ہولوکاسٹ سے انکار کی ٹائم لائن

ہولوکاسٹ سے انکار سے کیا مراد ہے؟

ہولوکاسٹ تاریخ کے ان واقعات میں شامل ہے جس کے سب سے زيادہ تحریری ثبوت موجود ہيں۔ "ہولوکاسٹ سے انکار" یورپ کے یہودیوں کے نازیوں کے ہاتھوں قتل عام کی مسلمہ حقیقت سے انکار کی کوششوں کا اظہار کرتا ہے۔ انکار کے عام نقاط یہ ہیں؛ دوسری جنگ عظیم کے دوران تقریباً ساٹھ لاکھ یہودیوں کا قتل عام ہوا ہی نہیں تھا؛ نازی یہودیوں کو ختم کرنے کی پالیسی یا ارادہ نہيں رکھتے تھے؛ آشوٹز برکناؤ کے موت کے کیمپ کے زہریلی گیس کے چیمبر کبھی موجود ہی نہيں تھے۔

ایک نیا رجحان ہولوکاسٹ کے حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کرنا ہے۔ ان میں مندرجہ ذیل دعوے عام ہيں: ساٹھ لاکھ سے کہیں کم یہودی مارے گئے تھے؛ حراستی کیمپ میں واقع ہونے والی اموات بیماری یا بھوک کا نتیجہ تھیں نہ کہ پالیسی کا؛ اور این فرینک کی ڈائری جعلی ہے۔

ہولوکاسٹ سے انکار اور اس کے حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کرنے کی عمومی وجہ یہودیوں سے نفرت ہے، اور اس کی بنیاد یہ الزام ہے کہ یہودی مفادات کو آگے بڑھانے کی سازش کے تحت یا تو ہولوکاسٹ ایک من گھڑت کہانی ہے، یا اسے بڑھا چڑھا کر بیان کیا گيا ہے۔ یہ نظریہ یہودیوں پر سازش اور دنیا پر قابض ہونے کا الزام لگا کر طویل عرصے سے قائم سام دشمن تصورات کو ہوا دیتے ہیں۔ یہی وہ نفرت انگیز الزامات تھے جن کا ہولوکاسٹ کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار تھا۔

امریکی آئين میں اظہار خیال کی مکمل آزادی ہے۔ لہذا امریکہ میں ہولوکاسٹ سے انکار کرنا یا سام دشمن نفرت انگیز القاب کا استعمال غیرقانونی نہیں ہے، سواِے اس صورت میں کہ اس کی وجہ سے تشدد کا خطرہ لاحق ہو۔ دیگر کئی ممالک میں، خصوصی طور پر یورپ میں جہاں ہولوکاسٹ واقع ہوا تھا، ہولوکاسٹ سے انکار اور نفرت انگیز القاب کو غیرقانونی قرار دینے والے قوانین موجود ہيں۔

اس ٹائم لائن میں ہولوکاسٹ سے انکار کے کچھ اہم واقعات درج ہيں۔

1942-1944: یورپی یہودیوں کے قتل عام کا ثبوت چھپانے کے لئے جرمن اور ان کا ساتھ دینے والوں نے ایک آپریشن میں، جس کا خفیہ نام Aktion 1005 رکھا گیا، بیلزیک، سوبیبور، اور ٹریبلنکا کے قتل کے مراکز اور جرمن مقبوضہ پولینڈ، سوویت یونین، اور سربیا میں، بشمول بابی یار میں، گولیوں کے ذریعے اجتماعی قتل کے ہزاروں مقامات پر اجتماعی قبروں کے ثبوت تباہ کر دئے۔

1943: پوزنین میں ایس ایس جرنیلوں کو ایک خطاب میں ایس ایس (ژٹز شٹافل; حفاظتی سکواڈرن) رائخ کے سربراہ (ریخزفوہرر) نے یورپی یہودیوں کے اجتماعی قتل کو خفیہ رکھنے اور اس کی تفصیلات کو دستاویزی شکل نہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

