A transport of Jewish prisoners marches through the snow from the Bauschovitz train station to Theresienstadt. [LCID: 69720]

مضمون

ہولوکاسٹ اور دوسری جنگ عظیم کے بارے میں مضامین کو حروف تہجی کی فہرست کے حوالے سے براؤز کریں۔ نازیوں کا اقتدار میں آنا، ہولوکاسٹ کیسے اور کیوں ہوا، نازی کیمپوں اور یہودی بستیوں میں زندگی، اور جنگ کے بعد کے عدالتی کیسز جیسے موضوعات کے بارے میں مزید جانیں۔

عنوان کے لیحاظ سے فلٹر کریں:

| "مضمون" کیلئے 76-99 کے 294 تک کے نتائج ڈسپلے کئے جا رہے ہیں |

  • جین کارسکی (Jan Karski)

    مضمون

    جین کارسکی پولینڈ کی جلا وطن حکومت کے لیے ایک انڈرگراؤنڈ کوریئر کا کام کرتے تھے۔ انہوں نے مغربی اتحادیوں کو یورپی یہودیوں کے بڑے پیمانے پر قتل عام کے ثبوت فراہم کیے۔ انہوں نے وارسا یہودی بستی میں نازی مظالم اور یہودیوں کو قتل کرنے والے مراکز میں ملک بدر کر کے لے جانے کے بارے میں…

    جین کارسکی (Jan Karski)
  • حاجی امین الحسینی: عرب قوم پرست اور مسلمان رہنما

    مضمون

    امین الحسینی انیسویں صدی کی آخری دہائی کے دوران یروشلم میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے خاندان کے مرد اراکین اٹھارویں صدی کے اختتام کے بعد سے یروشلم کے مفتی کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ یہ پوزیشن حامل شخص کو اسلامی قانون یعنی (شریعت)، روایت اور عملی نمونہ کی بنیاد پر ایسی قانونی رائے (فتوٰی)جاری…

    حاجی امین الحسینی: عرب قوم پرست اور مسلمان رہنما
  • حاجی امین الحسینی: عرصہ جنگ کا داعی

    مضمون

    محوری قوتوں کے ساتھ اشتراک عملجنگ کے دوران نازی حکومت کو دنیا بھر میں بہت سے رضامند تعاون کار ملے جو خود اپنے سیاسی مقاصد کے حصول اور محوری اثر و رسوخ بڑھانے کیلئے کوشاں تھے۔ بھارتی قوم پرست راہنما سبھاش چندر بوس، شامی باغی گوریلا لیڈر فوزی الکواکجی، سابقہ عراقی وزیر اعظم راشد…

    حاجی امین الحسینی: عرصہ جنگ کا داعی
  • حاجی امین الحسینی: ٹائم لائن

    مضمون

    حاجی امین الحسینی: ٹائم لائن189؟امین محمد الحسینی یروشلم میں پیدا ہوئے۔2 نومبر 1917برطانوی وزیر خارجہ نے بالفور اعلامیہ جاری کیا جس میں فلسطین میں یہودی قومی وطن کے قیام کی اجازت دینے کے برطانوی ارادے کا اعلان کیا گیا۔1918برطانوی افواج نے فلسطین پر قبضہ کیا۔فروری اپریل 1920الحسینی اور…

    حاجی امین الحسینی: ٹائم لائن
  • حاجی امین الحسینی: یروشلم کے مفتی

    مضمون

    حاجی امین الحسینی: یروشلم کے مفتیخلاصہمحمد امین الحسینی (?189-1974) جو 1921 سے 1937 تک فلسطین میں برطانوی مینڈیٹ کے سیاسی اختیار کے ماتحت یروشلم کے مفتی (چیف مسلم اسلامی قانونی مذہبی اتھارٹی) تھے۔ اُن کی بنیادی سیاسی وجوہات درج ذیل تھیں: 1) ایک پین عرب وفاق یا ریاست کا قیام؛ 2) یہودیوں کی…

    حاجی امین الحسینی: یروشلم کے مفتی
  • "حتمی حل"

