔ وہ اُن کے دروازے پر ننگی حالت میں اور خون میں لت پت پہنچا تھا۔ اُن لوگوں نے اُسے صاف کیا اور اُس کی دیکھ بھال کی۔

لیکن قتلِ عام سے بچ نکلنا آئشی شاک کے باقی ماندہ یہودیوں کی مکمل نجات کی ضمانت نہیں تھا۔ جرمن قبضہ اور یورپ کے یہودیوں کے اجتماعی قتل کی مہم ابھی صرف شروع ہوئی تھی۔

قتل عام کے بعد بچاؤ اور بقا

قتل عام کے بعد، آئشی شاک کے یہودیوں کے لیے قصبے میں رہنا محفوظ نہیں تھا۔

بہت سے لوگ تقریباً نو میل جنوب میں واقع قصبے رادُون کی طرف فرار ہو گئے، جہاں اُن کے دوست اور رشتہ دار موجود تھے۔ رادُون، آئشی شاک سے مختلف جرمن انتظامی علاقے میں واقع تھا، اور ستمبر 1941 میں اُس علاقے میں اجتماعی قتل ابھی اتنے منظم انداز میں نہیں ہو رہے تھے۔ تاہم رادُون فرار ہونے والے بہت سے لوگ ہولوکاسٹ سے زندہ نہ بچ سکے۔ مئی 1942 میں جب جرمنوں نے رادُون گھیٹو کو ختم کیا تو اُنہیں قتل کر دیا گیا۔

دیگر یہودی دیہی علاقوں میں چھپ گئے اور اپنی شناخت ظاہر ہونے سے بچنے کی کوشش کرتے رہے۔ اُنہوں نے مختلف مدتوں تک پولش دوستوں یا اجنبی لوگوں کے ساتھ پناہ لی۔ بعض افراد قریبی جنگلات میں موجود مزاحمتی پارٹیزن دستوں میں بھی شامل ہو گئے۔

جنگ آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ آئشی شاک اور اُس کے گرد و نواح میں زندگی مزید مشکل ہوتی گئی۔ جرمن قبضے کے دوران یہودیوں کی مدد کرنے والوں کے لیے سزائیں انتہائی سخت تھیں۔ آئشی شاک کے علاقے میں جو لوگ ابتدائی بحران کے وقت یہودیوں کی مدد کے لیے تیار تھے، وہ ضروری نہیں کہ طویل عرصے تک مدد جاری رکھنے کا خطرہ مول لینے کے قابل یا آمادہ بھی ہوں۔

Yaffa Sonenson at her family's summer home

 جون 1941 کو یافا سونینسن (جو بعد میں ایلیاخ کہلائیں) ٹیٹلانس میں اپنے خاندان کے گرمائی گھر کے سامنے مرغیوں کو دانہ ڈال رہی ہیں۔ کیمرے کے پیچھے اُن کی دادی آلٹے کاٹز موجود ہیں، جو آئشی شاک میں ایک فوٹو اسٹوڈیو کی مالک تھیں۔ یافا چھپ کر ہولوکاسٹ سے زندہ بچ گئیں، لیکن اُن کی دادی قتل کر دی گئیں۔

برسوں بعد یافا نے ہولوکاسٹ سے پہلے آئشی شاک کی زندگی کی یادوں کو دوبارہ محفوظ کرنے کا عزم کیا۔ پندرہ برسوں کے دوران وہ برادری کی تصاویر کی تلاش میں دنیا بھر کا سفر کرتی رہیں۔ اُن کی جمع کردہ ایک ہزار سے زیادہ تصاویر اب “یونائیٹڈ اسٹیٹس ہولوکاسٹ میموریل میوزیم” میں قائم تین منزلہ ٹاور میں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔

کریڈٹس:
  • United States Holocaust Memorial Museum, courtesy of The Shtetl Foundation

اس کے باوجود چند لوگوں نے عظیم خطرات کے باوجود مدد کی۔ مثال کے طور پر کازیمیرز کورکچ (یرونی لنک انگریزی میں)، جو ایک پولش کسان تھا، نے قریبی گاؤں میں اپنے فارم پر سولہ یہودیوں کو چھپا رکھا۔ اُن میں اُس کے دوست سونینسن خاندان کے افراد بھی شامل تھے، جن میں کم عمر یافا ایلیاک (پیدائشی نام سونینسن) بھی شامل تھی۔

