ذاتی تاریخ

روتھ ویبر آشوٹز میں موجود لاشیں جلانے کی بھٹی کے بارے میں بتاتی ہیں

جب جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کیا اور آسٹروویک پر قبضہ کر لیا تو اُس وقت روتھ چار سال کی تھیں۔ اُن کے خاندان کو ایک یہودی بستی میں منتقل ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔ اگرچہ اُن کے والد کو یہودی بستی سے باہر کام کرنے کی اجازت مل گئی تاہم جرمنوں نے اُن کے فوٹوگرافی کے کاروبار پر قبضہ کر لیا۔ یہودی بستی کے بند ہونے سے پہلے روتھ کے والدین نے اُن کی بہن کو چھپنے کیلئے ایک خفیہ جگہ بھیج دیا اور وہ خود بستی سے باہر ایک مزدور کیمپ میں کام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ روتھ خود بھی ایک قریبی جنگل میں یا کیمپ کے اندر ہی کہیں چھپ گئیں۔ جب کیمپ کو بند کیا گیا تو روتھ کے والدین کو الگ الگ کردیا گیا۔ روتھ کو متعدد حراستی کیمپوں میں بھیجا گیا اور بالآخر اُنہیں آشوٹز کیمپ میں بھجوا دیا گیا۔ جنگ کے بعد روتھ کراکو کے ایک یتیم خانہ میں رہیں اور پھر وہ اپنی والدہ سے دوبارہ جا ملیں۔

مکمل نقل

میں نہیں جانتی۔ ایک بچے کی حیثیت سے میں نے چیزوں کو من و عن قبول کرلیا تھا۔ کیونکہ میں اس بارے میں کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔ میں صرف یہ کر سکتی تھی کہ اپنے آپ کو ٹھیک رکھوں تاکہ زندہ بچ سکوں۔ کسی نہ کسی وجہ سے سب سے اہم بات یہی تھی کہ کسی طرح زندہ بچ جایا جائے۔ ہم ہر کسی کو یہی کہتے سنتے تھے کہ "ہمیں ہر صورت زندہ بچنا ہے تاکہ دنیا کو بتا سکیں کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔" میرا مطلب ہے کہ یہ ایسا ہی تھا۔ اگر صرف اسی وجہ سے کہ یہ ناقابل یقین تھا کہ ہم دھویں میں مل کر ختم جائیں۔ حقیقت یہ تھی کہ لوگ جوک درجوک گاڑیوں میں وہاں لائے جاتے اور وہ مختلف اطراف میں جاتے اور پھر وہ سب غائب ہوجاتے۔ وہ کبھی بھی زندہ بچ کر واپس نہیں آتے تھے۔ لہذا ہم سمجھ جاتے کہ اُن کے ساتھ کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے۔ اُن چمنیوں کو دیکھتے ہوئے جن سے مسلسل دھواں اُٹھتا رہتا، خاص طور پر قیدیون کو لانے والی گاڑیوں کی آمد کے بعد، اِس ساری صورت حال کو دیکھ کر میری عمر کی لڑکی بھی درست اندازہ لگا سکتی تھی اور جان سکتی تھی کہ ہمیں بھی وہیں جانا ہو گا۔ اُن باڑوں کے پیچھے جنہیں ہر وقت کمبلوں ڈھانپ دیا جاتا تھا۔ اُن کے پیچھے جو کچھ ہو رہا تھا، وہ سب درختوں کے پیچھے چھپ جاتا تھا۔ وہاں لوگ جاتے تھے مگر پھر واپس نہیں آتے تھے۔ مجھے مکمل طور پر یہ معلوم نہیں تھا کہ وہاں کیا ہو رہا تھا۔ مجھے صرف اتنا معلوم تھا کہ لوگ چمنیوں میں سے دھوئیں کی شکل میں ہی باہر نکلتے تھے۔ اور لاشیں جلانے کی بھٹیاں مسلسل کام کر رہی تھیں۔ اِس سے ہمارے منہ میں ایک ایسا ذائقہ پیدا ہو جاتا کہ پھر کچھ کھانے جو جی نہ کرتا۔ ان وقتوں میں میں پوری ایمانداری سے کہ سکتی ہوں کہ بعض اوقات تو مجھے بالکل بھی بھوک محسوس نہ ہوتی کیونکہ میرا دل سخت خراب ہو جاتا۔


  • US Holocaust Memorial Museum Collection
آرکائیوز کی تفصیلات دیکھیں

Share This