    مضمون

    "یہودیوں کا حتمی حل" ("Endlösung der Judenfrage") نازیوں کی طرف سے یورپی یہودیوں کا دانستہ اور منظم اجتماعی قتلِ عام تھا۔ یہ 1941 اور 1945 کے درمیان ہوا۔ اس کا، اکثر ” حتمی حل“(“Endlösung”) کے طور پر حوالہ دیا جاتا تھا، اور دیا جاتا ہے۔ "حتمی حل" یورپ کے یہودیوں پر نازیوں کے ظلم و ستم کی المناک انتہا تھی۔…

    "حتمی حل"
  • حتمی حل: قاتلانہ نسلی صفائی 1939-1945

    مضمون

    دوسری جنگ عظیم نے قومی وسائل پر بوجھ سمجھے جانے والے "غیرمطلوبہ افراد" کو قتل کرنے کے نئے پروگراموں کے لئے ایک بہانہ فراہم کردیا. 1920 کی دہائی میں چند ڈاکٹروں اور فانون سازوں کی طرف سے پیش کردہ دلائل کو استعمال کرتے ہوئے نازیوں نے رحمانہ قتل کا لفظ استعمال کرکے قتل کا جواز فراہم کیا…

    حتمی حل: قاتلانہ نسلی صفائی  1939-1945
  • حتمی حل (مقالے کی تلخیص)

    مضمون

    نازیوں نے یہودیوں کو ختم کرنے کے منصوبے کو "حتمی حل" کا نام دیا۔ مجموعی طور پر "فائنل حل" کا مطلب یہ تھا کہ یہودیوں کو پورے یورپ میں گیس سے، گولی سے یا دوسرے کسی بھی ذریعہ سے مار ڈالا جائے۔ ہولوکاسٹ کے دوران تقریبا چھ ملین یہودی مرد، عورتوں اور بچوں کو مار ڈالا گيا -- جو دوسری جنگ عظیم سے…

    حتمی حل (مقالے کی تلخیص)
  • "حتمی حل" کا جائزہ

    مضمون

    نازیوں نے اکثر اپنے جرائم چھپانے کیلئے خوش کلامی کا سہارا لیا۔ اُنہوں نے"حتمی حل" کی اصطلاح استعمال کی جس کا مطلب یہودی لوگوں کو نیست و نابود کرنا تھا۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ نازی جرمنی کے لیڈروں نے "حتمی حل" پر عملررآمد کا یقینی طور پر فیصلہ کب کیا تھا۔ یہودیوں کی نسل کشی یا اجتماعی…

    "حتمی حل" کا جائزہ
  • حیاتیاتی ریاست: نازی نسلی صفائی 1933-1939

    مضمون

    ہٹلر کے نائب روڈولف ھیس کے مطابق نازی ازم کا مطلب "حیاتیات کا اطلاق" تھا۔ تھرڈ رائش یعنی تیسری جرمن سلطنت کے دوران سیاسی انتہا پسندی کے عنصر کے ساتھ نسلی امتیاز پر مبنی سام دشمنی کے حوالے سے سرکاری حکمت عملی وضع کی گئی۔ ہٹلر کی حکومت نے نارڈک نسل کو اپنا آئڈیل قرار دیا اور جرمنی کو ایک…

    حیاتیاتی ریاست: نازی نسلی صفائی  1933-1939
  • خبر نویسی

    مضمون

    پریس کی خود مختاری سے محرومی کے حوالے سے جنگ کے دوران اپنی ڈائری (14 اپریل 1943) میں بیان کرتے ہوئے سابق صحافی جوزف جیوبیل نے لکھا ہے: "کوئی بھی ایسا شخص جس کو ذرا سا بھی عزت کا خیال ہو گا وہ کافی محتاط رہے گا کہ صحافی نہ بن جائے۔"جب ہٹلر 1933 میں اقتدار میں آیا تو جرمنی کے پاس ایک کافی ترقی…

