Joseph Goebbels, the Nazi minister of propaganda, speaks at a rally in favor of the boycott of Jewish-owned shops. [LCID: 44203]

نازی پروپیگنڈا اور سنسرشپ

جرمنی میں جمہوریت ختم کرنے اور ایک پارٹی کی آمریت قائم کرنے میں کامیاب ہونے کے بعد نازيوں نے جرمنوں کی وفاداری اور ان کا تعاون حاصل کرنے کے لئے پروپیگنڈے کی ایک وسیع مہم چلائی۔ ڈاکٹر جوزف گویبیلز کے زيرانتظام نازی وزارت پروپیگنڈا نے جرمنی میں مواصلات کی تمام اقسام کو اپنے قبضے میں لے لیا: اخبارات، رسالے، کتابیں، عوامی اجلاس اور ریلیاں، فن، موسیقی، فلمیں اور ریڈیو۔ ایسے نظریات جنہيں نازی خیالات یا حکومت کے لئے خطرہ سمجھا جاتا ہو، انہيں سنسر کردیا جاتا یا تمام میڈیا سے نکال دیا جاتا تھا۔

1933 کے موسم بہار میں نازی طلبا کی تنظیموں، پروفیسروں اور لائبریرینوں نے کتابوں کی لمبی لمبی فہرستیں تیار کیں جو ان کے خیال میں جرمنوں کو نہيں پڑھنی چاہئیے تھیں۔ پھر 10 مئی 1933 کی رات کو نازيوں نے جرمنی میں لائبریریوں اور کتابوں کی دکانوں پر چھاپہ مارا اور رات کو پریڈوں میں ٹارچ کی روشنی میں نعرے لگاتے ہوئے کتابوں کو آگ میں جھونک دیا۔ اس رات پچیس ہزار سے زیادہ کتابوں کو جلایا گيا۔ کچھ یہودی ادیبوں کی کتابیں تھیں جن میں البرٹ آئن سٹائن اور سگمنڈ فرائڈ شامل تھے۔ زيادہ تر کتابیں غیریہودی ادیبوں کی لکھی ہوئيں تھیں جن میں جیک لندن، ارنسٹ ہیمنگ وے اور سنکلیر لویس جیسے نامور امریکی شامل تھے جن کے خیالات نازيوں کو اپنے خیالات سے مختلف لگتے تھے۔ لہذا ان کی کتابیں پڑھنے کی اجازت نہيں دی جا سکتی تھی۔

نازی سنسر حکام نے ہیلن کیلر کی بھی کتابیں جلا دیں جو اپنے نابینا پن اور پہرے پن کے باوجود بھی ایک محترم ادیبہ بن چکی تھیں؛ جب انہيں کتابوں کے جلائے جانے کے متعلق بتایا گیا تو انہوں نے جواب دیا: "ظلم خیالات کی طاقت کو مات نہيں دے سکتا" امریکہ میں لاکھوں افراد نے نیو یارک، فلاڈیلفیا، شکاگو اور سینٹ لوئيس میں ریلیاں نکال کر کتابوں کو نذر آتش کرنے کے اقدامات کے خلاف احتجاج کیا جو خیالات کی آزادی کے حق کی خلاف ورزی تھی۔

نازیوں کے خیالات پھیلانے میں اسکولوں نے بھی ایک اہم کردار ادا کیا۔ جہاں اسکولوں کے کلاس رومز سے سنسر حکام نے کچھ کتابیں نکالیں، وہاں طلبا کو ہٹلر پارٹی کی اطاعت، ہٹلر کے لئے محبت اور سام دشمنی سکھانے کے لئے نئی کتابيں لکھی گئيں اور انہيں اسکولوں میں متعارف کروایا گیا۔ اسکول کے بعد ہٹلر یوتھ اور جرمن لڑکیوں کی لیگ کے اجلاسوں میں بچوں کو نازی پارٹی سے وفاداری کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اسکول میں اور اسکول سے باہر چھوٹے بچے ایڈولف ہٹلر کی سالگرہ اور اس کے اقتدار چھیننے کی سالگرہ جیسی دوسری چھٹیاں مناتے تھے۔

اہم تواریخ

5 دسمبر1930
جوزف گوئبیلز نے فلم کے پریمئیر میں مداخلت کی

برلن میں جوزف گوئبیلز نے، جو کہ ایڈولف ہٹلر کے اعلی نائبین میں سے ایک تھا، اسٹارم ٹروپروں (ایس اے) کے ساتھ مل کر ایرک ماریہ ریمارک کے ناول "آل کوائیٹ آن دا ویسٹرن فرنٹ" پر مبنی فلم کے پریمئیر میں خلل اندازی کی۔ نازی مظاہرین نے فلم روکنے کے لئے دھوئيں کے بم اور چھینکنے کے پاؤڈر پھینکے۔ مداخلت کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو مارا پیٹا گیا۔ نازیوں کو ہمیشہ سے ہی یہ ناول ناگوار گزرتا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اس میں جنگ کے ظلم اور بے ہودگی کا اظہار "غیرجرمن" تھا۔ بالآخر فلم پر پابندی عائد کردی گئی۔ ریمارک 1931 میں ہجرت کر کے سوئٹزرلینڈ چلے گئے، اور اقتدار سنبھالنے کے بعد نازيوں نے 1938 میں اُن کی جرمن شہریت منسوخ کردی۔

13 مارچ 1933
جوزف گوئبیلز کو رائخ کی وزارت پروپیگنڈا کا سربراہ نامزد کردیا گيا

جوزف گوئبیلز کو، جو ایڈولف ہٹلر کے سب سے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں سے ایک تھا، رائخ کی وزارت برائے عوامی روشن خیالی اور پروپاگینڈا کا سربراہ نامزد کردیا گيا۔ یہ ایجنسی تمام میڈيا (اخبارات، ریڈيو پروگرام اور میڈيا) اور عوامی تفریح اور ثقافتی پروگرام (ڈرامہ، فن اور موسیقی) کے مضامین اور نشریات کو کنٹرول کرتی رہی۔ گوئبیلز نے میڈيا میں نازیوں کی نسل کشی اور تصورات کو ضم کرنا شروع کردیا۔

10 مئی 1933
برلن میں کتابوں کو جلائے جانے کے موقع پر جوزف گوئیلز کا خطاب

برلن کے اوپرا اسکوائر میں جرمنی کے پروپاگینڈا کے وزیر جوزف گوئبیلز کا خطاب سننے کے لئے چالیس ہزار افراد جمع ہوئے۔ گوئبلیز نے یہودیوں، آزاد خیال افراد، بائيں بازو کے خیالات کے حامل افراد، امن پسند لوگوں، غیر ملکیوں اور دوسرے افراد کے مضامین کو "غیرجرمن" قرار دے دیا۔ نازی طلبا نے کتابیں جلانا شروع کردیں۔ جرمنی بھر کی لائبریریوں کو "سنسر شدہ" کتابوں سے پاک کردیا۔ گوئبیلز نے "جرمن روح کی پاکیزگی" کا اعلان کردیا۔

Thank you for supporting our work

We would like to thank The Crown and Goodman Family and the Abe and Ida Cooper Foundation for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of all donors.