<p>وارسا یہودی بستیوں کی بغاوت کے دوران پکڑے گئے یہودی۔ پولینڈ، 19 اپریل-16 مئی، 1943۔</p>

وارسا یہودی بستی کی بغاوت

اس امیج کے بارے میں اضافی معلومات

مشرقی یورپ کی یہودی بستیوں میں رہنے والے یہودیوں نے جرمنوں کے خلاف مزاحمت منظم کرنے اور اپنے آپ کو چوری کے اور خود سے بنائے جانے والے ہتھیاروں سے لیس کرنے کی کوشش کی۔ 1941 اور 1943 کے درمیان تقریباً 100 یہودی گروپوں میں خفیہ مزاحمتی تحریکیں قائم ہوگئيں۔ مسلح لڑائی میں جرمنوں کی مزاحمت کی سب سے مشہور کوشش وارسا کی یہودی بستی میں ہوئی۔

1942 کے موسم گرما کے دوران تقریباً تین لاکھ یہودیوں کو وارسا سے جلاوطن کرکے ٹریبلنکا بھیجا گیا۔ جب وارسا کے یہودییوں کو قتل کے مرکز میں اجتماعی قتل کی خبر پہنچی تو نوجوانوں کے ایک گروپ نے زیڈ او بی (پولیش زبان میں زائیڈوسکا آرگنائزیکجا بوجووا، جس کے معنی یہودی مزاحمتی تحریک کے تھے) نامی ایک تنظیم قائم کی۔ مورڈیچائی انیلیوچ کی قیادت میں زیڈ او بی نے یہودیوں سے ریل گاڑیوں تک جانے کی مزاحمت کرنے کا اعلان کیا۔ جنوری 1943 میں جب جرمن فوجی جلاوطنی کے لئے یہودی بستی کے مکینوں کے ایک اور گروپ کو اکٹھا کررہے تھے تو وارسا کی یہودی بستی کے جنگ جوؤں نے جرمن فوجیوں پر گولیاں چلانا شروع کردیں۔ جنگ جوؤں نے یہودی بستی میں خفیہ طور پر لائے جانے والے کچھ ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ کچھ دنوں کے بعد فوجی پیچھے ہٹ گئے۔ اس چھوٹی سی فتح نے یہودی بستی کے جنگ جوؤں کو آئیندہ مزاحمت کی تیاری کرنے کا جوش دلایا۔

9 اپریل 1943 کو جب جرمن فوجی اور پولیس یہودی بستی کے زندہ بچنے والے مکینوں کو جلاوطن کرنے کے لئے بستی میں داخل ہوئے تو وارسا یہودی بستی میں بغاوت شروع ہوگئی۔ ساڑھے سات سو جنگ جوؤں نے مسلح اور تربیت یافتہ جرمنوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ یہودی بستی کے جنگ جو ایک مہینے تک ڈٹے رہے۔ لیکن 16 مئی 1943 کو بغاوت ختم ہوگئی۔ جرمنوں نے رفتہ رفتہ مزاحمت کو دبا دیا تھا۔ گرفتار ہونے والے 56 ہزار سے زائد یہودیوں میں سے سات ہزار کے قریب کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا اور باقیوں کو جلاوطن کرکے کیمپوں میں بھیج دیا گيا۔

اہم تواریخ

28 جولائی 1942
یہودی عسکریت پسند تنظیم قائم ہوگئی

وارسا کی یہودی بستی سے ٹریبلنکا کی قتل گاہ تک جلاوطنی کے پہلے مرحلے کے دوران یہودی عسکریت پسند تنظیم (زیڈ او بی، زائیڈوسکا آرگنازیکجا بوجووا) قائم کی گئی۔ 22 جولائی 1942 کو جرمنوں نے جلاوطنیوں کا سلسلہ شروع کیا جو بلا رکاوٹ 12 ستمبر 1942 تک جاری رہا۔ اس دوران یہودی بستی سے تقریبا ڈھائی لاکھ یہودیوں کو جلاوطن یا قتل کردیا گیا۔ یہودی نوجوانوں کی تنظیموں نے زیڈ او بی قائم کرکے یہودی بستی کے یہودیوں سے جلاوطنی کی مزاحمت کرنے کیلئے کہا۔ گشتی قاتل یونٹس اور قتل گاہوں میں یہودیوں کے قتل عام کی اطلاعات پہلے ہی یہودی بستی میں پہنچ چکی تھیں۔ تاہم ابھی زیڈ او بی بغاوت کرنے کے لئے تیار نہيں تھی۔ ستمبر میں جلاوطنیاں ختم ہونے کے بعد، زیڈ او بی نے خفیہ سیاسی تنظیموں کے اراکین کو بھی شامل کرلیا اور تربیت، ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد فراہم کرنے والے پولش مزاحمتی گروپوں کے ساتھ روابط قائم کئے۔ مارڈیکائی اینئیلاوچ کو کمانڈر مقرر کر دیا گیا۔