    خبر نویسی
  • دشمن کی پہچان کرنا

    مضمون

    نازی نوجوانوں کے پروگراموں میں فعال ایک جرمن خاتون کی بعد از جنگ ملنے والی یادداشتوں میں لکھا ہے "میں نیشنل سوشلسٹ بن گئی کیونکہ قومی برادری کے تصور نے مجھے متاثر کیا۔ جس بات کا احاس مجھے کبھی نہیں ہوا وہ یہ تھا کہ جرمنوں کی ایک بڑی تعداد کو اس قابل نہ سمجھا گیا کہ اُنہیں اس برادری میں…

    دشمن کی پہچان کرنا
  • دوسری عالمی جنگ میں حلیف اتحاد (مقالے کی تلخیص)

    مضمون

    دوسری جنگ عظیم کے دوران حملہ آور قوتیں دو بڑے اتحادوں میں سے کسی ایک میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ اتحادی قوتوں کے ساتھ لڑیں۔ حلیف یعنی ایکسز قوتوں میں تین بڑے ساتھی جرمنی، اٹلی اور جاپان تھے۔ حلیف قوتوں کے دو مشترک مفادات تھے: 1) علاقائی وسعت حاصل کرنا اور فوجی فتوحات کی بنا پر سلطنتیں…

    دوسری عالمی جنگ میں حلیف اتحاد (مقالے کی تلخیص)
  • جنگِ عظیم دوم ٹائم لائن

    مضمون

    جنگِ عظیم دوم سے پہلے اور اس کے دوران اہم واقعات کی ٹائم لائن دریافت کریں۔ جنگِ عظیم دوم کے تناظر میں یورپ کے یہودیوں کا بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیا گیا۔ جیسے جیسے جرمن فوجیوں نے یورپ، سوویت یونین اور شمالی افریقہ میں زیادہ سے زیادہ علاقوں پر حملہ کیا اور ان پر قبضہ جمایا، حکومت کی…

    جنگِ عظیم دوم ٹائم لائن
  • دی آرڈر پولیس

    مضمون

    ایک دہائی سے بھی کم عرصہ میں نازیوں نے جرمن آرڈر پولیس کو ایک عسکری اور قاتل ادارہ بنا دیا۔ آرڈر پولیس اہلکاروں نے ہولوکاسٹ کے متعدد پہلوؤں کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے یہودی بستیوں کی نگرانی کی، جلاوطنی میں مدد دی، چھپے ہوئے یہودیوں کو تلاش کیا، اور یہودیوں اور دیگر لوگوں کا قتلِ عام…

    دی آرڈر پولیس
  • رحم دلانہ قتل پروگرام اور ایکشن T4

    مضمون

    نازیوں کے رحم دلانہ قتل پروگرام کا مقصد ذہنی اور جسمانی معذور افراد کو قتل کرنا تھا۔ نازیوں کی رائے میں اس سے "آریائی" نسل ان  لوگوں سے پاک ہو جائے گی جو جینیاتی لحاظ سے عیب دار اور معاشرے پر مالی بوجھ سمجھے جاتے ہیں۔

    رحم دلانہ قتل پروگرام اور ایکشن T4
  • روانڈا: نسل کشی کی پہلی سزا

    مضمون

    نیورمبرگ مقدموں کی سماعت کے وقت "نسل کشی" کا کوئی قانونی تصور موجود نہیں تھا۔ 2 ستمبر 1998 کو نسل کشی کی حدود طے کرنے کے بعد روانڈا کیلئے بین الاقوامی کریمنل ٹرائبیونل (اقوام متحدہ کی جانب سے قائم کی جانے والی عدالت) نے ایک انٹرنیشنل ٹرائبیونل کے سامنے مقدمے کی سماعت کے بعد نسل کشی کے…

    روانڈا: نسل کشی کی پہلی سزا
  • "ریاست کے دشمن"

    مضمون

    اگرچہ یہودی نازیوں کی نفرت کا مرکزی نشانہ تھے، ظلم و ستم ان تک محدود نہيں تھا۔ دوسرے افراد اور گروپوں کو "غیرپسندیدہ" اور "ریاست کے دشمن" سمجھا جاتا تھا۔ سیاسی مخالفین کا منہ بند کرنے کے بعد نازیوں نے دیگر"باہر والوں" کے خلاف دہشت گردی میں اضافہ کردیا۔یہودیوں کی طرح روما (خانہ بدوشوں)…

