
پناہ گزین بن جانا:جرمن یہودی نازی جرمنی سے ہجرت کی تیاری کر رہے ہیں
جرمنی میں لاکھوں یہودیوں نے ظلم و ستم سے بچنے کے لیے تیسری ریخ (1933–1945) چھوڑنے کی کوشش کی۔ نازی حکومت کی یہودی مخالف پالیسیوں اور تشدد کی وجہ سے جرمنی کے یہودیوں کو بیرون ملک پناہ کی تلاش پر مجبور ہونا پڑا۔ جرمنی چھوڑنے کے لیے یہودیوں کو سفری ٹکٹ اور ویزا حاصل کرنا تھا۔ جن لوگوں کی ہجرت کی کوششیں اکتوبر 1941 سے پہلے ناکام ہو گئیں، ان کے لیے نتائج اکثر مہلک ہو سکتے تھے۔
اہم حقائق
-
1
نازی جرمنی سے فرار ہونے والے یہودیوں نے دوبارہ قدم جمانے کے لیے جگہوں کی تحقیق کی۔ انہوں نے امیگریشن کی بہت سی ضروریات کو بھی پورا کیا۔ کچھ یہودیوں نے نئے کاروبار، مہارتوں اور زبانوں کو سیکھا تاکہ انہیں زندگی دوبارہ شروع کرنے میں مدد ملے۔
-
2
340,000 سے زیادہ یہودی پناہ گزین نازی جرمنی اور آسٹریا سے فرار ہو گئے۔ وہ یورپ، شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، ایشیا، آسٹریلیا، اور افریقہ کے کچھ حصوں میں جا کر دوبارہ بس گئے۔
-
3
اکتوبر 1941 میں نازیوں نے یہودیوں کے لئے تھرڈ ریخ چھوڑنے پر پابندی لگا دی تھی۔ نازی حکام نے وہ یہودی جو نازی جرمنی کے علاقے میں باقی رہ گئے تھے، انہیں گھیٹو، حراستی کیمپوں، اور قتل کے مراکز میں بھیج دیا۔
جنوری 1933 میں ایڈولف پتلر اور نازی اقتدار میں آئے۔ جرمنی کے یہودی اچانک خود کو ایک ایسے دشمن اور یہود مخالف نظام کے تحت رہتا ہوا پانے لگے جو ان کے خلاف نفرت پر مبنی تھا۔
ابتدا ہی سے نازی حکومت نے جرمنی کی یہودی آبادی پر ملک چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ نازی حکومت نے فوری طور پر امتیازی قوانین نافذ کیے اور یہودیوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں تشدد منظم کیا۔ اس کے نتیجے میں جرمنی میں یہودیوں کی زندگی ناقابلِ برداشت بن گئی۔ جرمنی کے یہودیوں کے سامنے ایک مشکل انتخاب تھا: کیا وہ جرمنی میں رہیں یا بیرونِ ملک جا کر نئی زندگی شروع کریں؟
تھرڈ رائخ سے فرار ہونے کی کوشش ایک ہمہ وقت اور انتہائی دشوار کام تھا۔ سب سے پہلے یہودیوں کو ایسی جگہ تلاش کرنا پڑتی تھی جہاں وہ دوبارہ آباد ہو سکیں۔ پھر انہیں پیچیدہ امیگریشن قوانین سے گزرنا پڑتا تھا۔ اس کے بعد ویزا اور سفر کے ٹکٹ حاصل کرنا ضروری ہوتا تھا۔ اگر وہ ان مراحل میں کامیاب ہو جاتے تو پھر انہیں اپنا سامان باندھنا یا اپنی جائیداد اور اشیا فروخت کرنا پڑتیں۔ جرمنی سے کامیابی کے ساتھ نکلنا اکثر ان تمام مراحل کی بروقت تکمیل پر منحصر ہوتا تھا۔
نازی دور میں لاکھوں یہودی ہجرت کرنے میں کامیاب ہوئے۔ تاہم جو اکثریت فرار نہ ہو سکی، انہیں ہولوکاسٹ کے دوران قتل کر دیا گیا۔
رہنے یا ہجرت کرنے کا فیصلہ
بہت سے یہودی اس بات کے بارے میں غیر یقینی کا شکار تھے کہ آیا نازی محض یہود دشمنی کی ایک اور وقتی لہر ہیں جو آخرکار ختم ہو جائے گی، یا پھر ایک نیا اور زیادہ خطرناک خطرہ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جرمنی میں یہودی ایک طویل عرصے سے یہود دشمنی کا سامنا کرتے آ رہے تھے۔ نازی دور کے آغاز تک یہودیوں کے خلاف بہت سے تعصبات، غلط تصورات اور من گھڑت کہانیاں جرمنی اور یورپ کے دیگر معاشروں میں پہلے ہی وسیع پیمانے پر قبول کی جا چکی تھیں۔