ایک نوجوان پولش چرواہے، انتونی گاورِلکیویچ (یرونی لنک انگریزی میں)، نے بھی ان چھپے ہوئے یہودیوں کی باقاعدگی سے مدد کی۔ وہ اُنہیں خوراک اور کپڑے فراہم کرتا تھا، اور اُن کے اور علاقے میں موجود پارٹیزن مزاحمتی دستوں کے درمیان پیغام رسانی کا کام بھی انجام دیتا تھا۔

یہودیوں کو چھپانے میں مدد دینے کے شبہے میں کورکچ اور گاورِلکیویچ کو گرفتار کیا گیا، اُن سے تفتیش کی گئی، اور قابض حکام نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ تاہم دونوں میں سے کسی نے بھی یہ اعتراف نہیں کیا کہ وہ یہودیوں کو پناہ دے رہے تھے۔ کورکچ کو 1973 میں ’’قوموں کے درمیان راست باز‘‘ کے اعزاز سے نوازا گیا، جبکہ گاورِلکیویچ کو یہ اعزاز 1999 میں دیا گیا۔

آئشی شاک کے ابتدائی قتلِ عام سے بچ نکلنے والے تمام لوگ ہولوکاسٹ سے زندہ نہیں بچ سکے۔ رادُون گھیٹو میں قتل کیے جانے والوں کے علاوہ بعض دوسرے لوگ اُس وقت مارے گئے جب اُن کی خفیہ پناہ گاہیں دریافت ہو گئیں یا جب وہ پارٹیزن مزاحمتی دستوں کے ساتھ لڑ رہے تھے۔

بعد کے حالات اور اثرات

جولائی سے اکتوبر 1944 کے درمیان سوویت ریڈ آرمی نے جرمن افواج کو لتھووانیا سے نکال کر دوبارہ ملک پر قبضہ کر لیا۔ ریڈ آرمی نے 13 جولائی 1944 کو آئشی شاک پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس وقت وہ یہودی، جو چھپ کر زندہ بچ گئے تھے، واپس قصبے میں آنا شروع ہوئے۔

آخرکار آئشی شاک کے صرف چند درجن یہودی ہی ہولوکاسٹ سے زندہ بچ سکے۔

جو لوگ زندہ رہے، وہ ستمبر 1941 کے آخری دنوں اور اُس کے بعد کے برسوں کی یادوں سے ہمیشہ کے لیے متاثر رہے۔ زوی میکائیلی نے یاد کرتے ہوئے کہا:

میں جذباتی طور پر کبھی بھی ہولوکاسٹ سے باہر نہیں نکل سکا۔ آج تک میں اپنے آپ کو ایک ٹوٹا ہوا انسان محسوس کرتا ہوں۔ کیونکہ میرا جسم اب بھی اُس قبر میں ہے، میرے اوپر میرے والد کا جسم ہے، اور میرے بھائی اور میرے والد کا خون آج بھی میری پشت پر موجود ہے۔ وہ میرے ساتھ ہیں۔ وہ میری روزمرہ زندگی میں مسلسل میرے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔

ٹاور آف فیسز” میں یادگار کا قیام

آئشی شاک کے یہودیوں کو ’’ٹاور آف فیسز‘‘ میں یاد کیا جاتا ہے، جو ’’یونائیٹڈ اسٹیٹس ہولوکاسٹ میموریل میوزیم‘‘ کی ایک خصوصی نمائش ہے۔ اس ٹاور میں ایک ہزار سے زیادہ تصاویر موجود ہیں۔ یہ تصاویر اس بھرپور ثقافتی اور سماجی زندگی کی گواہی دیتی ہیں جو ہولوکاسٹ سے پہلے شٹیٹل کے باشندوں نے قائم کی تھی۔

یہ تصاویر یافا ایلیاک (پیدائشی نام سونینسن) نے جمع کیں، جو خود آئشی شاک سے تعلق رکھنے والی ہولوکاسٹ سے بچ جانے والی ایک شخصیت تھیں۔ ایلیاک، یِتسحاق اور آلتے کاٹز کی نواسی تھیں، جو قصبے کے فوٹو اسٹوڈیو کے مالک تھے اور نمائش میں موجود بہت سی تصاویر انہوں نے ہی کھینچی تھیں۔ ایلیاک نے ان تصاویر کی تلاش میں پندرہ برس تک دنیا بھر کا سفر کیا۔