18 سے 21 جنوری 1943
جرمنوں کی طرف سے مزاحمت کا مقابلہ

جرمنوں نے وارسا یہودی بستی سے جلاوطنیاں دوبارہ شروع کردیں۔ تاہم اس بار انہيں زیڈ او بی (یہودی عسکریت پسند تنظیم; زائیڈوسکا آرگنائیزیکجا بوجووا) کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ صبح سویرے کی پکڑ دھکڑ نے زیڈ او بی کو بالکل بوکھلا دیا اور لوگ جرمنوں کی مخالفت کے لئے سڑکوں پر نکل پڑے۔ یہودی بستی کے دوسرے یہودی پہلے سے تیار کردہ پناہ گاہوں میں جا چھپے۔ جرمن، جو اخراج میں کسی رکاوٹ کی توقع نہيں رکھ رہے تھے، اب مزاحمت سے بالکل ہکا بکا رہ گئے۔ انہوں نے 21 جنوری کو مرکزی چوراہے پر ایک ہزار یہودیوں کو قتل کرکے اپنا بدلہ تو لے لیا لیکن مزید جلاوطنیاں معطل کردیں۔ جرمن پانچ سے ساڑھے چھ ہزار یہودیوں کو جلاوطن یا قتل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ مزاحمتی کارروائی کے نتائج سے حوصلہ پا کر یہودی بستی کے یہودیوں نے ایک وسیع بغاوت کی منصوبہ بندی کرنا شروع کردی۔ جنگجو تنظیم متحد ہوگئی، حکمت عملیاں تیار کی گئيں، زیرزمین بنکر اور سرنگیں بنائی گئيں اور چھتوں پر گزرگاہيں تعمیر کی گئيں۔ وارسا کے یہودی بستی کے یہودیوں نے اختتام تک لڑنے کا فیصلہ کیا۔

16 مئی 1943
یہودی بستی کو تباہ کردیا گیا اور بغاوت ختم ہوگئی

لڑائی کے ایک مہینے بعد جرمنوں نے وارسا میں یہودیوں کی جامع عبادت گاہ کو دھماکے سے اڑا کر بغاوت کے اختتام اور یہودی بستی کی تباہی کا اشارہ دے دیا۔ 19 اپریل 1943 کو ایس ایس کے جرنیل جویرگن اسٹروپ کے حکم کے تحت جرمنوں نے یہودی بستی کی آخری تباہی اور باقی یہودیوں کی جلاوطنی شروع کردی۔ تاہم یہودی بستی کے مکین جلاوطنیوں کے لئے حاضر نہ ہوئے۔ اس کے بجائے، یہودی بستی کی جنگجو تنظیموں نے اپنے آپ کو عمارتوں اور بنکروں میں بند کرکے جرمنوں کے خلاف مزاحمت کرنے کی تیاری کررکھی تھی۔ تین دن کے بعد جرمن افواج نے یہودیوں کو اپنے چھپنے کی جگہوں سے باہر نکالنے کے لئے یہودی بستی کی ایک کے بعد ایک عمارت کو آگ لگانی شروع کردی۔ یہودی بستی کو راکھ کا ڈھیر بنانے کے دوران بھی مزاحمت ہفتوں تک جاری رہی۔ جنوری 1943 کی جلاوطنیوں کے بعد یہودی بستی میں صرف پچاس ہزار یہودی باقی رہنے کے باوجود جرنیل اسٹروپ نے یہودی بستی کی تباہ کاری کے نتیجے میں 56065 یہودی کی گرفتاری کی اطلاع دی؛ ان میں سے سات ہزار کو ٹریبلنکا کی قتل گاہ میں جلاوطن کردیا گیا اور باقی کو جبری مزدوری کے کیمپس اور مجدانیک کی قتل گاہ بھیج دیا گيا۔ کچھ مزاحمتی جنگجو یہودی بستی سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے وارسا کے گرد جنگلوں میں حلیف گروہوں میں شمولیت اختیار کرلی۔