    ٹیگ: روما
    "ریاست کے دشمن"
  • ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ہولوکاسٹ

    مضمون

    امریکیوں کو نازی حکومت کی طرف سے یہودیوں پر روا رکھے جانے والے ظلم و ستم سے متعلق معلومات تک رسائی حاصل تھی، لیکن زیادہ تر لوگ یہ تصور نہیں کر سکتے تھے کہ اُن کے قتل عام کی مہم حقیقت میں ممکن ہو سکتی تھی۔ اگرچہ زیادہ تر امریکیوں کو یورپی یہودیوں کی حالت زار پر اُن سے ہمدردی تھی، پناہ…

    ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ہولوکاسٹ
  • ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ہولوکاسٹ: آشوٹز پر بمباری کیوں نہیں کی گئی

    مضمون

    1944 کے موسم بہار کے دوران حامیوں کو آشوٹز برکناؤ پر گیس کے ذریعے ہونے والے قتلوں کے متعلق مزید واضح معلومات موصول ہوئیں۔ بعض اوقات اس کے گیس چیمبروں میں مارے جانے والوں کی تعداد 10 ہزار تک پہنچ جاتی تھی۔ پریشان ہو کر یہودی تنظیموں نے قتل و غارت ختم کرنے اور یورپ کے باقی یہودیوں کی جان…

    ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ہولوکاسٹ: آشوٹز پر بمباری کیوں نہیں کی گئی
  • ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ہولوکاسٹ: بچانے کی کوششیں

    مضمون

    دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ فیصلہ کن اقداماختیار کرنے میں ناکام رہا، خاص طور پر ہولوکاسٹ کا نشانہ بننے والے افراد کے حوالے سے۔ امریکی حکام نے اپنی بے عملی کا یہ جواز پیش کیا کہ جرمنی پر جنگی فتح ہی قتل و غارت کو روکنے کا بہترین امکان ہے۔ 1942 میں "حتمی حل" کی خبریں عام ہونے کی وجہ سے…

  • ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ہولوکاسٹ: جنگ کے بعد ہولوکاسٹ کے بارے میں امریکی رد عمل

    مضمون

    1945 اور 1951 کے درمیان ہولوکاسٹ کے بعدریاستہائے متحدہ امریکہ (اور اس کے ساتھ برطانیہ) نے جرمنی، آسٹریا، اٹلی اور چیکوسلواکیا کے مقبوضہ علاقوں سے بے دخل ہونے والے دس لاکھ سے زائد افراد کی دیکھ بھال کی۔ اُن کی تعداد 1945 میں اپنی انتہاء کو پہنچی جن میں 250،000 یہودی بھی شامل تھے۔ اقوام متحدہ…

  • ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ہولوکاسٹ (مقالے کی تلخیص)

    مضمون

    دوسری جنگ عظیم کے دوران ، نازیوں کے شکار یہودی اور دوسرے لوگوں کو بچانا امریکی حکومت کی پہلی ترجیح نہیں تھی۔ سام دشمنی (یہودیوں کے خلاف تعصب یا نفرت)، تنہا کر دینے کے اقدام، اقتصادی دباؤ، اور اجنبیوں کے ڈر کی وجہ سے امریکہ کی پالیسی نے پناگزینوں کے لئے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ویزے…

    ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ہولوکاسٹ (مقالے کی تلخیص)
  • زندہ بچنے والے افراد

    مضمون

    زندہ بچنے والے افراد کے لئے ہالوکاسٹ سے قبل والی زندگی جینا ناممکن تھا۔ یورپ کے بیشتر حصے میں یہودی برادریاں باقی نہيں رہیں تھی۔ جب لوگوں نے کیمپوں یا چھپنے کی جگہوں سے اپنے گھروں کو لوٹنے کی کوشش کی۔ ان کو معلوم ہوا کہ بیشتر اوقات ان کے گھروں کو یا تو لوٹا گیا تھا یا ان پر دوسروں نے…

    زندہ بچنے والے افراد

Thank you for supporting our work

We would like to thank Crown Family Philanthropies, Abe and Ida Cooper Foundation, the Claims Conference, EVZ, and BMF for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of donor acknowledgement.