ہولوکاسٹ اور دوسری جنگ عظیم کے بارے میں مضامین کو حروف تہجی کی فہرست کے حوالے سے براؤز کریں۔ نازیوں کا اقتدار میں آنا، ہولوکاسٹ کیسے اور کیوں ہوا، نازی کیمپوں اور یہودی بستیوں میں زندگی، اور جنگ کے بعد کے عدالتی کیسز جیسے موضوعات کے بارے میں مزید جانیں۔
پس منظر ایڈولف ہٹلر نے جرمنی میں 1933 میں اقتدار سنبھالا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور دیگر مغربی جمہوریتوں میں موجود مبصرین نے جلد ہی نازی حکومت کی میزبانی میں منعقد ہونے والے ولمپک کھیلوں کی حمایت کے اخلاقی جواز پر سوالات اٹھانا شروع کر دیئے۔ 1933 میں یہودی کھلاڑیوں پر روا رکھے…
آئن سیٹز گرپن (گشتی قاتل یونٹ) ایسے دستے تھے جو بنیادی طور پر جرمن ایس ایس اور پولیس کے اہلکاروں میں سے بنائے گئے تھے۔ جرمن سیکیورٹی پولیس یعنی سیخر ھائیٹس پولیزی؛ سیپو اور سیکیورٹی سروس سیخر ھائٹس ڈائنسٹ؛ ایس۔ڈی افسروں کی کمان کے تحت آئن سیٹز گرپن کے ذمے دوسرے کاموں کے علاوہ یہ کام…
لفظ آریان ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔ ابتدائی طور پر، یہ لوگوں کے ان گروہوں کا حوالہ دینے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا جو متعلقہ زبانوں کی مختلف اقسام بولتے تھے، جس میں زیادہ تر یورپی اور کئی ایشیائی زبانیں شامل تھیں۔ بہرحال، وقت گزرنے کے ساتھ اس لفظ کے نئے اور مختلف معانی سامنے آئے۔…
جنگ کے آخری مراحل کے دوران سوویت فوجیوں نے حراستی کیمپ کے قیدیوں کو آزاد کرانے میں پہل کی۔ 23 جولائی 1944 کو وہ پولینڈ کے مجدانیک کیمپ میں داخل ہوئے اور پھر اس کے بعد دوسرے کئی قتل کے مراکز پر قبضہ کرلیا۔ 27 جنوری 1945 کو وہ آش وٹز پہنچے اور وہاں انہیں سینکڑوں بیمار اور نڈھال ہوئے قیدی…
جنگ عظیم دوم کے دوران تاجر آسکر شنڈلر نے 1,000 سے زیادہ یہودیوں کو نازی جرمنی کے سب سے بڑے کیمپ کمپلیکس آشوٹز میں جلاوطنی سے بچایا۔
جبری مشقت کے کیمپوں کا کامپلیکس آشوٹز نازی حکومت کا قائم کردہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا کیمپ تھا۔ اِس میں تین مرکزی کیمپ تھے۔ اِن سب کیمپوں میں قیدیوں سے جبری مشقت لی جاتی تھی۔ اِن میں سے ایک کیمپ طویل عرصے تک قتل گاہ کے طور پر بھی استعمال ہوتا رہا۔ یہ کیمپ کراکو کے مغرب میں تقریباً 37…
آپریشن ٹارچ یعنی الجزائر ۔ مراکش مہم 8 نومبر 1942 کو شروع ہوئی اور 11 نومبر 1942 کو ختم ہو گئی۔ یہ مہم امریکی اور برطانوی فوجوں نے امریکی جنرل ڈوائیٹ ڈی۔ آئزن ھاور کی کمان میں شروع کی۔ تین ٹاسک فورسز مراکش کے بحر اوقیانوس کے ساحل پر کیسا بلانکا کے ساحلوں پر، مغربی الجزائر میں اورین کے قریب…
نومبر 1942 میں اتحادی فوجوں کے شمالی افریقہ میں پہنچنے کے باوجود مراکش، الجزائر اور تیونس میں یہودیوں کی صورت حال میں کوئی فوری تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ اتحادیوں کے وہاں پہنچنے کے فوراً بعد الجزائر میں چیف ربی مورس آئزن بیتھ اور الجزائر کی سماجی تعلیم سے متعلق کمیٹی "کومیٹین جوئف…
