<p>جنگ سے پہلے ایک مجمع میں دو جرمنی یہودی خاندان۔ ان میں سے صرف دو افراد ہالوکاسٹ سے بچ سکے۔ جرمنی 1928۔</p>

جنگ سے پہلے کے جرمنی میں یہودی

اس امیج کے بارے میں اضافی معلومات

جون 1933 کی مردم شماری کے مطابق جرمنی میں یہودیوں کی آبادی تقریباً پانچ لاکھ تھی۔ یہودی جرمنی کے 6 کروڑ 70 لاکھ کی کل آبادی کا ایک فیصد سے کم تھے۔ مردم شماری کے معمولی طریقوں کے برعکس 1935 کے نیورمبرگ کے قوانین اور اس کے بعد کے قوانین میں درج نازیوں کے نسل پرستی پر مبنی معیار کے مطابق کسی فرد کے دادا دادی یا نانا نانی کے مذہب کے مطابق یہودیوں کی شناخت کی جاتی تھی۔ اس کے نتیجے میں ایسے ہزاروں افراد یہودیوں کے زمرے میں آتے تھے جنہوں نے کوئی دوسرا مذہب قبول کرلیا ہو۔ ان میں ایسے رومن کیتھلک پادری اور راہبائيں، اور پروٹسٹنٹ پادری بھی شامل تھے جن کے دادی دادا یہودی تھے۔

جرمنی کی یہودی آبادی کے اسی فیصد (یعنی تقریباً 4 لاکھ افراد) کے پاس جرمن شہریت تھی۔ باقی زیادہ تر یہودی پولش شہریت رکھتے تھے، ان میں سے ایسے کئی افراد تھے جو جرمنی میں پیدا ہوئے تھے اور جن کے پاس جرمنی میں رہنے کے لئے مستقل رہائشی حیثیت تھی۔

مجموعی طور پر جرمنی کے تقریباً ستر فیصد یہودی شہری علاقوں میں رہتے تھے۔ تقریباً آدھے یہودی جرمنی کے سب سے بڑے دس شہروں میں رہتے تھے جن میں برلن (تقریباً ایک لاکھ 60 ھزار)، فرینکفرٹ ایم مین (تقریباً 26 ھزار)، بریسلاؤ (تقریباً 20 ھزار)، ہیمبرگ (تقریباً 17 ھزار)، کولون (تقریباً 15 ھزار)، ہینوور (تقریباً 13 ھزار) اور لیپزگ (تقریباً 12 ھزار) شامل تھے۔

اہم تواریخ

یکم اپریل 1933
ملک بھر میں یہودیوں کے زیر ملکیت کاروباروں کا بائیکاٹ

صبح 10 بجے ایس اے اور ایس ایس کے ارکان نے جرمنی بھر میں یہودی کاروباروں کے سامنے کھڑے ہو کر عوام کو ان کے مالکان کے یہودی ہونے کے متعلق مطلع کیا۔ دکانوں کی کھڑکیوں پر "جیوڈ" لکھا گیا، جس کا مطلب جرمن زبان میں "یہودی" تھا اور دروازوں پر سیاہ اور زرد رنگوں میں اسٹار آف ڈیوڈ بنایا گيا۔ ان نعروں کے ساتھ یہودیوں کی مخالفت کرنے والے نوٹس لگائے گئے۔ کچھ قصبوں میں ایس اے اہلکار سڑکوں پر یہودیوں کی مخالفت میں نعرے لگاتے ہوئے اور پارٹی کے گانے گاتے ہوئے چل نکلے۔ دوسرے قصبوں میں بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ تشدد کا بھی استعمال کیا گیا؛ کئیل میں ایک یہودی وکیل کو قتل کردیا گیا۔ رات کے بارہ بجے بائيکاٹ ختم ہوگیا۔ مقامی سطح پر منظم کردہ بائیکاٹ 1930 کی دہائی کے بیشتر حصے میں جاری رہے۔

15 ستمبر 1935
نیورمبرگ کے قوانین نافذ کئے گئے

اپنی پارٹی کی سالانہ ریلی میں نازيوں نے نئے قوانین کا اعلان کیا جن کے مطابق یہودی دوسرے درجے کے شہریوں میں تبدیل ہوگئے اور ان کے بیشتر سیاسی حقوق منسوخ کردئے گئے۔ اس کے علاوہ یہودیوں کی "جرمن یا متعلقہ خون" رکھنے والے افراد کے ساتھ شادی کرنے یا جنسی تعلقات رکھنے پر ممانعت لگا دی گئی۔ اس کو "نسلی بدنامی" کا نام دیا گيا اور اس کو ایک سنگین جرم قرار دے دیا گیا۔ نیورمبرگ کے قوانین میں ایسے فرد کو "یہودی" بتایا گیا تھا جس کے دادا، دادی، نانی یا نانی ميں سے تین یا چار یہودی تھے، یا جو خود یہودی مذہب پر کاربند ہو۔ اس کے نتیجے میں ایسے ہزاروں افراد یہودیوں کے زمرے میں آتے تھے جنہوں نے کوئی دوسرا مذہب قبول کرلیا ہو۔ ان میں ایسے رومن کیتھلک پادری اور راہبائيں، اور پروٹسٹنٹ پادری بھی شامل تھے جن کے دادی دادا یہودی تھے۔

9 نومبر 1938
"کرسٹل ناخٹ": ملک بھر میں پوگروم

پیرس میں ایک نوجوان یہودی کے ہاتھوں جرمن سفارت کار ایرنسٹ وون راتھ کے قتل کے جواب میں جرمنی کے پروپیگنڈا کے وزیر نے میونخ میں نازی پارٹی کے وفاداروں کیلئے ایک جوشیلی تقریر کی؛ پارٹی کے ممبران 1923 کے بئیر ہال پٹش (ایڈولف ہٹلر کے اقتدار چھیننے کی پہلی کوشش) کی سالگرہ منانے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ اس تقریر میں ایس اے، ایس ایس اور ہٹلر یوتھ جیسی دوسری نازی تنظیموں کی جانب سے یہودی گھروں، کاروباروں اور عبادت گاہوں پر منظم حملے کرنے کا اشارہ کیا گيا تھا۔ باوجود اس کے کہ نازی افسران نے پوگروم کو عوام کے غصے کے غیرارادی نتیجے کے طور پر ظاہر کیا تھا، پوگروم میں عوام کی شرکت محدود تھی۔ یہودیوں پر تشدد 10 نومبر کی صبح تک جاری رہا اور اسے "کرسٹل ناخٹ" کا نام دیا گيا: "ٹوٹے ہوئے شیشوں کی رات"۔ کم از کم 91 یہودی مارے گئے تھے اور مزید تیس ہزار کو گرفتار کرکے حراستی کیمپوں میں بند کیا گيا۔ پوگروم کے بعد "آرین بنانے" کے عمل یعنی یہودی کاروباروں کو "آرین" لوگوں کے حوالے کرنے کے عمل نے زور پکڑا۔