1955: ولس کارٹو نے واشنگٹن ڈی سی میں لبرٹی لابی نامی بارسوخ تنظیم قائم کی۔ 2001 میں اس کا دیوالیہ ہونے تک، کارٹو کی سربراہی میں لبرٹی لابی نے "نسلی اعتبار سے خالص" ریاستہائے متحدہ امریکہ کا مطالبہ کیا اور یہودیوں کو امریکہ اور پوری دنیا کے مسائل کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ 1969 میں لبرٹی لابی نے ہولوکاسٹ سے انکار کے متعلق مواد شائع کرنا شروع کیا۔

1959: امریکی کلیسا جرالڈ ایل کے اسمتھ کی سام دشمن کتاب <صلیب اور جھنڈاi> میں یہ دعوی کیا گیا کہ چھ ملین یہودی ہولوکاسٹ میں مارے نہيں گئے بلکہ دوسری جنگ عظیم کے دوران ہجرت کر کے امریکہ چلے گئے۔

1964: نازیوں کی تحویل میں ایک فرانسیسی کمیونسٹ، پال ریسینیر، نے یورپین یہودیوں کا ڈراما شائع کی جس میں اس نے دعوی کیا کہ گیس چیمبر "صیہونی ادارے" کی ایجاد تھے۔

1966-67: امریکی تاریخ دان ہیری ایلمبر بارنس نے لبرٹیرین رسالے ریمپارٹ جرنل میں کئی مضامین چھاپے جن میں دعوی کیا گیا تھا کہ حلیفوں نے ایکسس کی قوتوں کے خلاف جنگ کا جواز پیدا کرنے کے لئے نازیوں کے تشدد کو بڑھا چڑھا کر پیان کیا تھا۔

1969: لبرٹی لابی کی ذیلی کمپنی، نون ٹائڈ پریس نے <چھ ملین کی متھ نامی کتاب شائع کی۔

1973: فلاڈیلفیا کے لاسال یونیورسٹی میں انگریزی ادب کے پروفیسر، آسٹن جے ایپ نے چھ ملین کا دھوکہ: جرمن عوام کو ہارڈ مارکس کیلئے بلیک میل کرنا نامی کتابچہ شا‏ئع کیا۔ بعد میں یہ کتابچہ ہولوکاسٹ سے انکار کرنے والوں کے دعوے کی بنیاد بننے لگا۔

1976: نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں انجنئیرنگ کے پروفیسر آرتھر آر بٹز نے بیسویں صدی کا فریب: یورپی یہودیوں کے مفروضہ قلع قمع کے خلاف ایک مقدمہ شائع کیا۔ بٹز ہولوکاسٹ سے انکار کرنے والا پہلا شخص تھا جس نے اپنے جھوٹ کو چھپانے کے لئے تعلیمی تحقیق کا سہارا لیا۔ اس کے جواب میں نارتھ ویسٹرن نے بٹز کے بیانات کو یونیورسٹی کے لئے "شرمندگی کا باعث" قرار دیا۔

1977: کنیڈا میں رہنے والے ایک جرمن شہری ارنسٹ زنڈل نے سامیسڈیٹ پبلشرز قائم کی، جس میں نازیوں کی حمایت کرنے والا مواد جاری ہونے لگا، جس میں ہولوکاسٹ سے انکار بھی شامل تھا۔ 1985 میں کنیڈا کی حکومت نے زنڈل پر جان بوجھ کر غلط معلومات کی فراہمی کے الزام میں مقدمہ دائر کر دیا۔

1977: ڈیوڈ ارونگ نے ہٹلر کی جنگ شائع کی، جس میں اس نے دعوی کیا کہ ہٹلر نے نہ تو یورپ کے یہودیوں کے قتل عام کا حکم جاری کیا تھا اور نہ ہی وہ نازیوں کی پالیسی کی حمایت کرتا تھا۔ اپنے بیانات کو درست ثابت کرنے کے لئے ارونگ نے تاریخ اور تحقیقی اصولوں کو توڑ موڑ کر بیان کیا ہے۔

1978: ولیم ڈیوڈ میک کالڈن (جو لیوس برانڈن کے نام سے بھی مشہور ہے) اور ویلس کارٹو نے کیلیفورنیا میں تاریخی جائزے کا ادارہ قائم کیا، جو ہولوکاسٹ کے انکار کے متعلق مواد شائع کرتا ہے اور کانفرنسوں کو تعاون فراہم کرتا ہے۔ آئی ایچ آر علم کے جائز حصول کے بہانے سے نفرت انگیز اور نسل پرست پیغامات پھیلاتی ہے۔