بہت سے لوگ جنہیں 1930 اور 1940 کی دہائیوں کے دوران مظالم سے محفوظ پناہ کی تلاش تھی، ان کی کوششوں کو امریکہ کے محدود امیگریشن کوٹے اور ویزا کے حصول کے پیچیدہ تقاضوں کی وجہ سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکہ میں رائے عامہ امیگریشن میں اضافے کے حق میں نہیں تھی، جس کے نتیجے میں امیگریشن…
اوراھم ٹوری (1909-2002) نے لیتھوانیا کے کوونو کی یہودی بستی میں یہودی کونسل (جسے Ältestenrat کے نام سے جانا جاتا ہے) میں بطور سیکرٹری خدمات انجام دیں۔ انہوں نے جرمنی کے حملے کے شروعاتی دنوں سے یہودی بستی کے آخری دنوں تک کی روزمرہ کی ڈائری لکھی ہے۔ ٹوری کو لگتا تھا کہ یہودی بستی کے تجربے کو…
اوہرڈرف بوخن والڈ حراستی کیمپ کا ایک ذیلی کیمپ تھا اور یہ پہلا نازی کیمپ تھا جسے امریکی فوجیوں نے آزاد کرایا۔ نازیوں نے یہ کیمپ نومبر 1944 کو جرمنی کے قصبے گوتھا کے قریب قائم کیا تھا۔ اوہرڈرف کیمپ ریلوے کے تعمیراتی کاموں کیلئے جبری مشقت کی خاطر مزدور فراہم کرتا تھا۔ مارچ 1945 کے آخر…
آئن سیٹسگروپن(موبائل قاتل یونٹس) ایس ایس اور پولیس کے عملے پر مشتمل دستوں کو کہا جاتا تھا۔ جون 1941 میں سوویت یونین پر حملے کے دوران، آئن سیٹسگروپن نے جرمن فوج کے پیچھے پیچھے رہے جب وہ سوویت علاقوں میں اندر تک گھستے چلے گئے۔ آئن سیٹسگروپن نے اکثر مقامی شہریوں اور پولیس کی مدد حاصل…
آسکر شنڈلر (1908-1974)موراویہ کے شہر سویٹاوی (زویٹاؤ) میں پیدا ہوئے۔ موراویہ اُس وقت آسٹرو ہنگریرین بادشاہت کا ایک صوبہ تھا۔ شنڈلر نسلی طور پر جرمن اور کیتھولک تھےاور اُنہوں نے دوسری عالمی جنگ کے دوران 1200 کے قریب یہودیوں کو آشوٹز جلاوطن ہونے سے بچایا۔ 1936 میں شنڈلر نے جرمن آفس آف…
آش وٹز جرمنوں کا قائم کردہ سب سے بڑا کیمپ تھا۔ یہ کیمپوں کا ایک کمپلیکس تھا جو حراستی کیمپ، قتل کے مرکز اور جبری مشقت کے کیمپ پر مشتمل تھا۔ یہ کراکاؤ، پولینڈ کے قریب واقع تھا۔ آش وٹز کیمپ کا کمپلیکس تین بڑے کیمپوں پر مشتمل تھا: آش وٹز I، آش وٹز II (برکیناؤ)، اور آش وٹز III ( مونو وٹز)۔…
آشوٹز حراستی کیمپ نازی حکومت کی طرف سے قائم کیا جانے والا سب سے بڑا کمپلکس تھا۔ اس میں تین بنیادی کیمپ شام تھے، جن کے تمام قیدیوں کو جبری مشقت کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ ایک کیمپ قتل کے مرکز کے طور پر بھی کام کرتا تھا۔ اس کمپلکس کی تعمیر مئی 1940 میں پولینڈ سے تقریباً 37 میل مغرب میں…
نازی دہشت گردی کا ایک اہم ہتھیار حفاظتی اسکواڈ (شٹزسٹافیل)، یا ایس ایس، تھا جو ایڈولف ہٹلر اور پارٹی کے دوسرے قائدین کے لئے ایک خصوصی گارڈ کی حیثیت سے شروع ہوا تھا۔ کالی قمیضوں والے ایس ایس کے اراکین نے ایک چھوٹا ایلیٹ گروپ قائم کیا جس کے اراکین نے پہلے ضمنی پولیس اور پھر حراستی کیمپ…