ہولوکاسٹ کا انجام پیشگی طور پر جاننے کی صلاحیت کے بغیر، تھرڈ رائخ میں رہنے والے یہودیوں کو مسلسل یہ اندازہ لگانا پڑتا تھا کہ نازی حکومت ان کے لیے کس حد تک خطرہ بن چکی ہے۔ نازی پالیسیاں مسلسل بدلتی اور سخت ہوتی جا رہی تھیں، جس کی وجہ سے اس خطرے کی صحیح نوعیت کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔ بعض یہودیوں نے فوراً جرمنی چھوڑ دیا کیونکہ وہ یہودیوں پر نازی پابندیوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ تاہم کچھ دوسرے یہ امید رکھتے تھے کہ ملک کی سیاسی صورتحال آخرکار بہتر اور مستحکم ہو جائے گی۔
بہت سے یہودیوں کے لیے ذاتی یا پیشہ ورانہ وجوہات کی بنا پر جرمنی چھوڑنا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ یہودی مرد اپنی ملازمتوں اور پیشہ ورانہ زندگی کے خاتمے سے خوفزدہ تھے۔ عمر رسیدہ افراد کے لیے دور دراز ممالک میں جا کر نئی زندگی شروع کرنا زیادہ دشوار اور ناگوار محسوس ہوتا تھا۔ یہودی خاندانوں کو اس بات کا بھی خوف تھا کہ ہجرت کی صورت میں خاندان بکھر جائے گا اور ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں گے۔ مزید یہ کہ اُس زمانے میں بہت کم ممالک ایسے تھے جو تھرڈ رائخ سے فرار ہونے والے یہودیوں کو خوش آمدید کہتے تھے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نازیوں کی یہود مخالف پالیسیاں مزید شدت اختیار کرتی گئیں۔ جرمنی کے یہودیوں پر یہ حقیقت زیادہ واضح ہوتی گئی کہ وہ ایک ایسے نظام کا سامنا کر رہے ہیں جو مسلسل زیادہ پرتشدد، انتہا پسند اور خطرناک بنتا جا رہا ہے۔ محدود مواقع اور راستوں کے باوجود، جرمنی سے فرار ہونے کے خواہش مند یہودی محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں شدت سے مصروف ہو گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ملک چھوڑنے کے لیے وسیع پیمانے پر تیاریاں بھی شروع کر دیں۔
تھرڈ رائخ کے دور میں جرمن یہودی اکثر محفوظ ممالک کی تلاش میں پوری طرح الجھے رہتے تھے۔ بہت سے لوگوں کے لیے ملک چھوڑنے کی کوشش کرنا گویا ایک کل وقتی مشقت بن چکا تھا۔
ممکنہ مقامات کا جائزہ
نازی جرمنی سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے یہودیوں کو سب سے پہلے یہ معلوم کرنا پڑتا تھا کہ کون سے ممالک انہیں اپنے ہاں داخلے کی اجازت دیں گے۔ وہ ہر ممکنہ ملک کے پیچیدہ امیگریشن قوانین اور داخلے کے لیے درخواست دینے کے مختلف طریقۂ کار کا بغور مطالعہ کرتے تھے۔ مثال کے طور پر، بہت سے ممالک صرف مخصوص قسم کے زرعی کارکنوں، ہنرمند مزدوروں یا تکنیکی ماہرین کو ہی قبول کرتے تھے۔ بعض ممالک نے نئے تارکینِ وطن کے لیے عمر کی سخت پابندیاں بھی عائد کر رکھی تھیں۔ مزید یہ کہ جیسے جیسے نازی جرمنی کے زیادہ یہودی بیرونِ ملک پناہ لینے کی کوشش کرنے لگے، ویسے ویسے مزید ممالک نے اپنے دروازے ان پر بند کرنا شروع کر دیے۔
یہودی جب کسی ملک کو اپنی ممکنہ پناہ گاہ کے طور پر منتخب کرتے تھے تو وہ کئی دوسرے عوامل پر بھی غور کرتے تھے۔ مثال کے طور پر، وہ یہ جاننے کی کوشش کرتے کہ وہاں کی مقامی یہودی برادری کس حد تک مدد فراہم کر سکتی ہے، انہیں کس درجے کی یہود دشمنی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، یا اُس ملک کا سیاسی ماحول کیسا ہے۔