1981: فرانسیسی عدالت میں ادب کے پروفیسر رابرٹ فوریسن کو ہولوکاسٹ کو "تاریخی جھوٹ" کا لقب دینے کی وجہ سے نفرت اور امتیاز پر اکسانے کے الزام میں قصور وار قرار دیا گیا۔

1984: کنیڈا کی عدالت نے پبلک اسکول کے استاد جیمز کیگسٹرا کو اپنے سماجی مطالعہ کے طلباء کو ہولوکاسٹ سے انکار اور دوسرے سام دشمن نظریات سکھانے کے لئے "کسی قابل شناخت گروپ کے خلاف جان بوجھ کر نفرت کو فروغ دینے" کے الزام میں قصوروار قرار دے دیا۔

1986: 8 جولائی کو اسرائیلی پارلیمان نے ہولوکاسٹ سے انکار کو جرم قرار دینے کے لئے ایک قانون پاس کیا۔

1987: کیلی فورنیا میں رہنے والے بریڈلی اسمتھ نے ہولوکاسٹ کے متعلق کھلی بحث کے لئے کمیٹی قائم کی۔ 1990 کی دہائی کے شروع میں اسمتھ کی تنظیم نے ایک درجن سے زائد کالج کے اخباروں میں پورے صفحے کے اشتہار یا ایڈیٹوریل "ہولوکاسٹ کی کہانی: کتنی جھوٹی؟ کھلی بحث کا مقدمہ" کی سرخی کے تحت چھاپنا شروع کیا۔ اسمتھ کی مہم کی وجہ سے نفرت انگیزی اور آزادی اظہار کے درمیان فرق ختم ہونے لگا۔

1987: فرانس کی نیشن فرنٹ پارٹی کی سربراہ جین مری لے پین نے گیس چیمبروں کو دوسری جنگ عظیم کی محض "باریکی" قرار دیا۔ لے پین نے 1988 میں فرانس کی صدارت کی مہم میں حصہ لیا اور چوتھی پوزیشن حاصل کی۔

1987: مراکش اور سویڈن نژاد مصنف احمد رامی نے سویڈن سے تعلق رکھنے والے ریڈيو اسلام پر نشریات شروع کیں۔ یہ اسٹیشن ہولوکاسٹ کو صیہونی یا یہودی دعوی قرار دینے لگا۔ اس کے بعد ریڈیو اسلام نے اپنی ویب سائٹ پر دا پروٹوکول آف دی ایلڈرز آف زئنMein Kampf اور دیگر سام دشمن مواد جاری کرنا شروع کیا۔

1988: ارنسٹ زنڈل کی درخواست پر فریڈ لیوختر (جو قتل و غارت ميں خود کو ماہر سمجھتا تھا) آشوٹز کے قتل کے مرکز پر گیا۔ اس کے بعد اس نے لیخٹر رپورٹ: آشوٹز کے مبینہ قتل لے گیس چہمبر کے بارے میں ایک انجینئرنگ رپورٹ، برکیناو اور مجدانیک، پولینڈ جاری کی، جس کا استعمال کر کے ہولوکاسٹ سے انکار کرنے والے اجتماعی قتل و غارت کے لئے گیس کے چیمبروں کے استعمال کے متعلق شک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہيں۔

1990: ایلینوئیس کے پبلک اسکولوں میں ہولوکاسٹ کے متعلق تعلیم کو ضروری قرار دینے والی پہلی ریاست بننے کے بعد، انگبرگ اور سافیٹ سارچ نے اپنی 13 سالہ بیٹی کو اسکول سے ہٹا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کیا۔ ساریچ خاندان نے سرکاری افسران، عالموں، سیاحوں اور ہولوکاسٹ سے زندہ بچنے والوں کو 6 ہزار خطوط بھی ارسال کئے جن میں ہولوکاسٹ کے تاریخی ریکارڈ کو "افواہ" بیان کیا گيا۔

1990: فرانسیسی حکومت نے گیسوٹ قانون جاری کیا، جس کے مطابق انسانیت کے خلاف جرائم (1945 کے لندن چارٹر کے تحت وضح کردہ) کے پیمانے یا حقیقت پر سوالیہ نشان لگانے کو جرم قرار دیا گيا۔ یہ قانونی ہولوکاسٹ کے انکار کو واضح طور پر جرم قرار دینے والا پہلا یورپی قانون تھا۔