کوونو کی یہودی بستی میں قید کے دوران بہت سے فنکاروں نے پورٹریٹ اور مناظر بنائے اور پینٹ کیے۔ یہاں تک کہ ان سے کوونو میں تعینات جرمن نگرانوں اور دیگر افراد کے لیے فنکاری کے نمونوں کی کاپیاں تیار کرنے کو بھی کہا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے تشدد اور ملک بدری کے مناظر کو عکس بند کرنے کے لیے…
ایلی ویزل۔ آشوٹز سے بچ جانے والے۔ نائیٹ کے مصنف۔ انسانی حقوقِ کے سرگرم کارکن۔ ویزل نے اپنی زندگی دنیا کو ہولوکاسٹ کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے وقف کر دی۔ انہیں 1986 میں امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔
14 جولائی 2004 کو سٹی یونیورسٹی آف یو یارک کے گریجوئیٹ سینٹر میں منعقد ہونے والے دارفور ھنگامی سربراہ اجلاس کے موقع پر دیا جانے والا بیان۔ اِس اجلاس کا اہتمام امریکن جیوئش ورلڈ سروس اور یونائیٹڈ اسٹیٹس ہالوکاسٹ میموریل میوزیم نے کیا تھا۔ سوڈان انسان کے دکھ درد، اذیت اور تکلیف کے…
جنگ عظیم II سے پہلے ایمانوئل رنجلبلم Ringelblum 21 نومبر 1900 کو بوکزاز کے قصبے میں پیدا ہوئے تھے۔ اپنی پیدائش کے وقت، بکزاک آسٹرو ہنگری کی سلطنت میں تھا (جنگ کے دوران یہ پولینڈ میں تھا؛ آج بوچاچ یوکرین میں ہے۔ انہوں نے 1927 میں وارسا یونیورسٹی سے ہسٹری میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ وارسا میں…
این فرینک اُن ایک ملین سے زائد یہودی بچوں میں سے ایک تھیں جو ہالوکاسٹ کے دوران ہلاک کر دئے گئے تھے۔ وہ 12 جون 1929 کو انیلیز میری فرینک Annelies Marie Frank کے نام سے جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد اوٹو Ottoاور والدہ ایڈتھ فرینک Edith Frank تھیں۔ اپنی زندگی کے پہلے پانچ سالوں کے…
این فرینک ہولوکاسٹ میں جاں بحق ہونے والے دس لاکھ سے زائد یہودی بچوں میں سے ایک تھی۔ چھپے رہنے کے دوران این اپنی ڈائری میں اپنے خوف، امیدوں اور تجربات کے متعلق لکھتی رہی۔ خاندان کی گرفتاری کے بعد ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں ملنے والی اس ڈائری کو میپ گیز نامی ایک شخص نے سنبھال کر رکھا ہوا…
1933 اور 1941 کے درمیان نازیوں نے جرمنی کو جوڈین رائن (یہودیوں سے پاک) کرنے کا ارادہ کیا اور اس مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر اُنہوں نے یہودیوں کی زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا تاکہ وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔ 1938 تک تقریباً دیڑھ لاکھ جرمن یہودی یعنی تقریباً پچیس فیصد، ملک سے فرار ہوچکے…
ایڈولف آئخمین ہولوکاسٹ کے دوران یورپ کی یہودی آبادی کی جلاوطنی کے سلسلے میں مرکزی کرداروں میں سے ایک تھا۔ وہ اگرچہ جرمنی میں پیدا ہوا مگر لڑکپن میں ہی آسٹریہ جا بسا۔ 1932 میں آئخمین نے آسٹریہ کی نازی پارٹی اور ایس ایس میں شمولیت اختیار کر لی اور جلد ہی تنظیم کے اندر ترقی کرتا ہوا…
ایڈولف ہٹلر نازیز کے نام سے معروف نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکرز پارٹی کا 1921 سے غیر متنازعہ لیڈر چلا آ رہا تھا۔ 1923 میں جرمن حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش پر اسے گرفتار کرلیا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔ اپنے مقدمے کی وجہ سے اسے شہرت ملی اور اسے لوگوں کی حمایت حاصل ہونا شروع ہوئی۔ اس نے جیل میں…
