<p>جنگ سے پہلے ایک مجمع میں دو جرمنی یہودی خاندان۔ ان میں سے صرف دو افراد ہالوکاسٹ سے بچ سکے۔ جرمنی 1928۔</p>

ہولو کاسٹ (مقالے کی تلخیص)

ہولو کاسٹ (مقالے کی تلخیص) - تصویریں  ہولو کاسٹ نازی حکومت اور اس کے حلیفوں کی طرف سے تقریبا چھ ملین یہودیوں کاایک منظم ، نوکرشاہی اور ریاست کی طرف سے کیا جانے والا ظلم و ستم اور قتل عام ہے۔ لفظ "ہولو کاسٹ" ایک یونانی زبان سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب "آگ سے قربانی" ہے۔ جنوری 1933 میں اقتدار میں آنے والی نازی پارٹی یہ سمجھتی تھی کہ جرمن "نسلی طور پر اعلی" ہیں اور یہ کہ یہودی، جنہیں "کمتر" سمجھا جاتا تھا، جرمن نسلی حلقوں کے لئے خطرہ پیش کرتے تھے۔ جرمن حکام نے "نسلی کمتری" کی وجہ سے دوسرے گروپوں کو بھی اپنا ہدف بنایا: روما (خانہ بدوش), معذور اشخاص اور کچھ دوسرے سلاویک افراد(پولش, روسی اور دوسرے)۔ دوسرے گروپوں کو سیاسی، نظریاتی اور طرز عمل کی بنیادوں پر اذیت دی گئی۔ ان افراد میں کمیونسٹ، شوشلسٹ، یہوا کے گواہ اور ہم جنس پرست شامل تھے۔

    ہولو کاسٹ نازی حکومت اور اس کے حلیفوں کی طرف سے تقریبا چھ ملین یہودیوں کاایک منظم ، نوکرشاہی اور ریاست کی طرف سے کیا جانے والا ظلم و ستم اور قتل عام ہے۔ لفظ "ہولو کاسٹ" ایک یونانی زبان سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مطلب "آگ سے قربانی" ہے۔ جنوری 1933 میں اقتدار میں آنے والی نازی پارٹی یہ سمجھتی تھی کہ جرمن "نسلی طور پر اعلی" ہیں اور یہ کہ یہودی، جنہیں "کمتر" سمجھا جاتا تھا، جرمن نسلی حلقوں کے لئے خطرہ پیش کرتے تھے۔ جرمن حکام نے "نسلی کمتری" کی وجہ سے دوسرے گروپوں کو بھی اپنا ہدف بنایا: روما (خانہ بدوش), معذور اشخاص اور کچھ دوسرے سلاویک افراد(پولش, روسی اور دوسرے)۔ دوسرے گروپوں کو سیاسی، نظریاتی اور طرز عمل کی بنیادوں پر اذیت دی گئی۔ ان افراد میں کمیونسٹ، شوشلسٹ، یہوا کے گواہ اور ہم جنس پرست شامل تھے۔

نازی حکومت کے ابتدائی سالوں میں نیشنل سوشلسٹ حکومت نے اصلی اور مفروضہ سیاسی اور نظریاتی مخالفین کو نظربند کرنے کے لئے حراستی کیمپ قائم کیا۔ جون 1941 میں سوویت یونین کے حملے کے بعد آئن سیٹزگروپن (موبائل قاتل یونٹ) جرمن لائنز کے پیچھے یہودی، روما، سوویت اور کمیونسٹ افسران کو وسیع پیمانے پر مارنے کے لئے متحرک رہے۔ جرمن ایس ایس، پولیس اور فوجی یونٹوں نے ایک ملین سے زیادہ یہودی مردوں، عورتوں، بچوں اور دوسرے لاکھوں افراد کو قتل کیا۔ 1941 اور 1944 کے درمیان جرمن نازی حکام نے جرمنی، مقبوضہ علاقہ جات اور اپنے ایکسز کے کئی حامی ممالک سے لاکھوں کی تعداد میں یہودیوں کو ملک بدر کر کے یہودی بستیوں اور مراکز قتل میں بھیج دیا جنہیں قلع قمع کے کیمپ بھی کہا جاتا تھا، جہاں انہیں خصوصی طور پر تیار کردہ زہریلی گیس کی سہولتوں میں ہلاک کر دیا گیا۔ 1933 میں یورپ میں یہودی تعداد نوے لاکھ سے زیادہ تھی. 1945 تک جرمنوں اور ان کے اتحادیوں نے یورپ کے یہودیوں کو قتل کرنے کے "حتمی حل" کے لئے ہر تین میں سے دو یورپی یہودیوں کو مار ڈالا تھا۔