’’ٹاور آف فیسز‘‘ بنانے کی اپنی تحریک کے بارے میں انہوں نے لکھا:

’میں سوچتی تھی کہ آخر ایسی کون سی یادگار ہو سکتی ہے جو موت کی ان تصویروں سے آگے بڑھ کر اُن لوگوں کی بھرپور اور مکمل زندگیوں کے ساتھ انصاف کر سکے جو انہوں نے کبھی گزاری تھیں… تب میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنا ایک الگ راستہ اختیار کروں گی، ایک ایسی یادگار تخلیق کرنے کے لیے جو موت کی نہیں بلکہ زندگی کی یادگار ہو۔

فٹ نوٹس

  1. Footnote reference1.

    ئشی شاک کے گرد و نواح کے علاقے کی تاریخ نہایت پیچیدہ ہے۔ 1569 سے 1795 تک ولنا اور اُس کے آس پاس کا علاقہ، جس میں آئشی شاک بھی شامل تھا، پولش-لتھووانین دولتِ مشترکہ کا حصہ تھا۔ اٹھارویں صدی کے اواخر میں پولش-لتھووانین دولتِ مشترکہ کو زبردستی ختم کر کے سلطنتِ پروشیا، آسٹرین سلطنت، اور روسی سلطنت کے درمیان تقسیم کر دیا گیا۔ 1795 سے پہلی عالمی جنگ کے اختتام تک آئشی شاک روسی سلطنت کے “ولنا گورنریٹ” میں شامل رہا۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران روسی سلطنت کے خاتمے کے بعد پولینڈ اور لتھووانیا دوبارہ آزاد ریاستوں کی صورت میں قائم ہوئے۔ دونوں ممالک ولنا اور اُس کے گرد و نواح کے علاقے، بشمول آئشی شاک، پر اپنا دعویٰ کرتے تھے۔ اس علاقے کی سرحدی حیثیت 1922 تک متنازع رہی، جب ولنا اور آئشی شاک “دوسری پولش جمہوریہ” کا حصہ بن گئے۔ اُس وقت آئشی شاک “نووگروڈیک وائووڈشپ” میں واقع تھا۔

  2. Footnote reference2.

    میریم کباکزینک شولمین، انٹرویو جسے رینڈی ایم گولڈمین نے لیا، 23 جولائی 1996، حصہ 1، تحریری بیان اور ریکارڈنگ، جیف اور ٹوبی ہیر زبانی تاریخ آرکائیو، ریاستہائے متحدہ ہولوکاسٹ میموریل میوزیم، واشنگٹن، ڈی سی، RG-50.030.0375، https://collections.ushmm.org/search/catalog/irn504868۔

  3. Footnote reference3.

    زوی میکایلی، آئرین اسکوائر کے زیرِ اہتمام انٹرویو، 5 فروری 1996، انٹرویو 11771، سیکشنز 62–63، نقلِ مکالمہ اور ریکارڈنگ، بصری تاریخ آرکائیو، یو ایس سی شوا فاؤنڈیشن۔

  4. Footnote reference4.

    لیون کاہن، فران اسٹار کے ساتھ انٹرویو، 5 دسمبر 1996، انٹرویو 23999، حصے 11 میں، ٹرانسکرپٹ اور ریکارڈنگ، بصری تاریخ آرکائیو، یو ایس سی شوا فاؤنڈیشن۔

  5. Footnote reference5.

     زوی مشعلی، آئرین اسکوائر کے ساتھ انٹرویو، 5 فروری 1996، انٹرویو 11771، سیکشنز 166-167، ٹرانسکرپٹ اور ریکارڈنگ، بصری ہسٹری آرکائیو، یو ایس سی شواہ فاؤنڈیشن۔

  6. Footnote reference6.

     یافا ایلیاک، کبھی ایک دنیا تھی: آئشی شاک کے شٹٹل کی 900 سالہ تاریخ  (بوسٹن: لٹل براؤن اینڈ کمپنی، 1998)، 3.

Thank you for supporting our work

We would like to thank Crown Family Philanthropies, Abe and Ida Cooper Foundation, the Claims Conference, EVZ, and BMF for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.

گلاسری