لیکن جیسے جیسے جرمنی میں یہودیوں پر نازی مظالم شدت اختیار کرتے گئے، یہ عوامل فیصلہ سازی میں کم اہم ہوتے گئے۔ سب سے اہم بات یہ بن گئی کہ کسی بھی ایسے مقام تک پہنچا جائے جو نازی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو۔
امیگریشن کے تقاضوں اور سفر کے مراحل سے گزرنا
جرمنی چھوڑنے کے لیے یہودیوں کو امیگریشن سے متعلق متعدد دستاویزات جمع کرنا پڑتی تھیں۔ مثال کے طور پر، یونائیٹڈ اسٹیٹس میں داخلے کے خواہش مند افراد کو ویزا حاصل کرنا، کفیل یعنی سپانسر ڈھونڈنا، طبی معائنہ کروانا، اور اچھے کردار کے سرٹیفکیٹس جمع کرنا ضروری تھا۔ بعض اوقات یہودیوں کو مختلف قونصل خانوں کے باہر پورا دن قطاروں میں کھڑا رہنا پڑتا تھا، اور اکثر اس کے باوجود کامیابی نہیں ملتی تھی۔ دیہی علاقوں میں رہنے والے یہودیوں کو تو قریبی شہروں تک سفر بھی کرنا پڑتا تھا جہاں قونصل خانے موجود ہوتے تھے۔
اس کے علاوہ یہودیوں کو جرمنی سے باہر جانے کے لیے اپنے سفر کا انتظام بھی کرنا پڑتا تھا، بعض اوقات اس سے پہلے ہی جب ان کے امیگریشن کاغذات مکمل طور پر تیار بھی نہ ہوئے ہوں۔ انہیں محدود تعداد میں دستیاب بحری جہازوں اور ٹرینوں کی نشستوں کے لیے سخت مقابلہ کرنا پڑتا تھا۔ کئی لوگ مختلف ممالک سے گزرنے کے لیے ٹرانزٹ ویزے حاصل کرنے اور سفر کے متعدد مراحل کی بکنگ کروانے کے لیے ٹریول ایجنٹوں کی مدد لیتے تھے۔
جرمنی سے کامیابی کے ساتھ نکلنے کا انحصار اکثر ان تمام مراحل کے بروقت مکمل ہونے پر ہوتا تھا، جبکہ حقیقت یہ تھی کہ ان میں سے کسی بھی مرحلے پر کسی ایک فرد کا مکمل اختیار نہیں ہوتا تھا۔
ممکنہ پناہ گاہوں اور ممالک کے بارے میں معلومات حاصل کرنا
ان مختلف مشکلات سے نمٹنے کے لیے جرمنی کے یہودی معلومات اور مشوروں کے کئی مختلف ذرائع سے رجوع کرتے تھے۔
جرمن یہودی امیگریشن سے متعلق رہنمائی مختلف اشاعتوں میں تلاش کرتے تھے۔ وہ “ایڈ آرگنائزیشن فار جرمن جیوز” کی جانب سے شائع ہونے والے کتابچے اور نیوز لیٹرز پڑھتے تھے۔ اسی طرح دی فلسطین انفارمیشن بک اور فائلو اٹلس: ہینڈ بک فار جیوش ایمیگریشن بھی مقبول حوالہ جاتی کتابیں بن گئی تھیں۔ ایسی اشاعتیں مختلف ممالک کے سیاسی حالات اور وہاں کی زندگی کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتی تھیں۔
یہودی ہر ممکنہ ملک میں اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور جاننے والوں سے بھی مدد حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ ٹیلی گرام بھیجتے اور خطوط لکھتے تھے۔ لیکن اکثر یہ پیغامات ڈاک میں گم ہو جاتے تھے، اور بہت سے لوگوں کو جواب ملنے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا تھا۔
معلومات یہودی حلقوں میں زبانی طور پر بھی پھیلتی تھیں۔ یہودی دوست اور واقف کار ایک دوسرے کو قانونی تقاضوں، مختلف قونصل خانوں کے طریقۂ کار، اور بیرونِ ملک دوبارہ آباد ہونے کے تجربات سے متعلق براہِ راست معلومات فراہم کرتے تھے۔
مدد حاصل کرنا
جرمنی کے یہودی جرمنی میں موجود یہودی تنظیموں سے بھی مدد حاصل کرتے تھے۔ ان میں سے بعض تنظیمیں اُن یہودیوں کو مالی معاونت فراہم کرتی تھیں جو دوبارہ آباد ہونے سے متعلق اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ ان اخراجات میں ٹرین کے ٹکٹ یا بحری جہاز کے سفر کے کرائے شامل ہو سکتے تھے۔ مدد فراہم کرنے والی اہم تنظیموں میں درج ذیل شامل تھیں:
- جرمن یہودیوں کی رائخ نمائندہ تنظیم (Reichsvertretung der deutschen Juden)؛