ایڈولف ہٹلر کی قیادت میں اور اُس کے نسلی امتیاز پر مبنی نظریات کی بنیاد پر نازی حکومت 60 لکھ یہودیوں اور لاکھوں دیگر افراد کے قتل عام کی ذمہ دار ہے۔
ستمبر 1941 کے آخر میں، ایس ایس اور جرمن پولیس یونٹس اور ان کے اتحادیوں نے جنگِ عظیم دوم کے ایک سب سے بڑے قتلِ عام کا ارتکاب کیا۔ یہ یوکرین کے دارالحکومت کیف کے بالکل قریب واقع بابن یار (بابی یار) نامی گھاٹی میں پیش آیا۔
جرمن فوجی حکام نے برجن بیلسن کیمپ 1940 میں برجن اور بیلسن کے چھوٹے قصبوں کے جنوب میں قائم کیا۔ یہ جرمنی کے شہر سیلے کے شمال میں 11 میل دور تھا۔ برجن بیلسن کمپلکس بہت سے کیمپوں پر مشتمل تھا جو اس کے وجود کے دوران مختلف وقتوں میں قائم کئے گئے۔ وہاں تین بنیادی کیمپ تھے: جنگی قیدیوں کا کیمپ،…
نیورمبرگ میں بین الاقوامی فوجی عدالت (آئی ایم ٹی) کے مقدمت کے اختتام کے بعد ایک نئی عدالت کا قیام عمل میں آیا جسے ذیلی نیورمبرگ مقدمات کا نام دیا گیا۔ امریکی جنرل ٹیلفورڈ ٹیلر کو اس عدالت کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ چونکہ آئی ایم ٹی نے پہلے ہی جنگی جرائم، جارحانہ جنگ اور انسانیت کے…
بوخن والڈ اپنے ذیلی کیمپوں سمیت نازیوں کی طرف سے قائم کیا جانے والا سب سے بڑا کیمپ تھا۔ ایس ایس نے بوخن والڈ جولائی 1937 میں جرمنی کے مشرقی وسطی علاقے وائمر سے تقریباً پانچ میل شمال مغرب کی جانب کھولا۔ قیدیوں کو کیمپ کے شمالی حصے ("بنیادی کیمپ) میں رکھا گیا جبکہ محافظوں کی بیرکیں اور…
بوخن ولڈ اپنے کئی ایک چھوٹے چھوٹے کیمپوں کے ساتھ نازیوں کے تشکیل کردہ بڑے عقوبتی کیمپوں میں سے ایک تھا۔ یہ کیمپ ایٹرزبرگ کی شمالی ڈھلوانوں پر ایک جنگلاتی علاقے میں 1937 میں تعمیر کیا گیا۔ ایٹرزبرگ مشرقی وسطی جرمنی میں وائمر کے شمال مغرب میں قریب پانچ میل کی مسافت پر ہے۔ نازیوں کے…
ہالوکاسٹ کے دوران یہودیوں کے قتلِ عام میں اکثر یورپی لوگوں اور اُن کا ساتھ دینے والے دوسرے افراد کی بے حسی کے باوجود ہر یورپی ملک میں انفرادی لوگوں اور مختلف مذہبی پس منظر رکھنے والے افراد نے یہودیوں کی مدد کرنے کیلئے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔ یہودیوں کو بچانے کی اِس کوششوں میں…
کچھ یہودی جرمنی کے مقبوضہ یورپ سے فرار ہو کر یا چھپ کر "حتمی حل" یعنی یورپ کے یہودیوں کو قتل کرنے کے نازی کے منصوبے سے زندہ بچ گئے۔ زيادہ تر غیریہودیوں نے "حتمی حل" میں نہ تو مدد کی اور نہ ہی اس میں مداخلت کی۔ بہت ہی کم افراد ایسے تھے جنہوں نے یہودیوں کو فرار ہونے میں مدد دی۔ یہودیوں کی…
ہولوکوسٹ کے دوران یہودیوں کے قتل میں اکثر یورپی لوگوں اور دوسرے شرکاء کی بے اعتنائی کے باوجود، ہر یورپی ملک میں ہر مذھب سے تعلق رکھنے والے افراد نے یہودیوں کی مدد کرنے کیلئے اپنی جان کو خطرے میں ڈالا۔ بچانے کی یہ کوششیں انفرادی سطح کے ساتھ ساتھ منظم اجتماعی انداز میں بھی چھوٹے اور…