1989: سفید فام افراد کو برتر سمجھنے والا ڈیوڈ ڈيوک نے لوئی سیانا کے ریاستی قانون ساز ادارے میں سیٹ جیت لی۔ ڈيوک نے اپنے قانون ساز دفتر نے ہولوکاسٹ کے انکار پر مشتمل مواد فروخت کرنا شروع کر دیا۔

1990: میساچوسیٹس کی ریاست کی طرف سے فریڈ لیوخٹر کے خلاق قانونی کارروائی کے دوران معلوم ہوا کہ لیوخٹر کے پاس نہ تو انجنئرنگ کی ڈگری تھی اور نہ ہی لائسنس۔ لیوختر نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ اس نے حیاتیات، مطالعہ سمیات یا کیمیا میں کسی بھی قسم کی تربیت حاصل نہيں کی، جن میں سے تمام 1988 میں شائع ہونے والے اور ہولوکاسٹ سے انکار کرنے والوں کے دعووں کی بنیاد بننے والیلیخٹر رپورٹ کے دعووں کو ثابت کرنے کے لئے ضروری ہے۔

1990: سویڈن کی عدالت نے احمد رامی کو نفرت انگیزی کے الزام میں چھ ماہ قید کی سزا دی اور ایک سال کے لئے ریڈيو اسلام کا نشریاتی لائسنس منسوخ کر دیا۔

ٹ1991: امریکی تاریخی تنظیم نے، جو کہ تاریخ دانوں کی سب سے پرانی پیشہ ورانہ تنظیم ہے، بیان جاری کیا: "کوئی بھی سنجیدہ تاریخ دان ہولوکاسٹ کی حقیقت کے متعلق سوالیہ نشان نہيں اٹھا سکتا ہے۔"

2000: برطانوی عدالت نے ڈيوڈ ارونگ کو "ہولوکاسٹ کا فعال منکر" قرار دے دیا/ ارونگ نے ایمری یونیورسٹی کی تاریخ دان، ڈیبرا لپسٹیڈٹ، پر 1993 میں چھپنے والی کتاب<ہولوکاسٹ سے انکار: سچائی اور یادداشت پر بڑھتا ہوا حملہ کی اشاعت کے بعد بدنامی کے الزام میں مقدمہ دائر کر دیا۔

2005: دسمبر 14 کو لائیو ٹیلی ویژن میں نشر ہونے والے خطاب کے درمیان ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے ہولوکاسٹ کو "من گھڑت کہانی" قرار دیا۔

2006: ایران کی حکومت نے تہران میں ہولوکاسٹ سے انکار کرنے والوں کی ایک میٹنگ کے ساتھ تعاون کیا، جسے "ریویو آف دا ہولوکاسٹ: گلوبل ویژن" قرار دیا۔

2007: جنوری 26 کو اقوام متحدہ نے ہولوکاسٹ سے انکار کی مزمت کے لئے قرارداد منظور کی۔ جنرل اسمبلی نے اپنے بیان میں کہا کہ انکار "تمام اشکال میں قتل و غارت کی منظوری کے مساوی ہے"

2007: یورپی اتحاد نے ایسے قوانین منظور کر لئے جن کے تحت ہولوکاسٹ سے انکار کی سزا قید تھی۔

2009: انگلینڈ میں پیدا ہونے والے کیتھلک بشپ رچرڈ ولیمسن نے گیس چیمبروں کی موجودگی سے انکار کر کے ہولوکاسٹ کے دوران قتل و غارت میں قابل قدر کمی بتائی۔ بالآخر ویٹیکن نے ولیمسن سے اپنے بیان واپس لینے کی درخواست کی۔

2010: بریڈلی اسمتھ سے فروری میں یونیورسٹی آف وسکنسن کے بیجر ہیرالڈ کی ویب سائٹ پر اپنا پہلا ہولوکاسٹ سے انکار کا اشتہار چھاپا۔ رسائی اور معلومات فراہم کرنے کی آسانی، گم نامی اور اختیار کی وجہ سے انٹرنیٹ ہولوکاسٹ سے انکار کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