- جرمن یہودیوں کی امدادی تنظیم (Hilfsverein der deutschen Juden)؛ اور
- یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے جرمن شہریوں کی مرکزی انجمن (Centralverein deutscher Staatsbürger jüdischen Glaubens)۔
نئی مہارتیں اور ہنر سیکھنا
بہت سے یہودی اس بات پر فکر مند تھے کہ وہ غیر ممالک میں روزگار کیسے حاصل کریں گے، خاص طور پر اگر وہ وہاں کی زبان نہیں جانتے تھے۔ اسی لیے بعض افراد نے غیر ملکی زبانوں یا فنی تربیت کے کورسز میں داخلہ لیا تاکہ ایسی مہارتیں اور ہنر سیکھ سکیں جو بیرونِ ملک نئی زندگی شروع کرنے میں ان کے کام آ سکیں۔
مثال کے طور پر برلن میں یہودی برادری مردوں کے لیے دھات سازی، لکڑی کا کام، اور تعمیرات کی تربیت فراہم کرتی تھی۔ یہودی خواتین کو صفائی، درزی کے کام، ہیئر ڈریسنگ، اور بچوں کی نگہداشت کی تربیت دی جاتی تھی۔ غیر ملکی زبانوں کی کلاسوں میں ہسپانوی اور جدید عبرانی زبان شامل تھیں۔ یہودی ثانوی اسکولوں میں بچوں کو عملی مہارتیں سکھانے کے لیے ورکشاپ کلاسز، شارٹ ہینڈ (سٹینو گرافی)، اور گھریلو معاشیات جیسے مضامین متعارف کروائے گئے۔
صیہونی تنظیموں نے جرمن دیہی علاقوں میں “ہخشرا” (hakhshara) نامی تربیتی کیمپ قائم کیے تاکہ لوگوں کو برطانوی زیرِانتظام فلسطین (Mandatory Palestine) ہجرت کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔ ان کیمپوں میں نوجوان یہودیوں کو زراعت، کھیتی باڑی، اور ہاتھ کے کاموں کی تربیت دی جاتی تھی۔ بعض کیمپ جدید عبرانی زبان کے کورسز بھی پیش کرتے تھے۔
سامان باندھنا اور ذاتی جائیداد سے دستبردار ہونا
اگر کوئی فرد یا خاندان اپنے کاغذات اور سفر کا انتظام کرنے میں کامیاب ہو جاتا، تو اس کے بعد انہیں ایک اور بڑے مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا: اپنا سامان باندھنا اور اپنی چیزوں کو جرمنی سے باہر لے جانا۔
سامان باندھتے وقت جرمن یہودیوں کو ہر قدم پر سرکاری پیچیدگیوں اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ انہیں ملک سے کوئی بھی چیز باہر لے جانے کے لیے جرمن محکمۂ خزانہ سے اجازت درکار ہوتی تھی۔ سرکاری طور پر یہودی صرف وہی اشیا اپنے ساتھ لے جا سکتے تھے جو انہوں نے 1933 سے پہلے خریدی ہوں، اور وہ بھی نازی حکام کی منظوری سے مشروط تھیں۔ نازی حکام یہودیوں سے ان تمام اشیا کی فہرست طلب کرتے تھے جنہیں وہ اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔ ان فہرستوں میں ایک رومال، چھتری یا جرابوں کے ایک جوڑے تک کی تفصیل شامل ہوتی تھی۔ یہاں تک کہ نازی اہلکار ذاتی طور پر سامان باندھنے کے عمل کی نگرانی بھی کرتے تھے۔
اتنی زیادہ رکاوٹوں کے باعث یہودیوں کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا تھا کہ وہ اپنے ساتھ کیا چیزیں لے جائیں اور کیا پیچھے چھوڑ دیں۔ وہ اپنے متوقع ممالک کے موسم اور حالات کے مطابق کپڑے پیک کرتے تھے۔ بعض لوگ ایسی اشیا ساتھ لے جانے کی کوشش کرتے جو بیرونِ ملک استعمال یا فروخت کی جا سکیں۔ کچھ خاندان جذباتی اہمیت رکھنے والی چیزیں بھی ساتھ لے جانا چاہتے تھے، جیسے بچوں کی گڑیاں یا تصویروں کے ڈبے۔