نومبر 1941 میں جرمن حکام نے جنوب مشرقی مقبوضہ پولینڈ کے ایک سابق لیبر کیمپ کے مقام پر ایک قتل گاہ کی تعمیر شروع کی۔ اس دوسرے جرمن قتل کے مرکز بیلزیک نے 17 مارچ 1942 کو کام شروع کر دیا۔ مارچ اور دسمبر 1942 کے دوران جرمنوں نے جنوبی پولینڈ کے ایک گھیٹو (یہودی بستی) سے 4 لاکھ 34 ھزار 5 سو یہودیوں اور…
پس منظر 1942 اور 1944 کے درمیان مغربی بیلو رشیا (بیلاروس) میں فعال بیلسکی حامی گروپ دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی جرمنی کے خلاف سب سے اہم یہودی مزاحمتی کوششوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ اس کے ممبران جرمن اور ان کا ساتھ دینے والوں کے ساتھ لڑائی کرتے تھے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بیلسکی گروپ کے…
آزادی کے بعد، اتحادی قوتیں یہودی بے گھر افراد کو اپنے گھروں کو واپس بھیجنے کے لئے تیار تھیں، لیکن کئی بے گھر افراد نے جانے سے انکار کر دیا، یا واپس جانے سے خوفزدہ تھے۔ 1945 سے 1952 کے درمیان، 250000 یہودی بے گھر افراد جرمنی، آسٹریا، اور اٹلی کے کیمپوں اور شہری مراکز میں رہ رہے تھے۔ ان…
یورپ میں، سام دشمنی، قوم پرستی، نسلی منافرت، اشتراکیت مخالفت اور موقع پرستی نے مل کر مقبوضہ جرمنی کے شہریوں کو یورپی یہودیوں کی ہلاکت کیلئے اور دیگر نازی پالیسیوں میں نازی نظام کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے اُکسایا۔ یہ تعاون نہ صرف "حتمی حل" کو نافذ کرنے بلکہ نازی نظام کے نشانہ بنائے گئے…
لغات میں ”تماشائی" سے مراد ”واقعات کا شاہد“ ہے یعنی ”ایک شخص جو موجود ہوتا ہے لیکن جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے اس میں حصہ نہیں لیتا ہے۔“
جبکہ ایک طرف مردانہ ہم جنس پرستی کو ضابطہ فوجداری کے پیراگراف نمبر 175 کے تحت وائمر جرمنی میں غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے، دوسری طرف جرمن ہم جنس پرستوں کے حقوق کے سرگرم کارکن ہم جنس پرستی کی مذمت کرنے والے سماجی رویوں کو ٹھیک کرنے کی کوششوں کی بدولت دنیا بھر میں اس میدان کے راہنماؤں کی…
نازیوں کے اقتدار میں آنے کے نتیجے میں جمہوریہ وائمار کا خاتمہ ہوا۔ یہ جمہوریہ ایک پارلیمانی حکومت تھی جو پہلی عالمی جنگ کے بعد جرمنی میں قائم ہوئی۔ 30 جنوری 1933 میں اڈولف ہٹلر کے چانسلر بننے کے بعد نازی ریاست (جسے تھرڈ ریخ یعنی تیسرے دور کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے) بہت جلد ایک ایسی…
1933 میں نازی وزیر برائے مقبول روشن خیالی اور پراپیگينڈا جوزف گوئبیلز نے ثقافت کی ہم آہنگی کے اقدامات شروع کئے جن کے تحت مختلف فنون کو نازی مقاصد کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ حکومت نے ثقافتی تنظیموں سے یہودیوں اور سیاسی یا فنی طور پر مشکوک افراد کو الگ کردیا۔ برلن میں کتابیں جلانے کی ایک…
تھیریسئن شٹٹ کیمپ کی یہودی بستی 24 نومبر 1941 سے 9 مئی 1945 کے درمیان ساڑھے تین برس تک قائم رہی۔ اس کے قیام کے دوران تھیریسئن شٹٹ کے تین مقاصد تھے: 1۔ پہلے تھیریسئن شٹٹ ان چیک یہودیوں کے لئے ٹرانزٹ کیمپ کے طور پر استعمال کیا گیا جنہیں جرمنوں نے جلاوطن کر کے مقبوضہ پولینڈ، بیلاروس اور بالٹک…
نازیوں کے اقتدار سنبھالنے سے پہلی جنگ عظیم کے بعد جرمنی میں قائم ہونے والی پارلیمانی جمہوریت وائمر رپبلک ختم ہو گئی۔ 30 جنوری، 1933 کو ایڈولف ہٹلر کے چانسلر بننے کے بعد نازی ریاست (جسے تیسری سلطنت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) بہت تیزی سے ایک ایسی حکومت بن گئی جہاں جرمن لوگوں کے بنیادی…
تیونس کی مہم 5 جنوری 1943 کو سفیکس کے قریب مشرقی تیونس میں اتحادیوں کی بری اور بحری افواج کی آمد اور 17 مارچ 1943 کو مغربی وسط تیونس کے مقام گیفسا کی جرمن پوزیشنوں پر حملے سے شروع ہوئی۔ 4 فروری 1943 کو برطانیہ کی آٹھویں فوج لیبیا کی جانب سے سرحد عبور کر کے تیونس میں داخل ہوئی۔ جرمن جنرل ایرون…
جارج کادش (1910-1997) نے خفیہ طور پر لتھوانیا میں کوونو کی یہودی بستی میں زندگی کو دستاویزی شکل دی۔ یہ نتائج ہولوکاسٹ کے دور میں یہودی بستی کی زندگی کے سب سے اہم فوٹوگرافی ریکارڈز میں سے ایک ہیں۔
جائزہجان (آئيوان) ڈیمجن جک کی پیدائش یوکرین میں ہوئی تھی، اور ان کے خلاف نازی حکومت کا ساتھ دینے سے متعلق جرائم کی وجہ سے چار مختلف عدالتی مقدمے دائر کئے گئے۔ ڈیمجن جک کے ہولوکاسٹ کے زمانے کے ماضی کی تحقیقات 1975 میں شروع ہوگئیں۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ہونے والی قانونی کارروائی کی…
جانوس کورزاک ایک معروف ڈاکٹر اور مصنف تھے جنہوں نے 1911 سے 1942 تک وارسا میں ایک یہودی یتیم خانہ چلایا۔ جانوس کورزاک اور ان کا عملہ اپنے بچوں کے ساتھ ہی رہے یہاں تک کہ جرمن حکام نے ان سبھی کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے اگست 1942 میں ٹریبلنکا بھیج دیا۔
جرمنی کے مقبوضہ علاقوں میں نازیوں نے یہودی مزدوروں کو بے رحم قتل کا نشانہ بنایا۔ یہودی مزدوروں کے ساتھ ذلت آمیز سلوک بھی کیا گیا۔ مثال کے طور پر ایس ایس کے آدمیوں نے مذہبی یہودیوں کی داڑھیاں منڈوائيں۔ یہودی بستیاں اور مقبوضہ پولینڈ میں یہودیوں کے جبری مشقت کے کیمپ یہودی مزدوری سے…
نازیوں نے لاکھوں لوگوں (یہودی اور غیریہودی دونوں گروپوں) کو وحشیانہ حالات میں جبری مشقت پر معمور کیا۔ 1933 کے موسم سرما میں نازی عقوبتی کیمپوں اور قید خانے کی اولین تنصیبات کے قیام ہی سے جبری مشقت عقوبتی کیمپوں کے نظام کا بنیادی خاصہ رہا ہے۔ یہ جبری مشقت اکثر بےمعنی اور ذلت آمیز ہوتی…
We would like to thank Crown Family Philanthropies, Abe and Ida Cooper Foundation, the Claims Conference, EVZ, and BMF for supporting the ongoing work to create content and resources for the Holocaust Encyclopedia. View the list of donor acknowledgement.