اگرچہ بعض اوقات نازی حکام یہودیوں کو کچھ اشیا ملک سے باہر لے جانے کی اجازت دے دیتے تھے، پھر بھی انہیں یہ مسئلہ درپیش رہتا تھا کہ ان چیزوں کو منتقل کیسے کیا جائے۔ سامان کی ترسیل نہ صرف مہنگی بلکہ وقت طلب بھی تھی۔ اگر کسی کو اچانک یا راتوں رات ملک چھوڑنا پڑ جاتا، تو اسے اپنا بیشتر سامان وہیں چھوڑنا پڑتا تھا۔
بہت سے یہودی مجبوراً اپنی قیمتی چیزیں جرمن پڑوسیوں کو ان کی اصل قیمت سے کہیں کم پر فروخت کر دیتے تھے۔ بعض دوسرے یہودی اپنی قیمتی اشیا خفیہ طور پر اسمگل کرنے کا خطرہ مول لیتے تھے، حالانکہ انہیں وہ چیزیں نازی حکام کے حوالے کر دینی چاہیے تھیں۔ بے شمار جرمن یہودی ایسے بھی تھے جو جرمنی سے بالکل خالی ہاتھ نکلے۔
ملک چھوڑنے کے مالیاتی اخراجات
جرمن حکام نے تھرڈ رائخ سے فرار ہونے والے یہودیوں پر اضافی مالی بوجھ بھی عائد کر رکھا تھا۔ یہودیوں کو بھاری ہجرتی ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا، ورنہ انہیں ٹیکس چوری کے الزام میں قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ مزید یہ کہ یہودیوں کو اپنی رقم دوسرے ممالک کے بینکوں میں منتقل کرنے کی اجازت بھی محدود کر دی گئی تھی۔ نتیجتاً بہت سے یہودی ملک چھوڑنے کے بعد تقریباً کنگال ہو جاتے تھے۔
1933 سے 1937 کے درمیان تھرڈ رائخ چھوڑنے والے یہودی اوسطاً اپنی کل دولت کا 30 سے 50 فیصد تک کھو دیتے تھے۔ جبکہ 1937 سے لے کر 1939 میں جنگ کے آغاز تک، ہجرت کی قیمت یہودی مہاجرین کے لیے ان کے 60 سے 100 فیصد سرمایہ تک جا پہنچتی تھی۔
بیرون ملک آبادکاری
مجموعی طور پر نازی دور میں جرمنی اور آسٹریا سے تین لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ یہودی ہجرت کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یہودی مہاجرین دنیا کے مختلف حصوں میں جا کر آباد ہوئے۔ جرمن یہودی مہاجرین نے یورپ، شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، ایشیا، آسٹریلیا اور افریقہ کے مختلف علاقوں میں نئی زندگیاں شروع کیں۔
تاہم دوسری عالمی جنگ کے آغاز اور اس کے دوران پیش آنے والے حالات نے بہت سے یہودی مہاجرین کی زندگیوں کو دوبارہ متاثر کیا۔ جنگ نے نہ صرف یورپ سے فرار کے راستے بند کر دیے بلکہ بہت سے مہاجرین ایسے علاقوں میں جا پہنچے جو بعد میں جنگی تنازعات کی لپیٹ میں آ گئے۔ مثال کے طور پر، جو یہودی مہاجرین ایشیا پہنچنے میں کامیاب ہوئے، انہیں اکثر جاپانی قبضے کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح کچھ جرمن یہودی ایسے یورپی ممالک میں جا کر آباد ہوئے جن پر بعد میں نازیوں نے قبضہ کر لیا یا انہیں اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔
نازی جرمنی میں رہ جانا: ان کا انجام جنہوں نے فرار نہیں پایا
1941 کے موسمِ خزاں تک جرمنی میں اب بھی ایک لاکھ چونسٹھ ہزار یہودی موجود تھے، جن میں سے بہت سے عمر رسیدہ افراد تھے۔ ان یہودیوں کے لیے جرمن سرزمین پر رہ جانے کے نتائج مہلک ثابت ہوئے۔ اکتوبر 1941 میں نازی حکومت نے یہودیوں کے تھرڈ رائخ کو چھوڑنے پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ اس کے بعد جرمن یہودیوں کو جرمنی کے مشرق میں مقبوضہ علاقوں کے یہودی بستیوں یعنی گھیٹو، حراستی کیمپوں، اور قتل گاہوں کی طرف جبراً منتقل کیا جانے لگا۔ اسی سال نازی حکام نے یورپ کے یہودیوں کے منظم اور دانستہ اجتماعی قتل کا آغاز بھی کر دیا۔
جرمنی سے بے دخل کیے جانے والے زیادہ تر یہودی ہولوکاسٹ کے دوران قتل کر دیے گئے۔